<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:11:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:11:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’حکومت سے ٹیکس ریفنڈ تنخواہوں کی ادائیگی میں استعمال کرنے کا معاہدہ نہیں ہوا‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1125753/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: جب سے لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا ہے ٹیکس ریفنڈ ادائیگیوں میں تیزی آگئی تھی اور اس میں مزید اضافہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی برطرفیوں کے حل کے بغیر صنعتوں کی مدد کے لیے اعلان کردہ ریلیف پیکج سے ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1547693/no-deal-with-govt-on-tax-refunds-for-pay-rolls-say-industry-leaders"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ٹیکس عہدیداران کا کہنا تھا کہ وہ ایک کھرب روپے کی ادائیگی اپریل کے اواخر تک مکمل کرنے پر کام کررہے جس کا وزیراعظم نے اس وعدے پر اعلان کیا تھا کہ وصول کنندہ اس رقم کو اپنے پے رول (تنخواہوں کی ادائیگی) میں استعمال کریں گے اور شٹ ڈاؤن کے دورن کسی ورکر کو نکالا نہیں جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس حوالے سے کوئی وضاحت موجود نہیں کہ حکومت کس طرح اس بات کو یقینی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے کہ وصول کنندہ اپنے وعدہ پر کاربند رہیں، درحقیقت کچھ کیسز میں یہ واضح بھی نہیں کہ کیا صنعتوں کے مالکان نے اس قسم کا وعدہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123027"&gt;یہ بھی پڑھیں: برآمد کنندگان کو رواں ماہ ریفنڈز کی ادائیگی ہوجائے گی، عبدالحفیظ شیخ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے فنڈز کے اجرا کے وقت بھی ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ کام وزارت تجارت کی جانب سے برآمد کنندگان کو ڈرا بیکس آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) کے تحت ادائیگیوں کے وقت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ڈان کو بتایا کہ کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی میں ریفنڈ کی ادائیگیوں کو ملازمین کی ادائیگیوں کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان سے جب پوچھا گیا کہ حکومت کس طرح اس پر عمل کروانے یا اس کی نگران کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو انہوں نے یہ سوال محکمہ تجارت سے پوچھنے کا کہا کہ عبدالرزاق داؤد وہ شخص ہیں جو حکومت کے فیصلے پر عملدرآمد کے بارے میں وضاحت دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109628"&gt;ایف بی آر:سیلز ٹیکس ریٹرنز کی نگرانی کیلئے سوفٹ ویئر کا افتتاح&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم متعدد مرتبہ رابطہ کیے جانے کے باوجود نہ تو مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور نہ ہی سیکریٹری تجارت احمد نواز سکھیرا سے بات ہوسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ سیلز ٹیکس کی مد میں 19 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ روپے، انکم ٹیکس کی مد میں ایک ارب 50 کروڑ 80 لاکھ روپے اور کسٹم ریبیٹ کی مد میں 58 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے تھے اور ایف بی آر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ رقم اپریل میں ملازمین کو تنخواہوں اور دہاڑی دار مزدوروں کی اجرت کی ادائیگی کے لیے دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے چیئرمین زبیر موتی والا نے ڈان کو بتایا کہ صنعتوں کا حکومت کے ساتھ فنڈز کے استعمال کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117320"&gt;ٹیکس چوری کیلئے جعلی انوائسز استعمال کرنے والا گروہ بےنقاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارا پیسہ ہے، صنعتیں اس کو اپنی ترجیحات کے لحاظ سے استعمال کریں گی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم 4 چیزوں میں یعنی بینک کے واجبات، یوٹیلیٹی بلز، خام مال کی سپلائیرز اور اجرت کی ادائیگی کے لیے استعمال کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: جب سے لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا ہے ٹیکس ریفنڈ ادائیگیوں میں تیزی آگئی تھی اور اس میں مزید اضافہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی برطرفیوں کے حل کے بغیر صنعتوں کی مدد کے لیے اعلان کردہ ریلیف پیکج سے ہوا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1547693/no-deal-with-govt-on-tax-refunds-for-pay-rolls-say-industry-leaders">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ٹیکس عہدیداران کا کہنا تھا کہ وہ ایک کھرب روپے کی ادائیگی اپریل کے اواخر تک مکمل کرنے پر کام کررہے جس کا وزیراعظم نے اس وعدے پر اعلان کیا تھا کہ وصول کنندہ اس رقم کو اپنے پے رول (تنخواہوں کی ادائیگی) میں استعمال کریں گے اور شٹ ڈاؤن کے دورن کسی ورکر کو نکالا نہیں جائے گا۔</p>

<p>تاہم اس حوالے سے کوئی وضاحت موجود نہیں کہ حکومت کس طرح اس بات کو یقینی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے کہ وصول کنندہ اپنے وعدہ پر کاربند رہیں، درحقیقت کچھ کیسز میں یہ واضح بھی نہیں کہ کیا صنعتوں کے مالکان نے اس قسم کا وعدہ کیا تھا۔</p>

<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123027">یہ بھی پڑھیں: برآمد کنندگان کو رواں ماہ ریفنڈز کی ادائیگی ہوجائے گی، عبدالحفیظ شیخ</a></strong></p>

<p>دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے فنڈز کے اجرا کے وقت بھی ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ کام وزارت تجارت کی جانب سے برآمد کنندگان کو ڈرا بیکس آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) کے تحت ادائیگیوں کے وقت کیا گیا۔</p>

<p>اس سلسلے میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ڈان کو بتایا کہ کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی میں ریفنڈ کی ادائیگیوں کو ملازمین کی ادائیگیوں کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>ان سے جب پوچھا گیا کہ حکومت کس طرح اس پر عمل کروانے یا اس کی نگران کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو انہوں نے یہ سوال محکمہ تجارت سے پوچھنے کا کہا کہ عبدالرزاق داؤد وہ شخص ہیں جو حکومت کے فیصلے پر عملدرآمد کے بارے میں وضاحت دے سکتے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109628">ایف بی آر:سیلز ٹیکس ریٹرنز کی نگرانی کیلئے سوفٹ ویئر کا افتتاح</a></strong></p>

<p>تاہم متعدد مرتبہ رابطہ کیے جانے کے باوجود نہ تو مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور نہ ہی سیکریٹری تجارت احمد نواز سکھیرا سے بات ہوسکی۔</p>

<p>واضح رہے کہ سیلز ٹیکس کی مد میں 19 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ روپے، انکم ٹیکس کی مد میں ایک ارب 50 کروڑ 80 لاکھ روپے اور کسٹم ریبیٹ کی مد میں 58 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے تھے اور ایف بی آر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ رقم اپریل میں ملازمین کو تنخواہوں اور دہاڑی دار مزدوروں کی اجرت کی ادائیگی کے لیے دی گئی۔</p>

<p>دوسری جانب کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے چیئرمین زبیر موتی والا نے ڈان کو بتایا کہ صنعتوں کا حکومت کے ساتھ فنڈز کے استعمال کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117320">ٹیکس چوری کیلئے جعلی انوائسز استعمال کرنے والا گروہ بےنقاب</a></strong> </p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارا پیسہ ہے، صنعتیں اس کو اپنی ترجیحات کے لحاظ سے استعمال کریں گی‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم 4 چیزوں میں یعنی بینک کے واجبات، یوٹیلیٹی بلز، خام مال کی سپلائیرز اور اجرت کی ادائیگی کے لیے استعمال کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1125753</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2020 17:55:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5e8ecb677984f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5e8ecb677984f.jpg"/>
        <media:title>سیلز ٹیکس کی مد میں 19 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ روپے ریفنڈ کیے گئے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
