<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:07:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:07:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ: وزارت آئی ٹی کو قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ بحال کرنے کی ہدایت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1126573/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو سائبر دنیا سے دوبارہ جوڑنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی سے نہیں روکا جاسکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک طالبعلم سید محمد کی دائر کردہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی، جس میں وزارت آئی ٹی، پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے متعلقہ حکام کو 20 اپریل تک رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت اس وقت تک کے لیے ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084651"&gt;قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ساتوں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے مختلف جامعات کے طلبہ نے قبائلی اضلاع میں 3جی اور 4 جی انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا کیونکہ اس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ درخواست گزار قبائلی اضلاع کے ضلع پارا چنار سے تعلق رکھتا ہے، جس کے وکیل عبدالرحیم وزیر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فریقین نے اسے عوام کے انٹرنیٹ تک رسائی کے حق سے محروم رکھا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی کے حق کو آئینی ضمانت حاصل ہے جو آئین کی دفعہ 19 اے کے تحت بنیادی حقوق کا اہم حصہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وکیل کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر طلبہ کو انٹرنیٹ تک رسائی درکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099659//"&gt;فاٹا کے عوام اب بھی مرکز کی توجہ کے منتظر ہیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس لیے قبائلی اضلاع کے عوام اور طلبہ کو انٹرنیٹ تک رسائی دینے سے انکار کر کے ان کے آئینی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت میں پیش ہونے کے لیے مجاز افسران کو نامزد کرنے کی ہدایت کی کہ یہ واضح کریں درخواست گزار اور قبائلی اضلاع کے عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی کیوں نہیں دی جارہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر ایک رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کے ساتھ ہی وزارت آئی ٹی کو حکم دیا کہ ’اس دوران قبائلی اضلاع میں 3 جی اور 4 جی انٹرنیٹ کی سہولت بحال کرنے کے اقدامات کیے جائیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1549288/ministry-told-to-restore-internet-facility-for-tribal-areas"&gt;یہ خبر&lt;/a&gt; 15 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو سائبر دنیا سے دوبارہ جوڑنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی سے نہیں روکا جاسکتا۔</p>

<p>عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک طالبعلم سید محمد کی دائر کردہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی، جس میں وزارت آئی ٹی، پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔</p>

<p>عدالت نے متعلقہ حکام کو 20 اپریل تک رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت اس وقت تک کے لیے ملتوی کردی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084651">قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ ساتوں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے مختلف جامعات کے طلبہ نے قبائلی اضلاع میں 3جی اور 4 جی انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا کیونکہ اس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔</p>

<p>مذکورہ درخواست گزار قبائلی اضلاع کے ضلع پارا چنار سے تعلق رکھتا ہے، جس کے وکیل عبدالرحیم وزیر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فریقین نے اسے عوام کے انٹرنیٹ تک رسائی کے حق سے محروم رکھا ہے۔ </p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی کے حق کو آئینی ضمانت حاصل ہے جو آئین کی دفعہ 19 اے کے تحت بنیادی حقوق کا اہم حصہ ہے۔</p>

<p>وکیل کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر طلبہ کو انٹرنیٹ تک رسائی درکار ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099659//">فاٹا کے عوام اب بھی مرکز کی توجہ کے منتظر ہیں</a></strong></p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس لیے قبائلی اضلاع کے عوام اور طلبہ کو انٹرنیٹ تک رسائی دینے سے انکار کر کے ان کے آئینی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔</p>

<p>بعد ازاں عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت میں پیش ہونے کے لیے مجاز افسران کو نامزد کرنے کی ہدایت کی کہ یہ واضح کریں درخواست گزار اور قبائلی اضلاع کے عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی کیوں نہیں دی جارہی۔</p>

<p>اس کے علاوہ عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر ایک رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کے ساتھ ہی وزارت آئی ٹی کو حکم دیا کہ ’اس دوران قبائلی اضلاع میں 3 جی اور 4 جی انٹرنیٹ کی سہولت بحال کرنے کے اقدامات کیے جائیں'۔</p>

<hr />

<p><strong><a href="https://www.dawn.com/news/1549288/ministry-told-to-restore-internet-facility-for-tribal-areas">یہ خبر</a> 15 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1126573</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2020 12:44:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5e967c81a1ba8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5e967c81a1ba8.jpg"/>
        <media:title>وکیل کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر طلبہ کو انٹرنیٹ تک رسائی درکار ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
