<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:45:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:45:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیٹ پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہ کیا جائے، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1123194/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کورونا پر قائم نیشنل کوارڈینشن کمیٹی کے فوکل پرسن خط لکھا ہے کہ ملک میں  لاک ڈاون کے دوران لوگوں کا رابطہ صرف ٹیلی فونک اور انٹرنیٹ سے ہی ممکن ہے اس لیے ان سروسز کومستثنیٰ قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مراسلے میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کا کاروبار اور ایک دوسرے سے رابطے کا ذریعہ بحال رہنا چاہے، تمام بڑے شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون رابطوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت تمام امور کا انحصار ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ پر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کی سروسز پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہ کیا جائے اور تمام ٹیلی کام آپریٹرز کی فرنچائزز اور سروس سینٹر کھلے رکھے جائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فوکل پرسن کے نام خط میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ موبائل کارڈز اور ایزی لوڈ کی دکانوں کو بھی کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے اسی طرح کال سینٹرز اور ڈیٹا سینٹرز کو بھی استثنی دی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مراسلے کے مطابق ٹیلی فون ایکسچینج اور ایم ایس سیز، آپٹیکل فائیبر، زیر سمندر کیبل نیٹ ورکس کے دفاتر پر بھی لاک ڈاؤن کا اطلاق نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کورونا پر قائم نیشنل کوارڈینشن کمیٹی کے فوکل پرسن خط لکھا ہے کہ ملک میں  لاک ڈاون کے دوران لوگوں کا رابطہ صرف ٹیلی فونک اور انٹرنیٹ سے ہی ممکن ہے اس لیے ان سروسز کومستثنیٰ قرار دیا جائے۔</p>

<p>مراسلے میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کا کاروبار اور ایک دوسرے سے رابطے کا ذریعہ بحال رہنا چاہے، تمام بڑے شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون رابطوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت تمام امور کا انحصار ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ پر ہے۔</p>

<p>مزید کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کی سروسز پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہ کیا جائے اور تمام ٹیلی کام آپریٹرز کی فرنچائزز اور سروس سینٹر کھلے رکھے جائیں۔</p>

<p>فوکل پرسن کے نام خط میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ موبائل کارڈز اور ایزی لوڈ کی دکانوں کو بھی کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے اسی طرح کال سینٹرز اور ڈیٹا سینٹرز کو بھی استثنی دی جائے۔</p>

<p>مراسلے کے مطابق ٹیلی فون ایکسچینج اور ایم ایس سیز، آپٹیکل فائیبر، زیر سمندر کیبل نیٹ ورکس کے دفاتر پر بھی لاک ڈاؤن کا اطلاق نہ کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1123194</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Mar 2020 21:53:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید حسین)</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
