<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 17:59:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 17:59:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں رواں سال نمو منفی 1.5 فیصد ہوگی، آئی ایم ایف کی پیش گوئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1126602/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کورونا وائرس سے متعلقہ ’دی گریٹ لاک ڈاؤن‘ کے بعد دنیا بھر کی معیشتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی معاشی بحران کی پیش گوئی کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1549328/imf-sees-negative-15pc-growth-in-pakistan-this-year"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے دوران گزشتہ سال کے 3.3 فیصد کے نمو کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت 1.5 فیصد تک سکڑ جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ یہ اندازہ عالمی بینک کی جانب سے ملک کے معاشی آؤٹ پٹ میں 1.3 فیصد کمی کے ساتھ عام موازنہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایف ایف کے سالانہ جاری ہونے والے ’عالمی معاشی منظرنامے'  میں کہا گیا کہ ’وبا کے نتیجے میں عالمی معیشت 2020 میں 3 فیصد تک سکڑ جائے گی جو 09-2008میں آنے والے مالیاتی بحران سے بھی کہیں زیادہ برا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1126563/"&gt;وزیرخارجہ کی برطانوی ہم منصب کو فون، معاشی حوالے سے تشویش سے آگاہ کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس منظرنامے میں کہا گیا کہ ’اس بات کا بہت امکان ہے کہ رواں سال عالمی معیشت اپنی شدید بدحالی کا سامنا کرے گی جو ایک دہائی قبل دی گریٹ ڈپریشن (کساد عظیم) کی وجہ سے آنے والے عالمی مالیاتی بحران سے بھی بڑا ہوگا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن سے عالمی ترقی کی شرح سکڑنے کی پیش گوئی کی جارہی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ صحت کی اس ہنگامی صورتحال اور اسے روکنے کے اقدامات سے وابستہ آؤٹ پٹ میں ہونے والا نقصان  ممکنہ طور پر ان نقصانات کو پیچھے چھوڑ دیں گے جو  09-2008 کے بحران کے دوران ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ مالی سال 2021 کے لیے آئی ایم ایف نے توقع کی تھی کہ 5.8 فیصد کے عالمی سطح پر معاشی بحالی کے دوران ملک کی معیشت 2 فیصد تک بڑھے گی تاہم  عالمی بینک نے کہا تھا کہ مالی سال 21-2020 میں پاکستان کی معاشی نمو 0.9 فیصد پر خاموش رہے گی جبکہ مالی سال 2022 میں یہ 3.2 فیصد تک پہنچے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123625"&gt;معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے اندازوں میں تجویز دی گئی کہ تمام بڑی معیشتیں منفی میں جائیں گی سوائے چند کے جن میں چین اور بھارت شامل ہیں جو بالترتیب 1.2 فیصد اور 1.9 فیصد تک بڑھے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان دونوں ممالک کے بارے میں پیش گوئی کی گئی کہ یہ آئندہ مالی سال تک 9.2 فیصد اور 7.4 فیصد تک بحال ہوجائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی رواں سال کنزیومر پرائز انڈیکس 11.1 فیصد تک بڑھے گا تاہم آئندہ سال یہ کم ہوکر 8 فیصد آجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس نے 2019-20 میں جی ڈی پی کے 1.7 فیصد تکک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کا بھی اندازہ لگایا جو اگلے مالی سال میں بڑھ کر 2.4 فیصد تک ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اگلے مالی سال میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 4.5 فیصد اور آئندہ مالی سال 5.1 فیصد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف ننے اندازہ لگایا گیا کہ امریکا اور یورپی یونین کی معیشتوں کو ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانا پڑے گی جو گزشتہ سال شائع ہونے والی 1.7 فیصد اور 1.2 فیصد کی شرح کے مقابلے میں بالترتیب 5.9 فیصد اور 7.5 فیصد کے ساتھ سکڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5e9710cdee901'&gt;قرضوں میں ریلیف&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دریں اثنا آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 25 ممالک کے لیے فوری طور پر قرضوں میں ریلیف کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان سمیت 90 سے زائد ممالک معاشی ریلیف کے خواہاں ہیں کیونکہ مہلک وائرس پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کورونا وائرس سے متعلقہ ’دی گریٹ لاک ڈاؤن‘ کے بعد دنیا بھر کی معیشتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی معاشی بحران کی پیش گوئی کردی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1549328/imf-sees-negative-15pc-growth-in-pakistan-this-year"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے دوران گزشتہ سال کے 3.3 فیصد کے نمو کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت 1.5 فیصد تک سکڑ جائے گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ یہ اندازہ عالمی بینک کی جانب سے ملک کے معاشی آؤٹ پٹ میں 1.3 فیصد کمی کے ساتھ عام موازنہ ہے۔</p>

<p>آئی ایف ایف کے سالانہ جاری ہونے والے ’عالمی معاشی منظرنامے'  میں کہا گیا کہ ’وبا کے نتیجے میں عالمی معیشت 2020 میں 3 فیصد تک سکڑ جائے گی جو 09-2008میں آنے والے مالیاتی بحران سے بھی کہیں زیادہ برا ہے‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1126563/">وزیرخارجہ کی برطانوی ہم منصب کو فون، معاشی حوالے سے تشویش سے آگاہ کردیا</a></strong> </p>

<p>اس منظرنامے میں کہا گیا کہ ’اس بات کا بہت امکان ہے کہ رواں سال عالمی معیشت اپنی شدید بدحالی کا سامنا کرے گی جو ایک دہائی قبل دی گریٹ ڈپریشن (کساد عظیم) کی وجہ سے آنے والے عالمی مالیاتی بحران سے بھی بڑا ہوگا‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن سے عالمی ترقی کی شرح سکڑنے کی پیش گوئی کی جارہی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ صحت کی اس ہنگامی صورتحال اور اسے روکنے کے اقدامات سے وابستہ آؤٹ پٹ میں ہونے والا نقصان  ممکنہ طور پر ان نقصانات کو پیچھے چھوڑ دیں گے جو  09-2008 کے بحران کے دوران ہوئے تھے۔</p>

<p>ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ مالی سال 2021 کے لیے آئی ایم ایف نے توقع کی تھی کہ 5.8 فیصد کے عالمی سطح پر معاشی بحالی کے دوران ملک کی معیشت 2 فیصد تک بڑھے گی تاہم  عالمی بینک نے کہا تھا کہ مالی سال 21-2020 میں پاکستان کی معاشی نمو 0.9 فیصد پر خاموش رہے گی جبکہ مالی سال 2022 میں یہ 3.2 فیصد تک پہنچے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123625">معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ</a></strong></p>

<p>آئی ایم ایف کے اندازوں میں تجویز دی گئی کہ تمام بڑی معیشتیں منفی میں جائیں گی سوائے چند کے جن میں چین اور بھارت شامل ہیں جو بالترتیب 1.2 فیصد اور 1.9 فیصد تک بڑھے گی۔</p>

<p>ان دونوں ممالک کے بارے میں پیش گوئی کی گئی کہ یہ آئندہ مالی سال تک 9.2 فیصد اور 7.4 فیصد تک بحال ہوجائیں گی۔</p>

<p>آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی رواں سال کنزیومر پرائز انڈیکس 11.1 فیصد تک بڑھے گا تاہم آئندہ سال یہ کم ہوکر 8 فیصد آجائے گا۔</p>

<p>اس نے 2019-20 میں جی ڈی پی کے 1.7 فیصد تکک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کا بھی اندازہ لگایا جو اگلے مالی سال میں بڑھ کر 2.4 فیصد تک ہوجائے گا۔</p>

<p>اس کے علاوہ اگلے مالی سال میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 4.5 فیصد اور آئندہ مالی سال 5.1 فیصد متوقع ہے۔</p>

<p>آئی ایم ایف ننے اندازہ لگایا گیا کہ امریکا اور یورپی یونین کی معیشتوں کو ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانا پڑے گی جو گزشتہ سال شائع ہونے والی 1.7 فیصد اور 1.2 فیصد کی شرح کے مقابلے میں بالترتیب 5.9 فیصد اور 7.5 فیصد کے ساتھ سکڑ رہی ہے۔</p>

<h3 id='5e9710cdee901'>قرضوں میں ریلیف</h3>

<p>دریں اثنا آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 25 ممالک کے لیے فوری طور پر قرضوں میں ریلیف کی منظوری دے دی ہے۔</p>

<p>پاکستان سمیت 90 سے زائد ممالک معاشی ریلیف کے خواہاں ہیں کیونکہ مہلک وائرس پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1126602</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2020 18:49:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5e96b459e8b3b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5e96b459e8b3b.jpg"/>
        <media:title>واشنگٹن میں قائم آئی ایم ایف کا ہیڈ کوارٹر - فائل فوٹو:ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
