<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:28:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:28:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او آئی سی کی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 'سفاکانہ' ڈومیسائل قانون کی مذمت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1125160/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے انسانی حقوق کے ذیلی ادارے نے بھارتی حکومت کے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1124738"&gt;نئے ڈومیسائل قانون&lt;/a&gt; 'جموں و کشمیر تنظیم نو آرڈر 2020' کو غیر قانونی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت نے یکم اپریل کو ایک گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت جموں و کشمیر میں 15 سال سے مقیم فرد اپنے ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جموں و کشمیر سول سروسز ایکٹ میں واضح کیا گیا کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقہ کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کرچکا ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا اور امتحان دیے ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 35 'اے' میں شہری سے متعلق تعریف درج تھی کہ وہ ہی شخص ڈومیسائل کا مستحق ہوگا جو مقبوضہ علاقے میں ریلیف اینڈ ری ہیبیلٹیشن (بحالی) کمشنر کے پاس بطور تارکین وطن رجسٹرڈ ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1125072"&gt;احتجاج کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر ڈومیسائل قانون میں ترمیم کردی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے ٹوئٹ میں کہا کہ وہ اس نئے قانون کے نفاذ کی مذمت کرتا ہے جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی اور جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/OIC_IPHRC/status/1246079569859432448"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیشن نے اسے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور او آئی سی کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیم، بھارت سے 'سفاکانہ قوانین' منسوخ کرنے اور خطے میں اس کی انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/OIC_IPHRC/status/1246079930175295494"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی بھارت کے اس &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1124857"&gt;&lt;strong&gt;قانون کی مذمت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ ہم اہلِ کشمیر کے ساتھ یک زباں ہوکر مقبوضہ جموں اور کشمیر میں آبادی کے تناسب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تازہ ترین بھارتی کوشش &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1124781"&gt;&lt;strong&gt;مسترد&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حالیہ غیر قانونی اقدام کا تو وقت بھی قابل مذمت ہے کیونکہ مودی سرکار نے دنیا کی کورونا وائرس پر مرکوز توجہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہندو بالادستی کے ایجنڈے (ہندوتوا) کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1124781"&gt;پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت کے نئے 'غیر قانونی' ڈومیسائل قانون کو مسترد کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتہ کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جاری کیے گئے نئے ڈومیسائل قانون میں ترمیم کرتے ہوئے مقامی افراد کو تمام عہدوں کی نوکریوں کے لیے اہل قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کی سیاسی اور اپوزیشن جماعتوں نے یکم اپریل کو جاری کیے گئے اس اعلامیے پر شدید احتجاج کیا تھا جس پر حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لینے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے انسانی حقوق کے ذیلی ادارے نے بھارتی حکومت کے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1124738">نئے ڈومیسائل قانون</a> 'جموں و کشمیر تنظیم نو آرڈر 2020' کو غیر قانونی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔</p>

<p>بھارت نے یکم اپریل کو ایک گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت جموں و کشمیر میں 15 سال سے مقیم فرد اپنے ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکے گا۔</p>

<p>جموں و کشمیر سول سروسز ایکٹ میں واضح کیا گیا کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقہ کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کرچکا ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا اور امتحان دیے ہوں۔</p>

<p>اس سے قبل جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 35 'اے' میں شہری سے متعلق تعریف درج تھی کہ وہ ہی شخص ڈومیسائل کا مستحق ہوگا جو مقبوضہ علاقے میں ریلیف اینڈ ری ہیبیلٹیشن (بحالی) کمشنر کے پاس بطور تارکین وطن رجسٹرڈ ہو۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1125072">احتجاج کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر ڈومیسائل قانون میں ترمیم کردی</a></strong></p>

<p>او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے ٹوئٹ میں کہا کہ وہ اس نئے قانون کے نفاذ کی مذمت کرتا ہے جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی اور جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/OIC_IPHRC/status/1246079569859432448"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کمیشن نے اسے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور او آئی سی کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیم، بھارت سے 'سفاکانہ قوانین' منسوخ کرنے اور خطے میں اس کی انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/OIC_IPHRC/status/1246079930175295494"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی بھارت کے اس <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1124857"><strong>قانون کی مذمت</strong></a> کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔</p>

<p>انہوں نے کہا تھا کہ ہم اہلِ کشمیر کے ساتھ یک زباں ہوکر مقبوضہ جموں اور کشمیر میں آبادی کے تناسب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تازہ ترین بھارتی کوشش <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1124781"><strong>مسترد</strong></a> کرتے ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ حالیہ غیر قانونی اقدام کا تو وقت بھی قابل مذمت ہے کیونکہ مودی سرکار نے دنیا کی کورونا وائرس پر مرکوز توجہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہندو بالادستی کے ایجنڈے (ہندوتوا) کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1124781">پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت کے نئے 'غیر قانونی' ڈومیسائل قانون کو مسترد کردیا</a></strong> </p>

<p>ہفتہ کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جاری کیے گئے نئے ڈومیسائل قانون میں ترمیم کرتے ہوئے مقامی افراد کو تمام عہدوں کی نوکریوں کے لیے اہل قرار دے دیا ہے۔</p>

<p>بھارت کی سیاسی اور اپوزیشن جماعتوں نے یکم اپریل کو جاری کیے گئے اس اعلامیے پر شدید احتجاج کیا تھا جس پر حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لینے کا اعلان کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1125160</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2020 22:19:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5e88be39b2fdd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5e88be39b2fdd.jpg"/>
        <media:title>بین الاقوامی تنظیم، بھارت سے 'سفاکانہ قوانین' منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، آئی پی ایچ آر سی — فائل فوٹو / اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
