<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:51:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:51:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آنکھیں کوورونا وائرس کے لیے اہم گزرگاہ قرار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1130435/</link>
      <description>&lt;p&gt;آنکھیں انسانی جسم میں کورونا وائرس کے داخلے کے لیے اہم گزرگاہ ثابت ہوتی ہیں جبکہ یہ جراثیم سارس وائرس کے مقابلے میں سوگنا زیادہ متعدی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://www.scmp.com/news/hong-kong/health-environment/article/3083394/university-hong-kong-study-finds-eyes-are"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں سامنے آءی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1124376' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ 19 کا باعث بننے والے کورونا وائرس پر لیبارٹری ٹیسٹوں میں انکشاف ہوا کہ یہ بالائی نظام تنفس، آںکھوں کی سطح کے خلیات میں سارس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جریدے دی لانسیٹ ریسیپٹری میڈیسین میں شائع تحقیق میں پہلی بار شواہد فراہم کیے گئے کہ یہ وائرس انسانوں کو دونوں داخلے کے مقامات سے بیمار کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ہم نے انسانی نظام تنفس کی نالی اور آنکھوں کے ٹشوز کا معائنہ لیبارٹری میں کیا اور نئے نوول کورونا وائرس کا موازنہ سارس اور ایچ 5 این 1 سے کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ نیا وائرس آنکھوں کی جھلی اور بالائی نظام تنفس کو سار کے مقابلے میں 80 سے سو فیصد زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سے سارس کے مقابلے میں کووڈ 19 کے بہت زیادہ پھیلنے کی بھی وضاحت ہوتی ہے جبکہ نتائج سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ آنکھیں بھی انسانوں کو متاثر کرنے کے لیے اس وائرس کی اہم گزرگاہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج سے عالمی ادارہ صحت کے اس مشورے کی اہمیت واضح ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں جبکہ ہاتھوں کو اکثر دھونا عادت بنالیں تاکہ انفیکشن سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے پہلے ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ وائرس اسٹین لیس اسٹیل اور پلاسٹک کی سطح پر ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایسے آثار موجود ہیں کہ ہانگ کانگ میں اس وبا کی صورتحال قابو میں آچکی ہے مگر دنیا کے دیگر حصوں میں صورتحال تاحال سنجیدہ ہے، روزانہ متعدد کیسز کی تصدیق ہورہی ہے تو ہمیں لاپرواہی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے کو ماسکس اور حفاظتی ملبوسات کے ساتھ ساتھ خاص گلاسز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1127850"&gt;&lt;strong&gt;اس سے پہلے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کہ چین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون میں نزلہ اور کھانسی جیسی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں البتہ ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی، جس کے بعد معلوم ہوا کہ اس وائرس نے ان کی آنکھ کو متاثر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کورونا وائرس دیگر جسمانی اعضاء کی نسبت آنکھ میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ خاتون جن کی آنکھوں کو اس وائرس نے متاثر کیا ان کی عمر 65 سال ہے، وہ اٹلی سے چین کے شہر ووہان پہنچی تھی جہاں ان میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1129662' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/05/5eb401ee98234.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/05/5eb401ee98234.png 262w, https://i.dawn.com/large/2020/05/5eb401ee98234.png 262w, https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eb401ee98234.png 262w' sizes='(min-width: 992px)  262px, (min-width: 768px)  262px,  262px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق انہوں نے رواں سال 27 جنوری کو طبیعت کی خرابی کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کیا تھا، خاتون نے بتایا تھا کہ انہیں کھانسی اور بخار ہونے کے ساتھ ساتھ آنکھ میں انفیکشن بھی ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہسپتال میں 20 روز گزارنے کے بعد ان کی آنکھ کا انفیکشن تو ختم ہوگیا البتہ اس کے اگلے روز پتا چلا کہ کورونا وائرس نے ان کی آنکھ کو بھی متاثر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دن کے بعد سے ان میں وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں تاہم 27ویں روز ہسپتال میں دوبارہ ان کی آنکھ میں وائرس کو دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صحت مند نظر آنے کے باوجود یہ وائرس کسی بھی شخص میں موجود ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آنکھیں انسانی جسم میں کورونا وائرس کے داخلے کے لیے اہم گزرگاہ ثابت ہوتی ہیں جبکہ یہ جراثیم سارس وائرس کے مقابلے میں سوگنا زیادہ متعدی ہے۔</p>

<p>یہ بات ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://www.scmp.com/news/hong-kong/health-environment/article/3083394/university-hong-kong-study-finds-eyes-are">تحقیق</a> میں سامنے آءی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1124376' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کووڈ 19 کا باعث بننے والے کورونا وائرس پر لیبارٹری ٹیسٹوں میں انکشاف ہوا کہ یہ بالائی نظام تنفس، آںکھوں کی سطح کے خلیات میں سارس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>جریدے دی لانسیٹ ریسیپٹری میڈیسین میں شائع تحقیق میں پہلی بار شواہد فراہم کیے گئے کہ یہ وائرس انسانوں کو دونوں داخلے کے مقامات سے بیمار کرسکتا ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ہم نے انسانی نظام تنفس کی نالی اور آنکھوں کے ٹشوز کا معائنہ لیبارٹری میں کیا اور نئے نوول کورونا وائرس کا موازنہ سارس اور ایچ 5 این 1 سے کیا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ نیا وائرس آنکھوں کی جھلی اور بالائی نظام تنفس کو سار کے مقابلے میں 80 سے سو فیصد زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اس سے سارس کے مقابلے میں کووڈ 19 کے بہت زیادہ پھیلنے کی بھی وضاحت ہوتی ہے جبکہ نتائج سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ آنکھیں بھی انسانوں کو متاثر کرنے کے لیے اس وائرس کی اہم گزرگاہ ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج سے عالمی ادارہ صحت کے اس مشورے کی اہمیت واضح ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں جبکہ ہاتھوں کو اکثر دھونا عادت بنالیں تاکہ انفیکشن سے بچ سکیں۔</p>

<p>اس سے پہلے ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ وائرس اسٹین لیس اسٹیل اور پلاسٹک کی سطح پر ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتا ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایسے آثار موجود ہیں کہ ہانگ کانگ میں اس وبا کی صورتحال قابو میں آچکی ہے مگر دنیا کے دیگر حصوں میں صورتحال تاحال سنجیدہ ہے، روزانہ متعدد کیسز کی تصدیق ہورہی ہے تو ہمیں لاپرواہی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے کو ماسکس اور حفاظتی ملبوسات کے ساتھ ساتھ خاص گلاسز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔</p>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1127850"><strong>اس سے پہلے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا</strong></a> کہ چین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون میں نزلہ اور کھانسی جیسی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں البتہ ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی، جس کے بعد معلوم ہوا کہ اس وائرس نے ان کی آنکھ کو متاثر کیا تھا۔</p>

<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کورونا وائرس دیگر جسمانی اعضاء کی نسبت آنکھ میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔</p>

<p>وہ خاتون جن کی آنکھوں کو اس وائرس نے متاثر کیا ان کی عمر 65 سال ہے، وہ اٹلی سے چین کے شہر ووہان پہنچی تھی جہاں ان میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1129662' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/05/5eb401ee98234.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/05/5eb401ee98234.png 262w, https://i.dawn.com/large/2020/05/5eb401ee98234.png 262w, https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eb401ee98234.png 262w' sizes='(min-width: 992px)  262px, (min-width: 768px)  262px,  262px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>رپورٹ کے مطابق انہوں نے رواں سال 27 جنوری کو طبیعت کی خرابی کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کیا تھا، خاتون نے بتایا تھا کہ انہیں کھانسی اور بخار ہونے کے ساتھ ساتھ آنکھ میں انفیکشن بھی ہوگیا ہے۔</p>

<p>ہسپتال میں 20 روز گزارنے کے بعد ان کی آنکھ کا انفیکشن تو ختم ہوگیا البتہ اس کے اگلے روز پتا چلا کہ کورونا وائرس نے ان کی آنکھ کو بھی متاثر کیا تھا۔</p>

<p>اس دن کے بعد سے ان میں وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں تاہم 27ویں روز ہسپتال میں دوبارہ ان کی آنکھ میں وائرس کو دریافت کیا گیا۔</p>

<p>رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صحت مند نظر آنے کے باوجود یہ وائرس کسی بھی شخص میں موجود ہوسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1130435</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2020 01:43:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/05/5eb860d7d0a68.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/05/5eb860d7d0a68.jpg"/>
        <media:title>ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
