<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:20:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:20:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ائیرکنڈیشنر کورونا وائرس کو پھیلانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1126854/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا ائیرکنڈیشنر نئے نوول کورونا وائرس کے وائرل ذرات کو پھیلانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں؟ کم ازکم چین میں ہونے والی ایک  تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی چین کے ایک ریسٹورنٹ میں جانے والے 3 خاندانوں کے 10 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے پر اس حوالے سے تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ ائیرکنڈیشنر نے ان افراد کے درمیان وائرل ذرات کی منتقلی میں معاونت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1124376' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوانگزو سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی اس &lt;a href="https://www.scmp.com/news/china/society/article/3079986/does-air-con-help-spread-coronavirus-chinese-study-3-families"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; کے نتائج جریدے ایمرجنگ انفیکشنز ڈیزیز میں شائع کیے گئے جو کہ امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کا اوپن ایسز جریدہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ جنوری کے آخر میں گوانگزو شہر کے ایک ریسٹورنٹ میں ائیرکنڈیشنر سے ہوا کا مضبوط بہائو وائرل ذرات کو 3 میزوں تک پہنچایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے مشورہ دیا ہے کہ میزوں کے درمیان فاصلے کو بڑھانے اور ہوا کے اخراج کے نظام کو بہتر کرکے اس طرح کے وائرس انفیکشن کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق ان 10 مریضوں میں سے ایک 23 جنوری کو ووہان سے واپس آیا تھا، یعنی وہ شہر جہاں سب سے پہلے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مریض نے اگلے دن ریسٹورنٹ میں خاندان کے 3 افراد کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا، جس میں کھڑکی نہیں تھی بلکہ ہر منزل میں ایک ائیرکنڈیشنر موجود تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2 دیگر خاندان بھی ارگرد کی میزوں پر موجود تھے اور ایک میٹر کا فاصلہ تھا جبکہ اوسطاً ایک گھنٹے تک وہ لوگ وہاں موجود رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے مریض میں اسی دن بخار اور کھانسی کی علامات سامنے آگئیں اور ہسپتال چلا گیا، اگلے 2 ہفتے میں اس کے خاندان کے مزید 4 افراد، دوسرے خاندان کے 4 اور تیسرے خاندان کے 3 افراد نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تفصیلی تحقیقات کے بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ دوسرے اور تیسرے خاندان میں اس وائرس کے پہنچنے کی وجہ ریسٹورنٹ میں موجود پہلا مریض تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1125818' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e906bcfae70b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e906bcfae70b.png 262w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e906bcfae70b.png 262w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e906bcfae70b.png 262w' sizes='(min-width: 992px)  262px, (min-width: 768px)  262px,  262px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق وائرس کی ترسیل کے ممکنہ ذرائع کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے نتیجہ نکالا کہ اس کی ممکنہ وجہ وائرل ذرات ہی ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مزید تجزیے سے معلوم ہوا یہ وائرل ذرات ائیرکنڈیشنر کے وینٹی لیشن سے پھیلے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنسسدانوں نے دریافت کیا کہ اسی منزل پر پہلے مریض کے ساتھ 73 مزید افراد بھی کھانا کھا رہے تھے مگر ان میں بیماری کی علامات 14 دن کے قرنطینہ میں ظاہر نہیں ہوئیں اور ٹیسٹ بھی نیگیٹو رہے، اسی طرح ریسٹورنٹ کے عملے میں سے بھی کوئی متاثر نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق محدود پیمانے پر ہوئی کیونکہ اس میں تجربہ کرکے اس تھیوری کو آزمایا نہیں گیا، تاہم اس طرح کے مسئلے سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ائیرکنڈیشنر کا استعمال کریں مگر کھڑکیوں کو  بھی اکثر کھول لیا کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا ائیرکنڈیشنر نئے نوول کورونا وائرس کے وائرل ذرات کو پھیلانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں؟ کم ازکم چین میں ہونے والی ایک  تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔</p>

<p>جنوبی چین کے ایک ریسٹورنٹ میں جانے والے 3 خاندانوں کے 10 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے پر اس حوالے سے تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ ائیرکنڈیشنر نے ان افراد کے درمیان وائرل ذرات کی منتقلی میں معاونت کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1124376' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>گوانگزو سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی اس <a href="https://www.scmp.com/news/china/society/article/3079986/does-air-con-help-spread-coronavirus-chinese-study-3-families">تحقیق</a> کے نتائج جریدے ایمرجنگ انفیکشنز ڈیزیز میں شائع کیے گئے جو کہ امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کا اوپن ایسز جریدہ ہے۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ جنوری کے آخر میں گوانگزو شہر کے ایک ریسٹورنٹ میں ائیرکنڈیشنر سے ہوا کا مضبوط بہائو وائرل ذرات کو 3 میزوں تک پہنچایا۔</p>

<p>محققین نے مشورہ دیا ہے کہ میزوں کے درمیان فاصلے کو بڑھانے اور ہوا کے اخراج کے نظام کو بہتر کرکے اس طرح کے وائرس انفیکشن کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق ان 10 مریضوں میں سے ایک 23 جنوری کو ووہان سے واپس آیا تھا، یعنی وہ شہر جہاں سب سے پہلے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا۔</p>

<p>اس مریض نے اگلے دن ریسٹورنٹ میں خاندان کے 3 افراد کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا، جس میں کھڑکی نہیں تھی بلکہ ہر منزل میں ایک ائیرکنڈیشنر موجود تھا۔</p>

<p>2 دیگر خاندان بھی ارگرد کی میزوں پر موجود تھے اور ایک میٹر کا فاصلہ تھا جبکہ اوسطاً ایک گھنٹے تک وہ لوگ وہاں موجود رہے۔</p>

<p>پہلے مریض میں اسی دن بخار اور کھانسی کی علامات سامنے آگئیں اور ہسپتال چلا گیا، اگلے 2 ہفتے میں اس کے خاندان کے مزید 4 افراد، دوسرے خاندان کے 4 اور تیسرے خاندان کے 3 افراد نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار ہوگئے۔</p>

<p>تفصیلی تحقیقات کے بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ دوسرے اور تیسرے خاندان میں اس وائرس کے پہنچنے کی وجہ ریسٹورنٹ میں موجود پہلا مریض تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1125818' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e906bcfae70b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e906bcfae70b.png 262w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e906bcfae70b.png 262w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e906bcfae70b.png 262w' sizes='(min-width: 992px)  262px, (min-width: 768px)  262px,  262px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیق کے مطابق وائرس کی ترسیل کے ممکنہ ذرائع کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے نتیجہ نکالا کہ اس کی ممکنہ وجہ وائرل ذرات ہی ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ مزید تجزیے سے معلوم ہوا یہ وائرل ذرات ائیرکنڈیشنر کے وینٹی لیشن سے پھیلے۔</p>

<p>سائنسسدانوں نے دریافت کیا کہ اسی منزل پر پہلے مریض کے ساتھ 73 مزید افراد بھی کھانا کھا رہے تھے مگر ان میں بیماری کی علامات 14 دن کے قرنطینہ میں ظاہر نہیں ہوئیں اور ٹیسٹ بھی نیگیٹو رہے، اسی طرح ریسٹورنٹ کے عملے میں سے بھی کوئی متاثر نہیں ہوا۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق محدود پیمانے پر ہوئی کیونکہ اس میں تجربہ کرکے اس تھیوری کو آزمایا نہیں گیا، تاہم اس طرح کے مسئلے سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ائیرکنڈیشنر کا استعمال کریں مگر کھڑکیوں کو  بھی اکثر کھول لیا کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1126854</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2020 20:09:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5e98736362d2d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5e98736362d2d.jpg"/>
        <media:title>ایک چینی تحقیق میں تو یہ دعویٰ سامنے آیا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
