<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 12:47:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 12:47:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی اقوامِ متحدہ میں او آئی سی کا غیر رسمی گروپ تشکیل دینے کی کوشش ناکام
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1132360/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد:متحدہ عرب امارات اور مالدیپ نے پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں اسلاموفوبیا پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سفیروں کا ایک غیر رسمی گروپ تشکیل دینے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ایک سینئر سفارتکار نے ڈان کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم  نے اقوامِ متحدہ میں او آئی سی اراکین کے سفیروں کے ایک وِرچووَل اجلاس میں اسلاموفوبیا کا معاملہ اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1559589/pakistani-bid-to-form-group-of-oic-envoys-at-un-foiled"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ اجلاس او آئی سی سفیروں کا معمول کا اجلاس تھا جس میں دیگر معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104490"&gt;او آئی سی کا اسلاموفوبیا سے نمٹنے، کشمیر کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کے مندوب نے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار کو بطور خاص اجاگر کیا جنہی بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اجلاس میں بتایا کہ کورونا وائرس کے دوران بھارت میں اسلاموفوبیا میں مزید اضافہ ہوا جبکہ ساتھ ہی انہوں نے مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات مثلاً وہاں غیر کشمیریوں کو مستقل رہائش کی اجازت جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مندوب منیر اکرم نے او آئی سی اجلاس کے اراکین کو بھارت سے دھوکا کھانے کے حوالے سے بھی خبردار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ اقدامات پر غور کرنے کے لیے او آئی سی ممالک کا ایک گروپ قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1127768/"&gt;یو اے ای میں اسلاموفوبیا کے حامل بھارتی مشکلات کا شکار، سابق بھارتی سفیر کی صفائیاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم مالدیپ کے میڈیا کے مطابق ان کے مندوب تھیلمیذاہ حسین نے ’بھارت کو تنہا‘ کرنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پر اسلاموفوبیا کا الزام حقائق کے منافی اور جنوبی ایشیا میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اجلاس کی سربراہی کرنے والے متحدہ عرب امارات کے سفیر نے اسلاموفوبیا پر غیر رسمی گروہ تشکیل دینے کی پاکستان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا گروپ قائم کرنا او آئی سی کے وزرائے خارجہ گروپ کا استحقاق ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اقوامِ متحدہ میں تعینات پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اس قسم کا گروپ تشکیل دینا او آئی سی کی سطح پر بھی ایک معمول کی بات ہے جسے سفیر تشکیل دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111361"&gt;پاکستان، ترکی، ملائیشیا کا 'اسلاموفوبیا' کا مقابلہ کرنے کیلئے چینل شروع کرنے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منیر اکرم کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے گروپس لابی کی کوششوں میں مدد، ایک پریشر گروپ کے طور پر کام اور اکٹھا قرار داد پیش کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا تھا بعد میں اقوامِ متحدہ میں یو اے ای مشن نے پاکستانی مشن کو بتایا کہ اس قسم کا گروپ قائم کرنے کے قواعد میں الجھن کی وجہ سے اس طرح کا گروپ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد:متحدہ عرب امارات اور مالدیپ نے پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں اسلاموفوبیا پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سفیروں کا ایک غیر رسمی گروپ تشکیل دینے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔</p>

<p>اس حوالے سے ایک سینئر سفارتکار نے ڈان کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم  نے اقوامِ متحدہ میں او آئی سی اراکین کے سفیروں کے ایک وِرچووَل اجلاس میں اسلاموفوبیا کا معاملہ اجاگر کیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1559589/pakistani-bid-to-form-group-of-oic-envoys-at-un-foiled">رپورٹ</a></strong> کے مطابق یہ اجلاس او آئی سی سفیروں کا معمول کا اجلاس تھا جس میں دیگر معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104490">او آئی سی کا اسلاموفوبیا سے نمٹنے، کشمیر کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ</a></strong></p>

<p>پاکستان کے مندوب نے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار کو بطور خاص اجاگر کیا جنہی بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>

<p>انہوں نے اجلاس میں بتایا کہ کورونا وائرس کے دوران بھارت میں اسلاموفوبیا میں مزید اضافہ ہوا جبکہ ساتھ ہی انہوں نے مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات مثلاً وہاں غیر کشمیریوں کو مستقل رہائش کی اجازت جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔</p>

<p>مندوب منیر اکرم نے او آئی سی اجلاس کے اراکین کو بھارت سے دھوکا کھانے کے حوالے سے بھی خبردار کیا۔</p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ اقدامات پر غور کرنے کے لیے او آئی سی ممالک کا ایک گروپ قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1127768/">یو اے ای میں اسلاموفوبیا کے حامل بھارتی مشکلات کا شکار، سابق بھارتی سفیر کی صفائیاں</a></strong></p>

<p>تاہم مالدیپ کے میڈیا کے مطابق ان کے مندوب تھیلمیذاہ حسین نے ’بھارت کو تنہا‘ کرنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پر اسلاموفوبیا کا الزام حقائق کے منافی اور جنوبی ایشیا میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔</p>

<p>دوسری جانب اجلاس کی سربراہی کرنے والے متحدہ عرب امارات کے سفیر نے اسلاموفوبیا پر غیر رسمی گروہ تشکیل دینے کی پاکستان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا گروپ قائم کرنا او آئی سی کے وزرائے خارجہ گروپ کا استحقاق ہے۔</p>

<p>تاہم اقوامِ متحدہ میں تعینات پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اس قسم کا گروپ تشکیل دینا او آئی سی کی سطح پر بھی ایک معمول کی بات ہے جسے سفیر تشکیل دے سکتے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111361">پاکستان، ترکی، ملائیشیا کا 'اسلاموفوبیا' کا مقابلہ کرنے کیلئے چینل شروع کرنے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>منیر اکرم کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے گروپس لابی کی کوششوں میں مدد، ایک پریشر گروپ کے طور پر کام اور اکٹھا قرار داد پیش کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا تھا بعد میں اقوامِ متحدہ میں یو اے ای مشن نے پاکستانی مشن کو بتایا کہ اس قسم کا گروپ قائم کرنے کے قواعد میں الجھن کی وجہ سے اس طرح کا گروپ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1132360</guid>
      <pubDate>Wed, 27 May 2020 11:45:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/05/5ecddda09b0d8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/05/5ecddda09b0d8.jpg"/>
        <media:title>یہ اجلاس او آئی سی سفیروں کا معمول کا اجلاس تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
