<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:06:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:06:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم، ڈالر 166 روپے پر آگیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1123953/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام دیکھا گیا اور ڈالر کی قیمت 166 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق جمعے کی صبح مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 167 روپے تھی جو انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر 166 روپے پر آگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123727/"&gt;روپے کی قدر میں کمی کی خبر کے اسٹاک مارکیٹ پر برے اثرات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح کے اسٹیٹ بینک کی مداخلت سے قبل جمعے کے روز ڈالر کی قیمت 169.5 روپے تک پہنچ چکی تھی، جو ایک ریکارڈ ہے، جس کے بعد مرکزی بینک نے مقامی کرنسی کو مدد فراہم کرنے کے لیے مداخلت کی جس کے بعد یہ کاروبار کے پہلے حصے کے اختتام پر 165 روپے پر آگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیرس مارکس کی تجزیہ کار ایمان خان کا کہنا تھا کہ ‘اسٹیٹ بینک نے مبینہ طور پر اس وقت مداخلت کی جب ڈالر 170 روپے کی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ گیا، ڈالر سب سے زیادہ 169.5 پر فروخت ہوا اور مرکزی بینک کی مداخلت کے بعد یہ 164.75 کی سطح پر آگیا اور پہلے سیشن کے اختتام پر یہ 165.50 کی سطح پر تھا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہاٹ منی کی وجہ سے آج دباؤ کم تھا، جس کے بعد ہم نے بہاؤ میں کمی آتے ہوئے دیکھی جس کے بعد ڈالر 162 سے 165 روپے کے درمیان فروخت ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہاٹ منی کا بہاؤ جو رواں ماہ میں 1.5 ارب ڈالر کی حد عبور کرگیا تھا 26 مارچ کو 2 کروڑ 15 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو اس سے قبل 7 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ اسی طرح کا تجزیہ ای سی اے پی کے سابق جنرل سیکریٹری ظفر پراچا کی جانب سے بھی دیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ مرکزی بین نے اس وقت مداخلت کی جب ڈالر کی قیمت 170 روپے کے قریب پہنچ چکی تھی اور اس مداخلت نے اسے 164 روپے پر پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے مداخلت کے لیے استعمال کی جانے والی سرمایہ کاری اب تک معلوم نہیں ہوسکی، اس حوالے سے ظفر پراچا کا کہنا تھا کہ ‘مداخلت کے لیے مرکزی بینک کی جانب سے 15 کروڑ ڈالر یا اس سے کم سرمائے کا استعمال کیا گیا ہوگا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ابھی واضح طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا یہ سب مفروضے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123738/"&gt;انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 167 روپے تک پہنچ گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈالر 165.5 روپے پر فروخت ہوا جو گزشتہ روز کے 166.1 روپے کے مقابلے میں 60 پیسے کم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ملک میں جاری مجموعی صورتحال کا اثر معاشی طور پر بھی نظر آرہا ہے اور گزشتہ روز مسلسل دوسرے روز روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمعرات کی دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 4 روپے 50 پیسہ اضافہ دیکھا گیا اور یہ 167 روپے تک پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فراہم کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ ایک روز قبل روپے کے مقابلے میں ڈالر 159 سے بڑھ کر 161 روپے 60 پیسے تک پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام دیکھا گیا اور ڈالر کی قیمت 166 روپے ہوگئی۔</p>

<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق جمعے کی صبح مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 167 روپے تھی جو انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر 166 روپے پر آگئی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123727/">روپے کی قدر میں کمی کی خبر کے اسٹاک مارکیٹ پر برے اثرات</a></strong></p>

<p>واضح کے اسٹیٹ بینک کی مداخلت سے قبل جمعے کے روز ڈالر کی قیمت 169.5 روپے تک پہنچ چکی تھی، جو ایک ریکارڈ ہے، جس کے بعد مرکزی بینک نے مقامی کرنسی کو مدد فراہم کرنے کے لیے مداخلت کی جس کے بعد یہ کاروبار کے پہلے حصے کے اختتام پر 165 روپے پر آگیا۔</p>

<p>ٹیرس مارکس کی تجزیہ کار ایمان خان کا کہنا تھا کہ ‘اسٹیٹ بینک نے مبینہ طور پر اس وقت مداخلت کی جب ڈالر 170 روپے کی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ گیا، ڈالر سب سے زیادہ 169.5 پر فروخت ہوا اور مرکزی بینک کی مداخلت کے بعد یہ 164.75 کی سطح پر آگیا اور پہلے سیشن کے اختتام پر یہ 165.50 کی سطح پر تھا’۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہاٹ منی کی وجہ سے آج دباؤ کم تھا، جس کے بعد ہم نے بہاؤ میں کمی آتے ہوئے دیکھی جس کے بعد ڈالر 162 سے 165 روپے کے درمیان فروخت ہوا۔</p>

<p>ہاٹ منی کا بہاؤ جو رواں ماہ میں 1.5 ارب ڈالر کی حد عبور کرگیا تھا 26 مارچ کو 2 کروڑ 15 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو اس سے قبل 7 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھا۔</p>

<p>کچھ اسی طرح کا تجزیہ ای سی اے پی کے سابق جنرل سیکریٹری ظفر پراچا کی جانب سے بھی دیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ مرکزی بین نے اس وقت مداخلت کی جب ڈالر کی قیمت 170 روپے کے قریب پہنچ چکی تھی اور اس مداخلت نے اسے 164 روپے پر پہنچا دیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے مداخلت کے لیے استعمال کی جانے والی سرمایہ کاری اب تک معلوم نہیں ہوسکی، اس حوالے سے ظفر پراچا کا کہنا تھا کہ ‘مداخلت کے لیے مرکزی بینک کی جانب سے 15 کروڑ ڈالر یا اس سے کم سرمائے کا استعمال کیا گیا ہوگا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ابھی واضح طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا یہ سب مفروضے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123738/">انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 167 روپے تک پہنچ گئی</a></strong></p>

<p>دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈالر 165.5 روپے پر فروخت ہوا جو گزشتہ روز کے 166.1 روپے کے مقابلے میں 60 پیسے کم ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ ملک میں جاری مجموعی صورتحال کا اثر معاشی طور پر بھی نظر آرہا ہے اور گزشتہ روز مسلسل دوسرے روز روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔</p>

<p>جمعرات کی دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 4 روپے 50 پیسہ اضافہ دیکھا گیا اور یہ 167 روپے تک پہنچ گیا تھا۔</p>

<p>اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فراہم کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ ایک روز قبل روپے کے مقابلے میں ڈالر 159 سے بڑھ کر 161 روپے 60 پیسے تک پہنچ گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1123953</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2020 23:28:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مطاہر خانویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/03/5e7e3e7a3cf5e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/03/5e7e3e7a3cf5e.jpg"/>
        <media:title>تجزیہ کار کے مطابق ڈالر کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے مرکزی بینک نے مداخلت کی — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
