<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:25:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:25:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تاریخ میں پہلی بار پی آئی اے کو امریکا کیلئے براہِ راست پروازوں کی اجازت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1128914/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا کے لیے براہ راست پروازیں چلانے کی اجازت مل گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن سے جاری مراسلے کے مطابق اجازت کا اطلاق 29 اپریل 2020 سے ہوگا اور جس کی مدت 29 اپریل 2021 تک ہے، پی آئی اے اس دوران ایک درجن 2 طرفہ یا یکطرفہ مسافر اور مال بردار پروازیں چلا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں ترجمان پی آئی اے نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا میں ہونے والے 11 ستمبر کے حملوں سے پہلے پی آئی اے کے طیاروں میں امریکا کی براہ راست پرواز کی صلاحیت نہیں تھی اس لیے انہیں کہیں نہ کہیں رکنا پڑتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکا نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر براہِ راست پروازوں کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مراسلے کے مطابق پی آئی اے مسافر یا مال بردار پرواز سے قبل یا پرواز کے بعد 5 روز کے اندر تحریری طور پر امریکی ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کو آگاہ کرنے کی پابند ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1128165"&gt;امریکا میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے پروازوں کی اجازت طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر پی آئی اے کو پاکستان سے باہر کسی جگہ سے پرواز چلانی ہوئی تو تحریری طور پر ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کو 3 دن قبل روٹ کے حوالے سے آگاہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح اگر ایئرلائن پاکستان کے باہر کسی ایئرپورٹ سے اڑان بھرے گی تو اسے ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ سے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنی ہوگی، مزید یہ کہ جو طیارہ امریکا کے لیے اڑان بھرے اس کے پاس ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کی مجازی دستاویز ہونا لازم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان شرائط کے علاوہ پی آئی اے متعلقہ امریکی محکموں بشمول فیڈرل ایڈمنسٹریشن اور انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے معیارات اور قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی پابند ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ایئرلائن کو امریکی حکومت کی سیکیورٹی کی شرائط پر بھی عملدرآمد کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مراسلے کے مطابق امریکا میں جن 2 طیاروں کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے وہ یہ ہیں:&lt;/p&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;بوئینگ ماڈل نمبر B777-240LR، سیریل نمبر 33781 رجسٹریشن نمبر AP-BGY&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بوئینگ ماڈل نمبر B777-240LR، سیریل نمبر 33782 رجسٹریشن نمبر AP-BGZ&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان نے امریکا سے کورونا وائرس وبا کے باعث وہاں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے پی آئی اے کی خصوصی پروازیں چلانے کی اجازت مانگی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد ملک نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کو خصوصی پروازیں چلانے کی اجازت کے لیے خط بھی لکھا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کووِڈ 19 وبا نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے کہ جس نے دونوں ممالک کے پھنسے ہوئے شہریوں کی واپسی کے لیے فوری فضائی سروس کو ضروری بنادیا ہے، اس لیے پی آئی اے امریکا کے لیے پروازوں کی بحالی کی منظوری مانگ رہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1118930/"&gt;امریکا کیلئے پی آئی اے کی براہ راست پروازیں بحال ہونے کا امکان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا تھا کہ پی آئی اے کے پاس ایک مستند فارن کیریئر پرمٹ ہے اور اپنے قانونی نمائندوں کے ذریعے امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن میں نئی سیکیورٹی اتھارٹی کے لیے درخواست بھی جمع کروائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ پی آئی اے نے کبھی بھی براہ راست پاکستان سے امریکا کی پروازیں نہیں چلائیں بلکہ براہ راست پروازوں کی اجازت نہ ہونے کے باعث اس کی پروازیں یورپ یا برطانیہ کے ائیرپورٹس سے سیکیورٹی کلئیرنس حاصل کر کے جاتی تھیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا کے لیے براہِ راست پروازوں کی اجازت ملنے کے حوالے سے ایئر مارشل ارشد ملک کا کہنا تھا کہ پی آئی اے امریکا کی ریلیف پروازیں چلائے گی جہاں ہزاروں پاکستانی پروازوں کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی ای او کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ان پاکستانیوں کی میتوں کو بھی بلا کسی معاوضے کے واپس لے کر آئے گی جو دیار غیر میں وفات پاگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے اور قومی ادارے مصیبت کے وقت میں خاندان کے فرد کی مانند پاکستان کی خدمت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122027/"&gt;'امریکا اور پاکستان کے مابین براہ راست پروازیں شروع کرنے کا فوری کوئی منصوبہ نہیں'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک پھنسے آخری پاکستانی کی وطن واپسی تک پی آئی اے کا فضائی آپریشن جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نے کہا کہ براہ راست پروازوں کی اجازت ملنا ملک کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری، حکومتی پالیسی اور پی آئی اے کے سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ذاتی طور پر امریکا سے پروازیں چلانے اور وہاں پھنسے پاکستانیوں کو جلد از جلد وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان پی آئی اے کے مطابق سی ای او ارشد ملک نے اس ضمن میں خصوصی طور پر وزیر اعظم پاکستان، وزیر ہوا بازی اور وزارت خارجہ کے تعاون اور کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا کے لیے براہ راست پروازیں چلانے کی اجازت مل گئی۔</p>

<p>امریکی ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن سے جاری مراسلے کے مطابق اجازت کا اطلاق 29 اپریل 2020 سے ہوگا اور جس کی مدت 29 اپریل 2021 تک ہے، پی آئی اے اس دوران ایک درجن 2 طرفہ یا یکطرفہ مسافر اور مال بردار پروازیں چلا سکتی ہے۔</p>

<p>اس ضمن میں ترجمان پی آئی اے نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا میں ہونے والے 11 ستمبر کے حملوں سے پہلے پی آئی اے کے طیاروں میں امریکا کی براہ راست پرواز کی صلاحیت نہیں تھی اس لیے انہیں کہیں نہ کہیں رکنا پڑتا تھا۔</p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکا نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر براہِ راست پروازوں کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔</p>

<p>مراسلے کے مطابق پی آئی اے مسافر یا مال بردار پرواز سے قبل یا پرواز کے بعد 5 روز کے اندر تحریری طور پر امریکی ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کو آگاہ کرنے کی پابند ہوگی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1128165">امریکا میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے پروازوں کی اجازت طلب</a></strong></p>

<p>اگر پی آئی اے کو پاکستان سے باہر کسی جگہ سے پرواز چلانی ہوئی تو تحریری طور پر ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کو 3 دن قبل روٹ کے حوالے سے آگاہ کرنا ہوگا۔</p>

<p>اسی طرح اگر ایئرلائن پاکستان کے باہر کسی ایئرپورٹ سے اڑان بھرے گی تو اسے ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ سے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنی ہوگی، مزید یہ کہ جو طیارہ امریکا کے لیے اڑان بھرے اس کے پاس ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کی مجازی دستاویز ہونا لازم ہے۔</p>

<p>ان شرائط کے علاوہ پی آئی اے متعلقہ امریکی محکموں بشمول فیڈرل ایڈمنسٹریشن اور انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے معیارات اور قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی پابند ہوگی۔</p>

<p>اسی طرح ایئرلائن کو امریکی حکومت کی سیکیورٹی کی شرائط پر بھی عملدرآمد کرنا ہوگا۔</p>

<p>مراسلے کے مطابق امریکا میں جن 2 طیاروں کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے وہ یہ ہیں:</p>

<ul>
<li>بوئینگ ماڈل نمبر B777-240LR، سیریل نمبر 33781 رجسٹریشن نمبر AP-BGY</li>
<li>بوئینگ ماڈل نمبر B777-240LR، سیریل نمبر 33782 رجسٹریشن نمبر AP-BGZ</li>
</ul>

<p>یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان نے امریکا سے کورونا وائرس وبا کے باعث وہاں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے پی آئی اے کی خصوصی پروازیں چلانے کی اجازت مانگی تھی۔</p>

<p>اس سلسلے میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد ملک نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کو خصوصی پروازیں چلانے کی اجازت کے لیے خط بھی لکھا تھا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ کووِڈ 19 وبا نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے کہ جس نے دونوں ممالک کے پھنسے ہوئے شہریوں کی واپسی کے لیے فوری فضائی سروس کو ضروری بنادیا ہے، اس لیے پی آئی اے امریکا کے لیے پروازوں کی بحالی کی منظوری مانگ رہی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1118930/">امریکا کیلئے پی آئی اے کی براہ راست پروازیں بحال ہونے کا امکان</a></strong> </p>

<p>ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا تھا کہ پی آئی اے کے پاس ایک مستند فارن کیریئر پرمٹ ہے اور اپنے قانونی نمائندوں کے ذریعے امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن میں نئی سیکیورٹی اتھارٹی کے لیے درخواست بھی جمع کروائی گئی ہے۔</p>

<p>یاد رہے کہ پی آئی اے نے کبھی بھی براہ راست پاکستان سے امریکا کی پروازیں نہیں چلائیں بلکہ براہ راست پروازوں کی اجازت نہ ہونے کے باعث اس کی پروازیں یورپ یا برطانیہ کے ائیرپورٹس سے سیکیورٹی کلئیرنس حاصل کر کے جاتی تھیں۔ </p>

<p>امریکا کے لیے براہِ راست پروازوں کی اجازت ملنے کے حوالے سے ایئر مارشل ارشد ملک کا کہنا تھا کہ پی آئی اے امریکا کی ریلیف پروازیں چلائے گی جہاں ہزاروں پاکستانی پروازوں کے منتظر ہیں۔</p>

<p>سی ای او کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ان پاکستانیوں کی میتوں کو بھی بلا کسی معاوضے کے واپس لے کر آئے گی جو دیار غیر میں وفات پاگئے۔</p>

<p>ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے اور قومی ادارے مصیبت کے وقت میں خاندان کے فرد کی مانند پاکستان کی خدمت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122027/">'امریکا اور پاکستان کے مابین براہ راست پروازیں شروع کرنے کا فوری کوئی منصوبہ نہیں'</a></strong></p>

<p>انہوں نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک پھنسے آخری پاکستانی کی وطن واپسی تک پی آئی اے کا فضائی آپریشن جاری رہے گا۔</p>

<p>اس ضمن میں ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نے کہا کہ براہ راست پروازوں کی اجازت ملنا ملک کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری، حکومتی پالیسی اور پی آئی اے کے سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کی عکاس ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ذاتی طور پر امریکا سے پروازیں چلانے اور وہاں پھنسے پاکستانیوں کو جلد از جلد وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے۔</p>

<p>ترجمان پی آئی اے کے مطابق سی ای او ارشد ملک نے اس ضمن میں خصوصی طور پر وزیر اعظم پاکستان، وزیر ہوا بازی اور وزارت خارجہ کے تعاون اور کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1128914</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2020 17:48:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیرویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5eaa947fc68f4.jpg?r=634807736" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5eaa947fc68f4.jpg?r=1787545652"/>
        <media:title>پی آئی اے نے کبھی بھی براہ راست پاکستان سے امریکا کی پروازیں نہیں چلائیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
