<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 13:22:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 13:22:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ 19 پر غلط معلومات کی روک تھام کیلئے ٹوئٹر کا نیا اقدام
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1130664/</link>
      <description>&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ 19 کے حوالے سے غلط معلومات یا تنازعات پر مبنی کچھ ٹوئٹس پر لیبلز اور وارننگ پیغامات کا اضافہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد اس سوشل میڈیا نیٹ ورک میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور اس کا اطلاق بتدریج دیگر موضوعات پر بھی کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئٹر کے نئے لیبلز میں مزید معلومات کے لیے لنکس بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ لوگ الجھن یا غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی نے ایک &lt;a href="https://blog.twitter.com/en_us/topics/product/2020/updating-our-approach-to-misleading-information.html"&gt;بلاگ&lt;/a&gt; میں بتایا کہ یہ لیبلز ایسے ٹوئٹس میں لگائے جائیں گے جن سے زیادہ نقصان پہنچنے کا امکان نہیں ہوگا اور اس لیے ڈیلیٹ بھی نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی نے مزید بتایا کہ ٹوئٹس کے مواد کے مطابق انتباہ کا اضافہ کیا جائے گا جن میں کہا جائے گا کہ یہ ٹوئٹ عوامی طبی ماہرین کی رہنمائی سے متضاد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eba92afc1c41.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/05/5eba92afc1c41.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/05/5eba92afc1c41.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eba92afc1c41.jpg 920w' sizes='(min-width: 992px)  920px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ ٹوئٹر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پالیسی کا اطلاق ان ٹوئٹس پر بھی ہوگا جو اس اعلان سے قبل پوسٹ ہوچکے ہوں گے اور تمام صارفین کی پوسٹس پر عملدرآمد ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹس جیسے ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر کووڈ 19 کی وبا کے حوالے سے جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسے فرضی دعویٰ بھی سوشل میڈیا سائٹس پر کیے جاتے ہیں جن میں سازشی خیالات ظاہر کیے جاتے ہیں جیسے مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس یا فائیو جی موبائل ٹیکنالوجی اس وائرس کے پیچھے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک نے اس حوالے سے تھرڈ پارٹی حقائق جانچنے والے شراکت داروں سے مدد لی ہے اور اس حوالے سے سائٹ پر شائع مواد میں لیبلز کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یوٹیوب کا کہنا ہے کہ وہ انفارمیشن پینلز کو تھرڈ پارٹی کو دکھانے کا آغاز امریکا میں کرچکی ہے تاکہ اس طرح کے خیالات کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اس کی نئی پالیسی یعنی لیبلز زیادہ تیزی سے کام کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eba92af5ab8c.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/05/5eba92af5ab8c.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/05/5eba92af5ab8c.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eba92af5ab8c.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ ٹوئٹر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئٹر کے پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر نک پکلز کا کہنا تھا کہ ہماری حکمت عملی دوسروں سے اس لیے مختلف ہے کیونکہ ہمیں کسی تھرڈ پارٹی کا انتظار نہیں کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق غیرمصدقہ معلومات پر مبنی ٹوئٹس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا بلکہ انتباہ یا لیبلز لگا کر دعوؤں کی تردید کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ 19 کے حوالے سے غلط معلومات یا تنازعات پر مبنی کچھ ٹوئٹس پر لیبلز اور وارننگ پیغامات کا اضافہ کیا جائے گا۔</p>

<p>اس اقدام کا مقصد اس سوشل میڈیا نیٹ ورک میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور اس کا اطلاق بتدریج دیگر موضوعات پر بھی کیا جائے گا۔</p>

<p>ٹوئٹر کے نئے لیبلز میں مزید معلومات کے لیے لنکس بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ لوگ الجھن یا غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔</p>

<p>کمپنی نے ایک <a href="https://blog.twitter.com/en_us/topics/product/2020/updating-our-approach-to-misleading-information.html">بلاگ</a> میں بتایا کہ یہ لیبلز ایسے ٹوئٹس میں لگائے جائیں گے جن سے زیادہ نقصان پہنچنے کا امکان نہیں ہوگا اور اس لیے ڈیلیٹ بھی نہیں کیا جائے گا۔</p>

<p>کمپنی نے مزید بتایا کہ ٹوئٹس کے مواد کے مطابق انتباہ کا اضافہ کیا جائے گا جن میں کہا جائے گا کہ یہ ٹوئٹ عوامی طبی ماہرین کی رہنمائی سے متضاد ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eba92afc1c41.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/05/5eba92afc1c41.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/05/5eba92afc1c41.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eba92afc1c41.jpg 920w' sizes='(min-width: 992px)  920px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ ٹوئٹر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ ٹوئٹر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس پالیسی کا اطلاق ان ٹوئٹس پر بھی ہوگا جو اس اعلان سے قبل پوسٹ ہوچکے ہوں گے اور تمام صارفین کی پوسٹس پر عملدرآمد ہوگا۔</p>

<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹس جیسے ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر کووڈ 19 کی وبا کے حوالے سے جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔</p>

<p>ایسے فرضی دعویٰ بھی سوشل میڈیا سائٹس پر کیے جاتے ہیں جن میں سازشی خیالات ظاہر کیے جاتے ہیں جیسے مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس یا فائیو جی موبائل ٹیکنالوجی اس وائرس کے پیچھے ہیں۔</p>

<p>فیس بک نے اس حوالے سے تھرڈ پارٹی حقائق جانچنے والے شراکت داروں سے مدد لی ہے اور اس حوالے سے سائٹ پر شائع مواد میں لیبلز کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔</p>

<p>یوٹیوب کا کہنا ہے کہ وہ انفارمیشن پینلز کو تھرڈ پارٹی کو دکھانے کا آغاز امریکا میں کرچکی ہے تاکہ اس طرح کے خیالات کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔</p>

<p>ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اس کی نئی پالیسی یعنی لیبلز زیادہ تیزی سے کام کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eba92af5ab8c.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/05/5eba92af5ab8c.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/05/5eba92af5ab8c.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/05/5eba92af5ab8c.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ ٹوئٹر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ ٹوئٹر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ٹوئٹر کے پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر نک پکلز کا کہنا تھا کہ ہماری حکمت عملی دوسروں سے اس لیے مختلف ہے کیونکہ ہمیں کسی تھرڈ پارٹی کا انتظار نہیں کرنا ہوگا۔</p>

<p>کمپنی کے مطابق غیرمصدقہ معلومات پر مبنی ٹوئٹس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا بلکہ انتباہ یا لیبلز لگا کر دعوؤں کی تردید کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1130664</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2020 17:27:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/05/5eba92afbb4f5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/05/5eba92afbb4f5.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
