<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:25:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:25:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی سیاحت پر کورونا بحران کے بڑھتے سائے اور خدشات
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1125957/</link>
      <description>&lt;h1 id='5e91d8da8682b'&gt;پاکستانی سیاحت پر کورونا بحران کے بڑھتے سائے&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/2535"&gt;عظمت اکبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بے شک اللہ نے انسان کے لیے اس کائنات میں بے پناہ نعمتیں، سہولتیں اور وسائل رکھے ہوئے ہیں۔ نوع انسانی کی فطرت، عادت اور پسند کو خالقِ کائنات سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ کسی کے دل کو لبھانے کے لیے بلند و بالا پہاڑ تو کسی کی لطف اندوزی کے لیے محوِ رقص سمندر بنائے، کہیں صحرا کو پُراسرار خوبصورتی بخشی تو کہیں جنگلوں کو حیاتی تنوع سے سرشار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انسانی زندگی میں بدلتے موسموں کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔ کسی کو سردیاں پسند ہیں تو کوئی گرمیوں کا شیدائی ہے۔ شاید ہی اس زمین پر کوئی شخص ایسا ہو جسے بہار کا موسم اور اس کے رنگ پسند نہیں ہوں۔ بہار کا موسم جہاں اپنے اندر فرحت بخش تازگی لے کر آتا ہے وہیں سیاحت کے شوقین لوگوں میں خوبصورت نظارے دیکھنے کی خواہش کو جنم دیتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b4e8508bf.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b4e8508bf.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b4e8508bf.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b4e8508bf.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بہار پوری دنیا کے سیاحوں کا پسندیدہ موسم ہے &amp;mdash;تصویر چوہدری عمر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بہار پوری دنیا کے سیاحوں کا پسندیدہ موسم ہے —تصویر چوہدری عمر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر افسوس اس بات کا ہے کہ رواں سال موسمِ بہار تو آیا ہے لیکن کورونا نامی ایک ایسا مہلک جراثیم سیاحت کے شوقینوں کی دیوانگی پر غالب آگیا ہے کہ جس میں بے احتیاطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت دنیا کے کئی ممالک بشمول پاکستان میں بہار کے رنگ ہر سوں پھیلے نظر آرہے ہیں لیکن ان رنگوں کو دیکھنے سے سیاح تو درکنار مقامی لوگ بھی قاصر ہیں۔  &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b3998cb.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b3998cb.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b3998cb.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b3998cb.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اس وقت شمالی علاقہ جات سمیت ملک بھر کی خوبصورت وادیوں میں بہار کا موسم اپنے جوبن پر ہے&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اس وقت شمالی علاقہ جات سمیت ملک بھر کی خوبصورت وادیوں میں بہار کا موسم اپنے جوبن پر ہے— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			 &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے جہاں دنیا کے تمام کاروبار بند کردیے ہیں وہیں عالمی سیاحت کو بھی بُری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ برج خلیفہ سے لے کر ایفل ٹاور اور ترکی کی مشہور نیلی مسجد سے رومانوی شہر وینس سمیت تمام سیاحتی مقامات پر اس وقت سناٹا چھایا ہوا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90c6876dc58.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90c6876dc58.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90c6876dc58.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90c6876dc58.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="دنیا بھر کے سیاحتی مقامات جہاں پر سیاحوں کا رش دیدنی ہوتا تھا، آج کل ان مقامات پر سناٹا چھایا ہوا ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دنیا بھر کے سیاحتی مقامات جہاں پر سیاحوں کا رش دیدنی ہوتا تھا، آج کل ان مقامات پر سناٹا چھایا ہوا ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			 &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سیاحت فورم انسٹیٹیوٹ کے سربراہ بلت بیگسی نے بتایا ہے کہ عالمی شعبہ سیاحت کو کورونا وائرس سے ایک کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ اس وائرس کے پھیلنے کی رفتار اور سیاحتی شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات پر زور دیتے ہوئے بلت بیگسی نے مزید بتایا کہ اس شعبے میں کام کرنے والے 5 کروڑ افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4e725c.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b4e725c.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b4e725c.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4e725c.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="عالمی سیاحت کے شعبے کو کورونا وائرس سے ایک کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا  پڑا ہے&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;عالمی سیاحت کے شعبے کو کورونا وائرس سے ایک کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا  پڑا ہے— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیاحت سے سالانہ اپنی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ حاصل کرنے والے امریکا، متحدہ عرب امارات، اٹلی، اسپین، فرانس، جنوبی کوریا، جاپان، چین، ہانک کانگ، تھائی لینڈ، ترکی، ملائشیا سمیت دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں اس وقت لاک ڈاؤن ہے۔ جس کی وجہ سے سیاحت کے شعبے پر دیرپا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاریخ میں اس سے پہلے سیاحت کے شعبے پر اس قدر بُرا بحران کبھی نہیں آیا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر وبا پر قابو پالیا گیا تو بھی شعبہ سیاحت کی بحالی آسان نہیں ہوگی اور اس کا اثر سیاحت سے منسلک 60 سے زائد کاروباری شعبوں پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e9184060ace6.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e9184060ace6.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e9184060ace6.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e9184060ace6.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اگر کورونا کی وبا پر قابو پالیا گیا تو بھی شعبہ سیاحت کی بحالی آسان نہیں ہوگی&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اگر کورونا کی وبا پر قابو پالیا گیا تو بھی شعبہ سیاحت کی بحالی آسان نہیں ہوگی— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں شعبہ سیاحت اگرچہ اکثر و بیشتر دہشت گردی کے واقعات، قدرتی آفات اور ملکی سیاست کی رسہ کشی و دیگر کئی وجوہات کے باعث مختلف صورتوں میں متاثر رہا ہے مگر گزشتہ 3 سے 4 سالوں سے ملک میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال، قدرتی آفات میں کمی، سوشل میڈیا پر عوام میں آگاہی اور حکومتی توجہ سے سیاحت کی صنعت میں بہت بہتری آئی اور یہ شعبہ بھی ملکی جی ڈی پی میں 80 کروڑ روپے سے زائد کا حصہ ڈالنے کے قابل ہوگیا تھا اور توقع کی جارہی تھی کہ 2025ء تک یہ رقم ایک کھرب تک پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں مئی سے اگست تک کے سیاحتی سیزن کے لیے غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ و ریزرویشن کا عمل مارچ تک مکمل ہوجاتا ہے مگر اس بار کورونا ایمرجنسی کی وجہ سے اب تک غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ نہ ہونے کے برابر ہے اور جو پہلے ہی ہوچکی تھی، اب وہ بھی منسوخ ہورہی ہیں۔ پاکستانی پہاڑ سر کرنے والے کوہ پیماؤں اور سیر سپاٹے کے لیے آنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق اٹلی، جرمنی، اسپین، پولینڈ، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے مذکورہ ممالک ہی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e91860d75a9b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e91860d75a9b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e91860d75a9b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e91860d75a9b.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مئی سے اگست تک ملک کے شمالی علاقوں میں سیاحوں کا رش نظر آتا ہے&amp;mdash; تصویر عظت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مئی سے اگست تک ملک کے شمالی علاقوں میں سیاحوں کا رش نظر آتا ہے— تصویر عظت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سیاحوں کی ہر سال 50 سے زائد ایکسپڈیشن (کوہِ پیمائی مہمات) ہوتی ہیں تاہم رواں برس ان کی منسوخی کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ ان مہمات کی منسوخی سے اسکردو، ہنزہ، شمشال، نلتر، چترال کے مقامی گائیڈز، پورٹرز (قُلی) اور جیپ ڈرائیور بُری طرح متاثر ہوں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیاحتی خدمات فراہم کرنے والی ویب سائٹ فائنڈ مائی ایڈوینچر کے بانی کومیل احمد کے مطابق 2 ہزار 865 خاندان ان غیر ملکی مہمات کے نہ ہونے کی وجہ سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4c1ce7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b4c1ce7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b4c1ce7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4c1ce7.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اکثر غیر ملکی سیاحوں کا تعلق اٹلی، جرمنی، اسپین، پولینڈ، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہے&amp;mdash; تصویر  عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اکثر غیر ملکی سیاحوں کا تعلق اٹلی، جرمنی، اسپین، پولینڈ، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہے— تصویر  عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			 &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشہور کوہِ پیما اور متعدد کتب کے مصنف محمد عبدہ اور آل پاکستان ٹؤر آپریٹرز ایسوسی ایشن کے صدر حمزہ خالد کے مطابق موجودہ صورتحال سے گرمیوں کا سیزن بھی متاثر ہوگا۔ غیرملکی سیاحوں کی آمد تو درکنار مقامی سیاح بھی نکلنے سے گریز کریں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کورونا وائرس کے موجودہ بحران میں سیاحت سے منسلک مندرجہ ذیل شعبہ جات و کاروبار بُری طرح متاثر ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5e91d8da86846'&gt;ایئر لائن کی صنعت&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;ایئر لائن کی صنعت کو اس وقت پوری دنیا میں 50 ارب ڈالر سے زائد مالی نقصان ہوچکا ہے اور سال کے آخر تک اس نقصان کا تخمینہ کئی گنا زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی عمرہ و حج کی ممکنہ بندش اور دیگر ممالک کی پروازوں کی معطلی سے ایئر لائن کی صنعت بُری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کو اب تک 4 ارب کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوں مستقبل قریب میں پی آئی اے کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے امکانات محدود ہوتے نظر آرہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b09ede4.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b09ede4.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b09ede4.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b09ede4.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ایئر لائن کی صنعت کو اس وقت پوری دنیا میں 50 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایئر لائن کی صنعت کو اس وقت پوری دنیا میں 50 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5e91d8da8685d'&gt;ٹریول ایجنسیاں&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں لاکھوں افراد ٹریول ایجنسی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ایئر لائن آپریشن کی اچانک بندش سے یہ کاروباری طبقہ اربوں روپے ٹکٹس کی ریفنڈ کے سلسلے میں ائیر لائن کے پاس پھنسا چکے ہیں۔ جبکہ عمرہ، حج، ایران اور عراق کے مقدس مقامات کی زیارت، بین الاقوامی سیر وسیاحت پر پابندی اس کاروبار سے وابستہ افراد کو بدترین مالی بحران کا شکار بناسکتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b333654.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b333654.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b333654.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b333654.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ٹریول ایجنٹوں کی ایک بڑی تعداد غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں &amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ٹریول ایجنٹوں کی ایک بڑی تعداد غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں —تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5e91d8da86870'&gt;ٹؤر آپریٹرز&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں اس وقت آل پاکستان ٹؤر آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ 70 ٹؤر آپریٹر، پاکستان ایسوی ایشن آف ٹؤر آپریٹرز کے ساتھ تقریباً 100، آل پاکستان ٹؤر آپریٹرز کے ساتھ 400 ٹؤر آپریٹرز رجسٹر شدہ ہیں جبکہ غیر رجسٹر شدہ آپریٹرز کی تعداد بھی لگ بھگ اتنی ہی بنتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان ٹؤر آپریٹرز میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جنہوں نے ملکی سیاحت کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھتے ہوئے ایک یا 2 سال پہلے ہی اس شعبے میں قدم رکھا تھا۔ عام حالات میں گرمیوں کے سیزن سے آپریٹروں کو اتنا منافع ہوجاتا ہے کہ سال بھر کے اخراجات پورے ہوجاتے لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے اگر گرمیوں کا سیزن متاثر ہوتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان اس شعبے میں نئے آنے والے نوجوان کاروباری طبقے کو اٹھانا پڑے گا اور عین ممکن ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اس کام کو شاید چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں، اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو سیاحت کے شعبے میں آنے والے تمام افراد کی یقیناً حوصلہ شکنی ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b29a4a7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b29a4a7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b29a4a7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b29a4a7.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سب سے زیادہ نقصان نئے ٹؤر آپریٹروں کو اٹھانا پڑے گا &amp;mdash;تصویر حمزہ خالد" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سب سے زیادہ نقصان نئے ٹؤر آپریٹروں کو اٹھانا پڑے گا —تصویر حمزہ خالد&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			 &lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5e91d8da86884'&gt;ہوٹل کی صنعت&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;شمالی علاقہ جات کے تقریباً 70 فیصد لوگوں کا روزگار ملکی سیاحت پر منحصر ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد ہوٹلنگ کے مختلف کاموں سے وابستہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اسکردو میں تقریباً 200، ہنزہ میں 350، گلگت بلتستان کے مختلف سیاحتی مقامات پر 150، وادئ سوات میں 400، وادئ نیلم میں 50 اور وادئ ناران میں 500 سے زیادہ ہوٹل بہار کے اس خوبصورت موسم میں بند پڑے ہوئے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ موجودہ صورتحال میں ان ہوٹلوں سے وابستہ ہزاروں خاندان مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدور کے مطابق موجودہ حالات کا اثر نہ صرف ان ہوٹلوں میں کم تنخواہ پر کام کرنے والے بیرے، خاکروب، باورچی اور دیگر عملے پر پڑے گا بلکہ سالانہ بنیاد پر لیز پر لینے والے اور بینکوں سے قرضہ لینے والے ہوٹل مالکان کو بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5afa4517.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5afa4517.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5afa4517.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5afa4517.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ناران کا ایک ہوٹل&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ناران کا ایک ہوٹل— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5e91d8da86896'&gt;ٹرانسپورٹ&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;چونکہ سیاحت کے شعبے میں ٹرانسپورٹ کا کردار کلیدی ہوتا ہے مگر پاکستان میں سیاحت نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں بہت کم لوگ ہی اپنا سرمایہ لگانے کا رسک لے رہے تھے۔ لیکن گزشتہ 3 یا 4 سالوں میں پاکستان میں سیاحت کو جتنا فروغ ملا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اس شعبے پر ہونے والی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بعض افراد نے تو لیز پر اور کچھ نے سرمایہ کاروں سے ماہانہ بنیاد پر چھوٹی بڑی گاڑیاں حاصل کرلی تھیں۔ موجودہ صورتحال میں اس شعبے میں نئے آنے والے افراد کے ساتھ ساتھ پرانے ٹرانسپورٹروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5af52290.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5af52290.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5af52290.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5af52290.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کچھ افراد نے لیز پر اور بعض نے انویسٹرز سے ماہانہ بنیاد پر گاڑیاں حاصل کرلی تھیں&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کچھ افراد نے لیز پر اور بعض نے انویسٹرز سے ماہانہ بنیاد پر گاڑیاں حاصل کرلی تھیں— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			 &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی سطح پر دیوسائی، نلتر، ہوشے، سیف الملوک، شوگران، سری پایہ، رتی گلی، فیری میڈوز اور مہوڈنڈ جھیل میں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے والی جیپوں کے ہزاروں ڈرائیوروں کے لیے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنا نہایت کٹھن ہوجائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b13eb3e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b13eb3e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b13eb3e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b13eb3e.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="موجودہ حالات میں مختلف سیاحتی مقامات پر فور بائی فور جیپوں کے ڈرائیور بھی پریشانی میں مبتلا ہیں&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;موجودہ حالات میں مختلف سیاحتی مقامات پر فور بائی فور جیپوں کے ڈرائیور بھی پریشانی میں مبتلا ہیں—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5e91d8da868a9'&gt;پورٹر اور گائیڈ&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;کے ٹو، مشبرم، براڈ پیک، نانگا پربت، راکا پوشی اور دیگر بلند چوٹیوں پر غیر ملکی و ملکی سیاحوں کو پہنچانے میں مدد اور رہنمائی فراہم کرنے والے ایسے مقامی گائیڈ اور پورٹروں یا قلیوں کی ایک بڑی تعداد شمالی علاقہ جات میں مقیم ہے جن کا گزر بسر اسی کام پر منحصر ہے۔ پاکستانی سیاحت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے سب سے زیادہ شاید یہی لوگ متاثر ہوں گے۔  &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4c1594.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b4c1594.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b4c1594.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4c1594.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سیاحتی بحران سے پورٹرز اور گائیڈ سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں&amp;mdash; تصویر عبید الرحمٰن" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سیاحتی بحران سے پورٹرز اور گائیڈ سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں— تصویر عبید الرحمٰن&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5e91d8da868ba'&gt;ٹراؤٹ فشریز&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;شمالی علاقہ جات بشمول سوات و وادئ کاغان میں ٹراؤٹ مچھلی فارموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد کا انحصار بھی سیاحت کے شعبے پر ہوتا ہے۔ اب جبکہ سیاحت کم ہوگی تو اس کی کھپت میں بھی کمی ہوگی اور یوں جن جن افراد کا روزگار اس سے وابستہ تھا، ان پر بھی اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b41f6fa.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b41f6fa.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b41f6fa.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b41f6fa.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شمالی علاقہ جات بشمول سوات و وادیٔ کاغان میں ٹراؤٹ مچھلی فارموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے&amp;mdash; تصویر ثاقب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شمالی علاقہ جات بشمول سوات و وادیٔ کاغان میں ٹراؤٹ مچھلی فارموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے— تصویر ثاقب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5e91d8da868cd'&gt;حرفِ آخر&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں سیاحت کی ڈوبتی نیّا کو بچانے کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر  کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے&lt;/p&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;ایئر لائن کی صنعت اور ٹریول ایجنٹوں کے عمرہ ویزے کی مد میں پھنسے ہوئے اربوں روپے نکالنے کی کوشش&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ٹیکسوں میں ریلیف دینے، &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کے لیے بینکوں سے قرضہ لینے والے افراد کو بینکوں کی طرف سے تعاون اور سود میں کمی، &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;لوکل ٹؤر آپریٹرز کے لیے خصوصی پیکج&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اس شعبے سے وابستہ پورٹرز، گائیڈ، ڈرائیور اور ہوٹل میں کام کرنے والے افراد کے لیے خصوصی اقدمات&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;

&lt;p&gt;یہ وہ کام ہے جنہیں ہر حال میں کرنا ہوگا، ورنہ یاد رکھیے کہ ہم نے بڑی مشکل سے ابھی سیاحتی شعبے کو پیروں پر کھڑا ہی کیا تھا اور اگر آج لوگ نقصان کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے تو دوبارہ اس صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک بار پھر بہت زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90c0e4e6a9b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90c0e4e6a9b.jpg 250w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90c0e4e6a9b.jpg 250w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90c0e4e6a9b.jpg 250w' sizes='(min-width: 992px)  250px, (min-width: 768px)  250px,  250px' alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			عظمت اکبر سماجی کارکن اور ٹریپ ٹریولز پاکستان کے سی ای او ہیں۔ آپ کو سیاحت کا صرف شوق ہی نہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے پُرعزم بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5e91d8da8682b'>پاکستانی سیاحت پر کورونا بحران کے بڑھتے سائے</h1>

<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/authors/2535">عظمت اکبر</a></strong></p>

<p>بے شک اللہ نے انسان کے لیے اس کائنات میں بے پناہ نعمتیں، سہولتیں اور وسائل رکھے ہوئے ہیں۔ نوع انسانی کی فطرت، عادت اور پسند کو خالقِ کائنات سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ کسی کے دل کو لبھانے کے لیے بلند و بالا پہاڑ تو کسی کی لطف اندوزی کے لیے محوِ رقص سمندر بنائے، کہیں صحرا کو پُراسرار خوبصورتی بخشی تو کہیں جنگلوں کو حیاتی تنوع سے سرشار کیا۔</p>

<p>انسانی زندگی میں بدلتے موسموں کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔ کسی کو سردیاں پسند ہیں تو کوئی گرمیوں کا شیدائی ہے۔ شاید ہی اس زمین پر کوئی شخص ایسا ہو جسے بہار کا موسم اور اس کے رنگ پسند نہیں ہوں۔ بہار کا موسم جہاں اپنے اندر فرحت بخش تازگی لے کر آتا ہے وہیں سیاحت کے شوقین لوگوں میں خوبصورت نظارے دیکھنے کی خواہش کو جنم دیتا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b4e8508bf.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b4e8508bf.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b4e8508bf.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b4e8508bf.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بہار پوری دنیا کے سیاحوں کا پسندیدہ موسم ہے &mdash;تصویر چوہدری عمر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بہار پوری دنیا کے سیاحوں کا پسندیدہ موسم ہے —تصویر چوہدری عمر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مگر افسوس اس بات کا ہے کہ رواں سال موسمِ بہار تو آیا ہے لیکن کورونا نامی ایک ایسا مہلک جراثیم سیاحت کے شوقینوں کی دیوانگی پر غالب آگیا ہے کہ جس میں بے احتیاطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ </p>

<p>اس وقت دنیا کے کئی ممالک بشمول پاکستان میں بہار کے رنگ ہر سوں پھیلے نظر آرہے ہیں لیکن ان رنگوں کو دیکھنے سے سیاح تو درکنار مقامی لوگ بھی قاصر ہیں۔  </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b3998cb.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b3998cb.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b3998cb.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b3998cb.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اس وقت شمالی علاقہ جات سمیت ملک بھر کی خوبصورت وادیوں میں بہار کا موسم اپنے جوبن پر ہے&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اس وقت شمالی علاقہ جات سمیت ملک بھر کی خوبصورت وادیوں میں بہار کا موسم اپنے جوبن پر ہے— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			 </p>

<p>کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے جہاں دنیا کے تمام کاروبار بند کردیے ہیں وہیں عالمی سیاحت کو بھی بُری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ برج خلیفہ سے لے کر ایفل ٹاور اور ترکی کی مشہور نیلی مسجد سے رومانوی شہر وینس سمیت تمام سیاحتی مقامات پر اس وقت سناٹا چھایا ہوا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90c6876dc58.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90c6876dc58.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90c6876dc58.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90c6876dc58.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="دنیا بھر کے سیاحتی مقامات جہاں پر سیاحوں کا رش دیدنی ہوتا تھا، آج کل ان مقامات پر سناٹا چھایا ہوا ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دنیا بھر کے سیاحتی مقامات جہاں پر سیاحوں کا رش دیدنی ہوتا تھا، آج کل ان مقامات پر سناٹا چھایا ہوا ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			 </p>

<p>ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سیاحت فورم انسٹیٹیوٹ کے سربراہ بلت بیگسی نے بتایا ہے کہ عالمی شعبہ سیاحت کو کورونا وائرس سے ایک کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ اس وائرس کے پھیلنے کی رفتار اور سیاحتی شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات پر زور دیتے ہوئے بلت بیگسی نے مزید بتایا کہ اس شعبے میں کام کرنے والے 5 کروڑ افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4e725c.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b4e725c.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b4e725c.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4e725c.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="عالمی سیاحت کے شعبے کو کورونا وائرس سے ایک کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا  پڑا ہے&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">عالمی سیاحت کے شعبے کو کورونا وائرس سے ایک کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا  پڑا ہے— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سیاحت سے سالانہ اپنی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ حاصل کرنے والے امریکا، متحدہ عرب امارات، اٹلی، اسپین، فرانس، جنوبی کوریا، جاپان، چین، ہانک کانگ، تھائی لینڈ، ترکی، ملائشیا سمیت دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں اس وقت لاک ڈاؤن ہے۔ جس کی وجہ سے سیاحت کے شعبے پر دیرپا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ </p>

<p>تاریخ میں اس سے پہلے سیاحت کے شعبے پر اس قدر بُرا بحران کبھی نہیں آیا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر وبا پر قابو پالیا گیا تو بھی شعبہ سیاحت کی بحالی آسان نہیں ہوگی اور اس کا اثر سیاحت سے منسلک 60 سے زائد کاروباری شعبوں پر پڑے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e9184060ace6.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e9184060ace6.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e9184060ace6.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e9184060ace6.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اگر کورونا کی وبا پر قابو پالیا گیا تو بھی شعبہ سیاحت کی بحالی آسان نہیں ہوگی&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اگر کورونا کی وبا پر قابو پالیا گیا تو بھی شعبہ سیاحت کی بحالی آسان نہیں ہوگی— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>پاکستان میں شعبہ سیاحت اگرچہ اکثر و بیشتر دہشت گردی کے واقعات، قدرتی آفات اور ملکی سیاست کی رسہ کشی و دیگر کئی وجوہات کے باعث مختلف صورتوں میں متاثر رہا ہے مگر گزشتہ 3 سے 4 سالوں سے ملک میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال، قدرتی آفات میں کمی، سوشل میڈیا پر عوام میں آگاہی اور حکومتی توجہ سے سیاحت کی صنعت میں بہت بہتری آئی اور یہ شعبہ بھی ملکی جی ڈی پی میں 80 کروڑ روپے سے زائد کا حصہ ڈالنے کے قابل ہوگیا تھا اور توقع کی جارہی تھی کہ 2025ء تک یہ رقم ایک کھرب تک پہنچ جائے گی۔</p>

<p>پاکستان میں مئی سے اگست تک کے سیاحتی سیزن کے لیے غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ و ریزرویشن کا عمل مارچ تک مکمل ہوجاتا ہے مگر اس بار کورونا ایمرجنسی کی وجہ سے اب تک غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ نہ ہونے کے برابر ہے اور جو پہلے ہی ہوچکی تھی، اب وہ بھی منسوخ ہورہی ہیں۔ پاکستانی پہاڑ سر کرنے والے کوہ پیماؤں اور سیر سپاٹے کے لیے آنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق اٹلی، جرمنی، اسپین، پولینڈ، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے مذکورہ ممالک ہی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e91860d75a9b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e91860d75a9b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e91860d75a9b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e91860d75a9b.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مئی سے اگست تک ملک کے شمالی علاقوں میں سیاحوں کا رش نظر آتا ہے&mdash; تصویر عظت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مئی سے اگست تک ملک کے شمالی علاقوں میں سیاحوں کا رش نظر آتا ہے— تصویر عظت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ان ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سیاحوں کی ہر سال 50 سے زائد ایکسپڈیشن (کوہِ پیمائی مہمات) ہوتی ہیں تاہم رواں برس ان کی منسوخی کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ ان مہمات کی منسوخی سے اسکردو، ہنزہ، شمشال، نلتر، چترال کے مقامی گائیڈز، پورٹرز (قُلی) اور جیپ ڈرائیور بُری طرح متاثر ہوں گے۔ </p>

<p>سیاحتی خدمات فراہم کرنے والی ویب سائٹ فائنڈ مائی ایڈوینچر کے بانی کومیل احمد کے مطابق 2 ہزار 865 خاندان ان غیر ملکی مہمات کے نہ ہونے کی وجہ سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4c1ce7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b4c1ce7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b4c1ce7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4c1ce7.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اکثر غیر ملکی سیاحوں کا تعلق اٹلی، جرمنی، اسپین، پولینڈ، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہے&mdash; تصویر  عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اکثر غیر ملکی سیاحوں کا تعلق اٹلی، جرمنی، اسپین، پولینڈ، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہے— تصویر  عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			 </p>

<p>مشہور کوہِ پیما اور متعدد کتب کے مصنف محمد عبدہ اور آل پاکستان ٹؤر آپریٹرز ایسوسی ایشن کے صدر حمزہ خالد کے مطابق موجودہ صورتحال سے گرمیوں کا سیزن بھی متاثر ہوگا۔ غیرملکی سیاحوں کی آمد تو درکنار مقامی سیاح بھی نکلنے سے گریز کریں گے۔ </p>

<p><strong>کورونا وائرس کے موجودہ بحران میں سیاحت سے منسلک مندرجہ ذیل شعبہ جات و کاروبار بُری طرح متاثر ہوں گے۔</strong></p>

<h2 id='5e91d8da86846'>ایئر لائن کی صنعت</h2>

<p>ایئر لائن کی صنعت کو اس وقت پوری دنیا میں 50 ارب ڈالر سے زائد مالی نقصان ہوچکا ہے اور سال کے آخر تک اس نقصان کا تخمینہ کئی گنا زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی عمرہ و حج کی ممکنہ بندش اور دیگر ممالک کی پروازوں کی معطلی سے ایئر لائن کی صنعت بُری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کو اب تک 4 ارب کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوں مستقبل قریب میں پی آئی اے کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے امکانات محدود ہوتے نظر آرہے ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b09ede4.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b09ede4.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b09ede4.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b09ede4.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ایئر لائن کی صنعت کو اس وقت پوری دنیا میں 50 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایئر لائن کی صنعت کو اس وقت پوری دنیا میں 50 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='5e91d8da8685d'>ٹریول ایجنسیاں</h2>

<p>پاکستان میں لاکھوں افراد ٹریول ایجنسی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ایئر لائن آپریشن کی اچانک بندش سے یہ کاروباری طبقہ اربوں روپے ٹکٹس کی ریفنڈ کے سلسلے میں ائیر لائن کے پاس پھنسا چکے ہیں۔ جبکہ عمرہ، حج، ایران اور عراق کے مقدس مقامات کی زیارت، بین الاقوامی سیر وسیاحت پر پابندی اس کاروبار سے وابستہ افراد کو بدترین مالی بحران کا شکار بناسکتی ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b333654.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b333654.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b333654.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b333654.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ٹریول ایجنٹوں کی ایک بڑی تعداد غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں &mdash;تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ٹریول ایجنٹوں کی ایک بڑی تعداد غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں —تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='5e91d8da86870'>ٹؤر آپریٹرز</h2>

<p>پاکستان میں اس وقت آل پاکستان ٹؤر آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ 70 ٹؤر آپریٹر، پاکستان ایسوی ایشن آف ٹؤر آپریٹرز کے ساتھ تقریباً 100، آل پاکستان ٹؤر آپریٹرز کے ساتھ 400 ٹؤر آپریٹرز رجسٹر شدہ ہیں جبکہ غیر رجسٹر شدہ آپریٹرز کی تعداد بھی لگ بھگ اتنی ہی بنتی ہے۔ </p>

<p>ان ٹؤر آپریٹرز میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جنہوں نے ملکی سیاحت کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھتے ہوئے ایک یا 2 سال پہلے ہی اس شعبے میں قدم رکھا تھا۔ عام حالات میں گرمیوں کے سیزن سے آپریٹروں کو اتنا منافع ہوجاتا ہے کہ سال بھر کے اخراجات پورے ہوجاتے لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے اگر گرمیوں کا سیزن متاثر ہوتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان اس شعبے میں نئے آنے والے نوجوان کاروباری طبقے کو اٹھانا پڑے گا اور عین ممکن ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اس کام کو شاید چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں، اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو سیاحت کے شعبے میں آنے والے تمام افراد کی یقیناً حوصلہ شکنی ہوگی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b29a4a7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b29a4a7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b29a4a7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b29a4a7.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سب سے زیادہ نقصان نئے ٹؤر آپریٹروں کو اٹھانا پڑے گا &mdash;تصویر حمزہ خالد" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سب سے زیادہ نقصان نئے ٹؤر آپریٹروں کو اٹھانا پڑے گا —تصویر حمزہ خالد</figcaption>
			</figure>
<p>			 </p>

<h2 id='5e91d8da86884'>ہوٹل کی صنعت</h2>

<p>شمالی علاقہ جات کے تقریباً 70 فیصد لوگوں کا روزگار ملکی سیاحت پر منحصر ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد ہوٹلنگ کے مختلف کاموں سے وابستہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اسکردو میں تقریباً 200، ہنزہ میں 350، گلگت بلتستان کے مختلف سیاحتی مقامات پر 150، وادئ سوات میں 400، وادئ نیلم میں 50 اور وادئ ناران میں 500 سے زیادہ ہوٹل بہار کے اس خوبصورت موسم میں بند پڑے ہوئے ہیں۔ </p>

<p>چنانچہ موجودہ صورتحال میں ان ہوٹلوں سے وابستہ ہزاروں خاندان مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدور کے مطابق موجودہ حالات کا اثر نہ صرف ان ہوٹلوں میں کم تنخواہ پر کام کرنے والے بیرے، خاکروب، باورچی اور دیگر عملے پر پڑے گا بلکہ سالانہ بنیاد پر لیز پر لینے والے اور بینکوں سے قرضہ لینے والے ہوٹل مالکان کو بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5afa4517.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5afa4517.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5afa4517.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5afa4517.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ناران کا ایک ہوٹل&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ناران کا ایک ہوٹل— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='5e91d8da86896'>ٹرانسپورٹ</h2>

<p>چونکہ سیاحت کے شعبے میں ٹرانسپورٹ کا کردار کلیدی ہوتا ہے مگر پاکستان میں سیاحت نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں بہت کم لوگ ہی اپنا سرمایہ لگانے کا رسک لے رہے تھے۔ لیکن گزشتہ 3 یا 4 سالوں میں پاکستان میں سیاحت کو جتنا فروغ ملا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اس شعبے پر ہونے والی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بعض افراد نے تو لیز پر اور کچھ نے سرمایہ کاروں سے ماہانہ بنیاد پر چھوٹی بڑی گاڑیاں حاصل کرلی تھیں۔ موجودہ صورتحال میں اس شعبے میں نئے آنے والے افراد کے ساتھ ساتھ پرانے ٹرانسپورٹروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5af52290.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5af52290.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5af52290.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5af52290.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کچھ افراد نے لیز پر اور بعض نے انویسٹرز سے ماہانہ بنیاد پر گاڑیاں حاصل کرلی تھیں&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کچھ افراد نے لیز پر اور بعض نے انویسٹرز سے ماہانہ بنیاد پر گاڑیاں حاصل کرلی تھیں— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			 </p>

<p>مقامی سطح پر دیوسائی، نلتر، ہوشے، سیف الملوک، شوگران، سری پایہ، رتی گلی، فیری میڈوز اور مہوڈنڈ جھیل میں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے والی جیپوں کے ہزاروں ڈرائیوروں کے لیے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنا نہایت کٹھن ہوجائے گا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b13eb3e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b13eb3e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b13eb3e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b13eb3e.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="موجودہ حالات میں مختلف سیاحتی مقامات پر فور بائی فور جیپوں کے ڈرائیور بھی پریشانی میں مبتلا ہیں&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">موجودہ حالات میں مختلف سیاحتی مقامات پر فور بائی فور جیپوں کے ڈرائیور بھی پریشانی میں مبتلا ہیں—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='5e91d8da868a9'>پورٹر اور گائیڈ</h2>

<p>کے ٹو، مشبرم، براڈ پیک، نانگا پربت، راکا پوشی اور دیگر بلند چوٹیوں پر غیر ملکی و ملکی سیاحوں کو پہنچانے میں مدد اور رہنمائی فراہم کرنے والے ایسے مقامی گائیڈ اور پورٹروں یا قلیوں کی ایک بڑی تعداد شمالی علاقہ جات میں مقیم ہے جن کا گزر بسر اسی کام پر منحصر ہے۔ پاکستانی سیاحت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے سب سے زیادہ شاید یہی لوگ متاثر ہوں گے۔  </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4c1594.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b4c1594.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b4c1594.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b4c1594.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سیاحتی بحران سے پورٹرز اور گائیڈ سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں&mdash; تصویر عبید الرحمٰن" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سیاحتی بحران سے پورٹرز اور گائیڈ سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں— تصویر عبید الرحمٰن</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='5e91d8da868ba'>ٹراؤٹ فشریز</h2>

<p>شمالی علاقہ جات بشمول سوات و وادئ کاغان میں ٹراؤٹ مچھلی فارموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد کا انحصار بھی سیاحت کے شعبے پر ہوتا ہے۔ اب جبکہ سیاحت کم ہوگی تو اس کی کھپت میں بھی کمی ہوگی اور یوں جن جن افراد کا روزگار اس سے وابستہ تھا، ان پر بھی اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b41f6fa.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90b5b41f6fa.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90b5b41f6fa.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90b5b41f6fa.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شمالی علاقہ جات بشمول سوات و وادیٔ کاغان میں ٹراؤٹ مچھلی فارموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے&mdash; تصویر ثاقب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شمالی علاقہ جات بشمول سوات و وادیٔ کاغان میں ٹراؤٹ مچھلی فارموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے— تصویر ثاقب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='5e91d8da868cd'>حرفِ آخر</h2>

<p>پاکستان میں سیاحت کی ڈوبتی نیّا کو بچانے کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر  کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے</p>

<ul>
<li>ایئر لائن کی صنعت اور ٹریول ایجنٹوں کے عمرہ ویزے کی مد میں پھنسے ہوئے اربوں روپے نکالنے کی کوشش</li>
<li>ٹیکسوں میں ریلیف دینے، </li>
<li>ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کے لیے بینکوں سے قرضہ لینے والے افراد کو بینکوں کی طرف سے تعاون اور سود میں کمی، </li>
<li>لوکل ٹؤر آپریٹرز کے لیے خصوصی پیکج</li>
<li>اس شعبے سے وابستہ پورٹرز، گائیڈ، ڈرائیور اور ہوٹل میں کام کرنے والے افراد کے لیے خصوصی اقدمات</li>
</ul>

<p>یہ وہ کام ہے جنہیں ہر حال میں کرنا ہوگا، ورنہ یاد رکھیے کہ ہم نے بڑی مشکل سے ابھی سیاحتی شعبے کو پیروں پر کھڑا ہی کیا تھا اور اگر آج لوگ نقصان کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے تو دوبارہ اس صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک بار پھر بہت زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ </p>

<hr />

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90c0e4e6a9b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e90c0e4e6a9b.jpg 250w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e90c0e4e6a9b.jpg 250w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e90c0e4e6a9b.jpg 250w' sizes='(min-width: 992px)  250px, (min-width: 768px)  250px,  250px' alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			عظمت اکبر سماجی کارکن اور ٹریپ ٹریولز پاکستان کے سی ای او ہیں۔ آپ کو سیاحت کا صرف شوق ہی نہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے پُرعزم بھی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1125957</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2020 19:48:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عظمت اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5e918c826dcd7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5e918c826dcd7.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
