<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 03:11:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 03:11:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا وائرس: برطانیہ کا کم آمدنی والے ملازمین کو تنخواہ دینے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1123036/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی حکومت نے عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے ملازمتوں پر نہ جانے والے ملازمین کو تنخواہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;a href="https://www.bbc.com/news/business-51982005"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے  مطابق چانسلر رشی سینک نے بتایا کہ حکومت ملازمین کو ان کی تنخواہ کا 80 فیصد ادا کرے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ملازمین جو ماہانہ ڈھائی ہزارپاؤنڈز تک کمارہے تھے انہیں حکومتی فیصلے سے فائدہ ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122819"&gt;کورونا وائرس کا خطرہ اور 100 سالہ برطانوی شخص کی شادی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ اس غیرمعمولی اقدام سے بے روزگاری نہیں بڑھے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی وجہ سے متعدد ہوٹلز اور کھانے پینے والی جہگیں بند ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے کاروبار پر منفی 
اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومتی پیکج ان اداروں کو دیا جائے گا جہاں مالکان نے کورونا وائرس کی وجہ سے اپنے ملازمین کو نکال دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کی اپنے کاموں پر واپسی ضروری ہے اور انہیں ہی پیکج فراہم کیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122490"&gt;برطانیہ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک ہزار 500 سے تجاوز کر گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چانسلر نے بتایا کہ حکومتی اقدام کی بدولت لوگ اپنی ملازمتیں بچاسکیں گے، ہم جانتے ہیں کہ لوگ اپنی ملازمتوں کی وجہ سے بہت پریشان ہیں کیونکہ مورگیج سمیت دیگر بلز کی 
ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ برطانیہ میں 21 مارچ تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی 4 ہزار سے تجاوز کرگئی تھی اور جن میں 173 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا بھر میں 21 مارچ کی شام تک کورونا وائرس کے 2 لاکھ 75 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد تقریباً ساڑھے 11 ہزار تک جا پہنچی ہے تاہم 90 ہزار کے قریب مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زیادہ تر افراد میں کورونا وائرس کی صرف معمولی سے معتدل علامات ظاہر ہوتی ہیں مثلاً کھانسی، بخار وغیرہ لیکن کچھ افراد بالخصوص ضعیفوں اور پہلے سے صحت کے مسائل کا شکار افراد اس سے شدید بیمار ہوسکتے ہیں جس میں نمونیہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی حکومت نے عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے ملازمتوں پر نہ جانے والے ملازمین کو تنخواہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ </p>

<p>بی بی سی کی <a href="https://www.bbc.com/news/business-51982005"><strong>رپورٹ</strong></a> کے  مطابق چانسلر رشی سینک نے بتایا کہ حکومت ملازمین کو ان کی تنخواہ کا 80 فیصد ادا کرے گی۔ </p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ملازمین جو ماہانہ ڈھائی ہزارپاؤنڈز تک کمارہے تھے انہیں حکومتی فیصلے سے فائدہ ہوگا۔ </p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122819">کورونا وائرس کا خطرہ اور 100 سالہ برطانوی شخص کی شادی</a></strong></p>

<p>علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ اس غیرمعمولی اقدام سے بے روزگاری نہیں بڑھے گی۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی وجہ سے متعدد ہوٹلز اور کھانے پینے والی جہگیں بند ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے کاروبار پر منفی 
اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ </p>

<p>انہوں نے بتایا کہ حکومتی پیکج ان اداروں کو دیا جائے گا جہاں مالکان نے کورونا وائرس کی وجہ سے اپنے ملازمین کو نکال دیا۔ </p>

<p>علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کی اپنے کاموں پر واپسی ضروری ہے اور انہیں ہی پیکج فراہم کیا جائے گا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122490">برطانیہ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک ہزار 500 سے تجاوز کر گئی</a></strong></p>

<p>چانسلر نے بتایا کہ حکومتی اقدام کی بدولت لوگ اپنی ملازمتیں بچاسکیں گے، ہم جانتے ہیں کہ لوگ اپنی ملازمتوں کی وجہ سے بہت پریشان ہیں کیونکہ مورگیج سمیت دیگر بلز کی 
ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ </p>

<p>واضح رہے کہ برطانیہ میں 21 مارچ تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی 4 ہزار سے تجاوز کرگئی تھی اور جن میں 173 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>

<p>دنیا بھر میں 21 مارچ کی شام تک کورونا وائرس کے 2 لاکھ 75 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد تقریباً ساڑھے 11 ہزار تک جا پہنچی ہے تاہم 90 ہزار کے قریب مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔</p>

<p>زیادہ تر افراد میں کورونا وائرس کی صرف معمولی سے معتدل علامات ظاہر ہوتی ہیں مثلاً کھانسی، بخار وغیرہ لیکن کچھ افراد بالخصوص ضعیفوں اور پہلے سے صحت کے مسائل کا شکار افراد اس سے شدید بیمار ہوسکتے ہیں جس میں نمونیہ بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1123036</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Mar 2020 17:09:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/03/5e75e6f133e0e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/03/5e75e6f133e0e.jpg"/>
        <media:title>ان کا کہنا تھا کہ اس غیرمعمولی اقدام سے بے روزگاری نہیں بڑھے گی
— تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
