<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:24:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:24:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی رکن پارلیمان کے مسلمانوں کیخلاف متعصبانہ بیان پر عمران خان کی تنقید
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1124924/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمان سبرامانیا سوامی کو متعصبانہ بیان پر شدید تنقید کا سامنا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمان، ان حقوق کے مستحق نہیں جو ملک میں رہنے والے دیگر افراد کے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے وائس نیوز کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں جب بی جے پی کے رکن پارلیمان سے بھارت کے متنازع شہریت قانون کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اسلامی نظریات کی وجہ سے جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں ہمیشہ مسائل ہوتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/vicenews/status/1245413627504414720"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اگر (کسی ملک میں) مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہوجائے تو وہ ملک خطرے میں ہے جس پر صحافی آئیزوبیل یینگ نے نشاندہی کی کہ ان کا بیان نفرت انگیز معلوم ہورہا ہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اسے نفرت کہنا آسان ہے لیکن میں انہیں بھارت میں داخل نہ ہونے دینے کا کہہ کر رحم دلی کا مظاہرہ کررہا ہوں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111095"&gt;بی جے پی کے نفرت انگیز منصوبے اور خراب ہوتی صورتحال&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہیں جب کہا گیا کہ بھارت کے آئین کی دفعہ 14 بھارت کے تمام شہریوں کے لیے برابر حقوق یقینی بناتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مذکورہ دفعہ کی غلط تشریح ہے اور کہا کہ ’قانون برابر کی سطح کے لوگوں کے لیے برابری کے حقوق یقینی بناتا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر صحافی نے سوال کیا کہ ’کیا تمام لوگ برابر نہیں؟ بھارت میں مسلمان برابر نہیں؟‘ تو رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ ’نہیں تمام لوگ برابر نہیں، مسلمان برابری کے زمرے میں نہیں آتے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ مکمل انٹرویو اتوار کے روز نشر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1245953397888634880"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے وائس نیوز کی اس ویڈیو کلپ کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی قیادت کھلے عام مسلمان کے خلاف ایسے بات کررہی ہے جس طرح نازی یہودیوں کے بارے میں کیا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/AliHZaidiPTI/status/1245747715948130305"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی حیدر زیدی نے بھی اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے سبرامانیا سوامی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ بالکل فاشسٹ اور نسل پرست کے زمرے میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120510"&gt;'مسلمانوں سے نفرت ہی حکمران جماعت بی جے پی کا مقصد اور زندگی ہے'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی جے پی رہنما کی جن افراد نے مذمت کی ان میں معاشی تجزیہ نگار اور مصنف سلمان انیس سوز بھی شامل ہیں جن کا کہنا تھا کہ ’سوامی ایک تلخ آدمی ہے اور اپنی ہی غلاظت میں لتھڑا ہوا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/SalmanSoz/status/1245908296852258823"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ’دی کاروان‘ کے ایڈیٹر ونود کے جوزف کا کہنا تھا کہ شہریت قانون، دہلی فسادات اور کورونا وائرس کی وجہ سے غریبوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت ’اس حکمرانی کا عملی مظاہرہ بھارت میں جاری ہے؟‘&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/vinodjose/status/1245715571439620096"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سبرامانیا سوامی متعدد مرتبہ متنازع شہریت قانون کا دفاع کرچکے ہیں اور اس سے قبل انہوں نے کانگریس رہنما سونیا گاندھی کو یہ کہنے پر ’حقیقی نازی‘ کہا تھا جس میں سونیا گاندھی نے نئے شہریت قانون کو  بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سونیا گاندھی کی جانب سے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال پر تنقید کرنے پر بھارتی رکن پارلیمان نے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ’نازی فوجی کی بیٹی حقیقی نازی ہے جو اس جھوٹ پر بغاوت کررہی ہے کہ شہریت قانون مسلمان مخالف ہے، اگر آپ ہندووں کی حمایت کرنے والے ہیں تو آپ لازمی طور پر مسلمان مخالف ہوں گے، اور اگر مسلمانوں کی حمایت کرنے والے ہیں تو آپ سیکولر ہوں گے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120255"&gt;دہلی الیکشن: ’جے شری رام‘ کے سیاسی نعرے کو ’جے بجرنگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ بھی سبرامانیا سوامی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ شہریت قانون سے بھارتی مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی اخبار ’دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بنگلور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’بہت سے افراد شہریت قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں لیکن انہوں نے مسودہ نہیں پڑھا، میرے خیال میں کانگریس کے زیادہ تر افراد لکھنا پڑھنا نہیں جانتے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’یہ بل کس بارے میں ہے؟ جو لوگ اپنے مذہب کی وجہ سے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت آئے وہ اب بھی غیر قانونی پناہ گزین ہیں، نہ تو ان کو نوکری ملتی ہے نہ ان کے پاس دستاویزات ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی جے پی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ’70 سالوں سے کانگریس انہیں شہریت دینے کی بات کررہی ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا، ہماری مسلمان اقلیت شہریت قانون کی وجہ سے متاثر نہیں ہوں گی کیوں کہ مسلمان پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے مذہب کی وجہ سے نہیں آئے، مسلمان اس فہرست میں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122184"&gt;دہلی فسادات میں بھارتی پولیس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا، امریکی اخبار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب بھارت میں متنازع شہریت قانون پر پرتشدد فسادات جاری تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فروری کے مہینے میں ہونے والے فسادات سے 50 افراد ہلاک ہوئے اور شواہد سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شہر کی پولیس ’اجتماعی طور پر مسلمانوں کے خلاف‘ اور ہندو ہجوم کی مدد کررہی تھی جو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمان سبرامانیا سوامی کو متعصبانہ بیان پر شدید تنقید کا سامنا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمان، ان حقوق کے مستحق نہیں جو ملک میں رہنے والے دیگر افراد کے ہیں۔</p>

<p>امریکی نشریاتی ادارے وائس نیوز کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں جب بی جے پی کے رکن پارلیمان سے بھارت کے متنازع شہریت قانون کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اسلامی نظریات کی وجہ سے جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں ہمیشہ مسائل ہوتے ہیں‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/vicenews/status/1245413627504414720"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’اگر (کسی ملک میں) مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہوجائے تو وہ ملک خطرے میں ہے جس پر صحافی آئیزوبیل یینگ نے نشاندہی کی کہ ان کا بیان نفرت انگیز معلوم ہورہا ہے'۔</p>

<p>جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اسے نفرت کہنا آسان ہے لیکن میں انہیں بھارت میں داخل نہ ہونے دینے کا کہہ کر رحم دلی کا مظاہرہ کررہا ہوں‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111095">بی جے پی کے نفرت انگیز منصوبے اور خراب ہوتی صورتحال</a></strong></p>

<p>انہیں جب کہا گیا کہ بھارت کے آئین کی دفعہ 14 بھارت کے تمام شہریوں کے لیے برابر حقوق یقینی بناتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مذکورہ دفعہ کی غلط تشریح ہے اور کہا کہ ’قانون برابر کی سطح کے لوگوں کے لیے برابری کے حقوق یقینی بناتا ہے‘۔</p>

<p>جس پر صحافی نے سوال کیا کہ ’کیا تمام لوگ برابر نہیں؟ بھارت میں مسلمان برابر نہیں؟‘ تو رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ ’نہیں تمام لوگ برابر نہیں، مسلمان برابری کے زمرے میں نہیں آتے‘۔</p>

<p>مذکورہ مکمل انٹرویو اتوار کے روز نشر کیا جائے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1245953397888634880"></a>
            </blockquote></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">۔</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے وائس نیوز کی اس ویڈیو کلپ کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی قیادت کھلے عام مسلمان کے خلاف ایسے بات کررہی ہے جس طرح نازی یہودیوں کے بارے میں کیا کرتے تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/AliHZaidiPTI/status/1245747715948130305"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی حیدر زیدی نے بھی اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے سبرامانیا سوامی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ بالکل فاشسٹ اور نسل پرست کے زمرے میں آتے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120510">'مسلمانوں سے نفرت ہی حکمران جماعت بی جے پی کا مقصد اور زندگی ہے'</a></strong> </p>

<p>بی جے پی رہنما کی جن افراد نے مذمت کی ان میں معاشی تجزیہ نگار اور مصنف سلمان انیس سوز بھی شامل ہیں جن کا کہنا تھا کہ ’سوامی ایک تلخ آدمی ہے اور اپنی ہی غلاظت میں لتھڑا ہوا ہے‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/SalmanSoz/status/1245908296852258823"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>علاوہ ازیں ’دی کاروان‘ کے ایڈیٹر ونود کے جوزف کا کہنا تھا کہ شہریت قانون، دہلی فسادات اور کورونا وائرس کی وجہ سے غریبوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت ’اس حکمرانی کا عملی مظاہرہ بھارت میں جاری ہے؟‘</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/vinodjose/status/1245715571439620096"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ سبرامانیا سوامی متعدد مرتبہ متنازع شہریت قانون کا دفاع کرچکے ہیں اور اس سے قبل انہوں نے کانگریس رہنما سونیا گاندھی کو یہ کہنے پر ’حقیقی نازی‘ کہا تھا جس میں سونیا گاندھی نے نئے شہریت قانون کو  بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا تھا۔</p>

<p>سونیا گاندھی کی جانب سے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال پر تنقید کرنے پر بھارتی رکن پارلیمان نے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ’نازی فوجی کی بیٹی حقیقی نازی ہے جو اس جھوٹ پر بغاوت کررہی ہے کہ شہریت قانون مسلمان مخالف ہے، اگر آپ ہندووں کی حمایت کرنے والے ہیں تو آپ لازمی طور پر مسلمان مخالف ہوں گے، اور اگر مسلمانوں کی حمایت کرنے والے ہیں تو آپ سیکولر ہوں گے‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120255">دہلی الیکشن: ’جے شری رام‘ کے سیاسی نعرے کو ’جے بجرنگ</a></strong></p>

<p>اس کے علاوہ بھی سبرامانیا سوامی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ شہریت قانون سے بھارتی مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔</p>

<p>بھارتی اخبار ’دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بنگلور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’بہت سے افراد شہریت قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں لیکن انہوں نے مسودہ نہیں پڑھا، میرے خیال میں کانگریس کے زیادہ تر افراد لکھنا پڑھنا نہیں جانتے‘۔</p>

<p>انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’یہ بل کس بارے میں ہے؟ جو لوگ اپنے مذہب کی وجہ سے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت آئے وہ اب بھی غیر قانونی پناہ گزین ہیں، نہ تو ان کو نوکری ملتی ہے نہ ان کے پاس دستاویزات ہیں‘۔</p>

<p>بی جے پی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ’70 سالوں سے کانگریس انہیں شہریت دینے کی بات کررہی ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا، ہماری مسلمان اقلیت شہریت قانون کی وجہ سے متاثر نہیں ہوں گی کیوں کہ مسلمان پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے مذہب کی وجہ سے نہیں آئے، مسلمان اس فہرست میں شامل نہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122184">دہلی فسادات میں بھارتی پولیس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا، امریکی اخبار</a></strong> </p>

<p>خیال رہے کہ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب بھارت میں متنازع شہریت قانون پر پرتشدد فسادات جاری تھے۔</p>

<p>نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فروری کے مہینے میں ہونے والے فسادات سے 50 افراد ہلاک ہوئے اور شواہد سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شہر کی پولیس ’اجتماعی طور پر مسلمانوں کے خلاف‘ اور ہندو ہجوم کی مدد کررہی تھی جو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1124924</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2020 18:01:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5e870719dbab6.jpg?r=1943923671" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5e870719dbab6.jpg?r=965643514"/>
        <media:title>رکن پارلیمان سبرامانیا سوامی کو متعصبانہ بیان پر شدید تنقید کا سامنا ہے—تصویر: دی نیو انڈین ایکسپریس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
