<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:50:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:50:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئل کمپنیوں کے منافع کمانے کے باعث ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قلت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1129434/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی بنیاد پر مالیاتی فوائد حاصل کرنے کی چالوں کے باعث گندم کی کٹائی کے عروج کے موقع پر ملک کے بیشتر حصوں میں پیٹرولیم مصنوعات بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1554358/oil-firms-make-windfall-profits-cause-hsd-shortage"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ زرعی شعبے میں فصل کی کٹائی کے باعث طلب میں اضافے، لاک ڈاؤن میں نرمی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے فروخت کے دباؤ کی وجہ سے مئی کے ابتدائی 3 روز میں خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، شمالی علاقہ جات کے علاوہ سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی قلت دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آئل اینڈ پیٹرولیم کے حکام مبینہ طور پر درآمدی آرڈرز کے شیڈول میں اپنی پسندیدہ کمپنی کے ’بحری جہاز کو برتھ سے لگانے‘ کی اجازت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1128998"&gt;پیٹرولیم مصنوعات میں 30 روپے تک کمی، پیٹرول 15 روپے سستا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چناچہ جو کچھ ہورہا ہے اس میں متعلقہ سینئر افسران اور ان کے سیاسی سربراہان ابھرتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنے کے خواہشمند پائے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک عہدیدار نے کہا کہ کچھ آئل کمپنیوں نے اپریل کے آخری چند روز میں اپنے بحری جہاز آف لوڈ کیے تھے اور کسٹم کلیئرنس پوائنٹ پر ہائی اسپیڈ ڈیز کے لیے 15.49 روپے اور پیٹرول کے لیے 17.26 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم انہوں نے اپنی مصنوعات ریٹیل پوائنٹس پر منتقل نہیں کیں اور انہیں وائٹ آئل پائپ لائنز اور اپنے ڈپوز میں جمع کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ حکومت کی جانب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی بڑھا کر 30 روپے اور پیٹرول پر 24 روپے فی لیٹر کرنے کے بعد آئل کمپنیاں مئی میں اپنی مصنوعات پر بالترتیب 14 روپے 50 پیسے اور 7 روپے فی لیٹر کما سکیں گی اور صرف چند روز میں تقریباً ایک ارب روپے جمع کرلیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123625"&gt;معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے ملک کے مختلف حصوں میں ’خشک صورتحال‘ کی نشاندہی کی ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے 21 دن کا اسٹاک لازمی رکھنے کی شرط پوری کرنے کے بجائے صرف 2 سے 3 دن کا اسٹاک رکھا جو قیمت میں تبدیلی کے بعد فوری طور پر ختم کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باعث مئی کے ابتدائی 2 روز میں خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملکی ضرورت کے 15 روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کا کافی اسٹاک دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پی ایس او کا کہنا تھا کہ اسٹاک کسی کام کا نہیں کیوں کہ زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات بندرگاہوں یا ذخائر میں ہیں اور فوری طور پر مارکیٹ میں پہنچائی نہیں جاسکتیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121504"&gt;پیٹرولیم لیوی 106 فیصد تک بڑھادی گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ایس او نے حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بروقت ممکنہ قلت کی نشاندہی کے باوجود تیل کی درآمد منسوخ کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ایس او کا مزید کہنا تھا کہ ’کچھ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مقامی ریفائنریز سے مصنوعات نہیں اٹھا رہیں اور منصوعات کی روزانہ کی مقدار کا احاطہ نہیں کررہیں‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی بنیاد پر مالیاتی فوائد حاصل کرنے کی چالوں کے باعث گندم کی کٹائی کے عروج کے موقع پر ملک کے بیشتر حصوں میں پیٹرولیم مصنوعات بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1554358/oil-firms-make-windfall-profits-cause-hsd-shortage">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ زرعی شعبے میں فصل کی کٹائی کے باعث طلب میں اضافے، لاک ڈاؤن میں نرمی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے فروخت کے دباؤ کی وجہ سے مئی کے ابتدائی 3 روز میں خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، شمالی علاقہ جات کے علاوہ سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی قلت دیکھنے میں آئی۔</p>

<p>دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آئل اینڈ پیٹرولیم کے حکام مبینہ طور پر درآمدی آرڈرز کے شیڈول میں اپنی پسندیدہ کمپنی کے ’بحری جہاز کو برتھ سے لگانے‘ کی اجازت دے رہے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1128998">پیٹرولیم مصنوعات میں 30 روپے تک کمی، پیٹرول 15 روپے سستا</a></strong></p>

<p>چناچہ جو کچھ ہورہا ہے اس میں متعلقہ سینئر افسران اور ان کے سیاسی سربراہان ابھرتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنے کے خواہشمند پائے گئے۔</p>

<p>مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک عہدیدار نے کہا کہ کچھ آئل کمپنیوں نے اپریل کے آخری چند روز میں اپنے بحری جہاز آف لوڈ کیے تھے اور کسٹم کلیئرنس پوائنٹ پر ہائی اسپیڈ ڈیز کے لیے 15.49 روپے اور پیٹرول کے لیے 17.26 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی ادا کیا تھا۔</p>

<p>تاہم انہوں نے اپنی مصنوعات ریٹیل پوائنٹس پر منتقل نہیں کیں اور انہیں وائٹ آئل پائپ لائنز اور اپنے ڈپوز میں جمع کرلیا۔</p>

<p>چنانچہ حکومت کی جانب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی بڑھا کر 30 روپے اور پیٹرول پر 24 روپے فی لیٹر کرنے کے بعد آئل کمپنیاں مئی میں اپنی مصنوعات پر بالترتیب 14 روپے 50 پیسے اور 7 روپے فی لیٹر کما سکیں گی اور صرف چند روز میں تقریباً ایک ارب روپے جمع کرلیں گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123625">معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ</a></strong> </p>

<p>دوسری جانب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے ملک کے مختلف حصوں میں ’خشک صورتحال‘ کی نشاندہی کی ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے 21 دن کا اسٹاک لازمی رکھنے کی شرط پوری کرنے کے بجائے صرف 2 سے 3 دن کا اسٹاک رکھا جو قیمت میں تبدیلی کے بعد فوری طور پر ختم کردیا۔</p>

<p>پیٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باعث مئی کے ابتدائی 2 روز میں خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>

<p>ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملکی ضرورت کے 15 روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کا کافی اسٹاک دستیاب ہے۔</p>

<p>دوسری جانب پی ایس او کا کہنا تھا کہ اسٹاک کسی کام کا نہیں کیوں کہ زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات بندرگاہوں یا ذخائر میں ہیں اور فوری طور پر مارکیٹ میں پہنچائی نہیں جاسکتیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121504">پیٹرولیم لیوی 106 فیصد تک بڑھادی گئی</a></strong></p>

<p>پی ایس او نے حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بروقت ممکنہ قلت کی نشاندہی کے باوجود تیل کی درآمد منسوخ کی۔</p>

<p>پی ایس او کا مزید کہنا تھا کہ ’کچھ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مقامی ریفائنریز سے مصنوعات نہیں اٹھا رہیں اور منصوعات کی روزانہ کی مقدار کا احاطہ نہیں کررہیں‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1129434</guid>
      <pubDate>Mon, 04 May 2020 14:21:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/05/5eafaab615336.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/05/5eafaab615336.jpg"/>
        <media:title>پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بروقت ممکنہ قلت کی نشاندہی کے باوجود تیل کی درآمد منسوخ کی—فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
