<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:44:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:44:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہانگ کانگ میں سیاسی بحران: چین کےخلاف احتجاج پر 300 افراد گرفتار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1132459/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہانگ کانگ میں پولیس نے چین کی جانب سے قومی سلامتی کے متنازع قانون کے خلاف جاری مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران کم از کم 300 افراد کو گرفتار کرلیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہےکہ چین نے اپنے سالانہ پارلیمانی اجلاس میں ہانگ کانگ کے لیے قومی سلامتی کے قانون کی تجویز پیش کرنے کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114400"&gt;ہانگ کانگ میں پولیس کی احتجاج کرنے والے شخص پر براہ راست فائرنگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق پولیس نے مظاہرین اور ہجوم پر کالی مرچ کے اسپرے کیے، طلبہ سمیت مکینوں کو روکا اور تلاشی لی اور مشتبہ مظاہرین کو گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منصوبہ بندی کے تحت ہونے والے مظاہروں کو روکنے کی کوشش میں ہزاروں مسلح پولیس اہلکار سڑکوں پر موجود تھے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مظاہرین چین کے قومی ترانے کی تضحیک اور مجوزہ قانون کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کی عمارت کے آس پاس سڑکوں پر بیٹھ گئے اور آمد و رفت معطل کردی۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/HongKongFP/status/1265519538155728896?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1265519538155728896&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.theguardian.com%2Fworld%2F2020%2Fmay%2F27%2Fhong-kong-trump-china-security-crackdown-protests"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ مذکورہ کونسل میں قانون ساز چین کے ترانے کے قانون پر بحث و مباحثے کر رہے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;احتجاج کے منتظمین نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو ’پانی‘ کی صورت میں پورے شہر میں چلتے رہنے کی تاکید کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114334"&gt;چین کا ہانگ کانگ میں سخت سیکیورٹی قوانین لانے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اعتراف کیا کہ گرفتاری کے خطرے کے بغیر ترانے سے متعلق متنازع قانون پر بحث کو روکنا مشکل ہوگا لیکن آپ کم از کم بیان دے سکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں دوپہر کے کھانے کے بعد مظاہرین دوبارہ جمع ہوگئے اور مونگ کوک میں اسکول کے بچوں سمیت 180 افراد کو حراست میں لیا گیا&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/XinqiSu/status/1265514988602626053"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پولیس نے مظاہرین پر ملبے کو نذر آتش کرنے اور اہلکاروں پر اشیا پھینکنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انہوں نے متعدد نوجوانوں کو پیٹرول بم اور ہتھیار رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران ہجوم نعرے لگا تے رہے کہ ’ہانگ کانگ کی آزادی واحد حل ہے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے مظاہرین اب حسان پلیس میں جمع ہوگئے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113128"&gt;ہانگ کانگ حکومت جھکنے پر مجبور، ملزمان حوالگی کے متنازع قانون سے دستبردار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;74 سالہ  خاتون نے کہا کہ 'یقیناً، مجھے اپنی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ہم کو مجبور کر رہے ہیں۔'&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/pakwayne/status/1265480167360614400?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1265480167360614400&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.theguardian.com%2Fworld%2F2020%2Fmay%2F27%2Fhong-kong-trump-china-security-crackdown-protests"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا جس کے بعد سے چین نے یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں 'ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ' اخبار نے ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ قوانین علیحدگی پسند، غیر ملکی مداخلت، دہشت گردی اور تمام تر اشتعال انگیز سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ہوں گے جس کا مقصد مرکزی حکومت کو گرانے اور سابق برطانوی کالونی میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو روکنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین میں خارجہ امور کے نائب وزیر نے کہا تھا کہ نئی صورتحال اور تقاضوں کے تحت نئے اقدامات ضروری ہیں اور بعض فیصلے قومی سطح پر لینا بہت ہی ضروری ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب غیر سرکاری تنظیم 'ہانگ کانگ واچ' کے ڈائریکٹر جانی پیٹرسن نے کہا تھا کہ ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سیکیورٹی سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ ’بے مثال اور انتہائی متنازع مداخلت ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا جس کے بعد سے چین نے یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہانگ کانگ میں پولیس نے چین کی جانب سے قومی سلامتی کے متنازع قانون کے خلاف جاری مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران کم از کم 300 افراد کو گرفتار کرلیا۔ </p>

<p>واضح رہےکہ چین نے اپنے سالانہ پارلیمانی اجلاس میں ہانگ کانگ کے لیے قومی سلامتی کے قانون کی تجویز پیش کرنے کا عندیہ دیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114400">ہانگ کانگ میں پولیس کی احتجاج کرنے والے شخص پر براہ راست فائرنگ</a></strong> </p>

<p>خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق پولیس نے مظاہرین اور ہجوم پر کالی مرچ کے اسپرے کیے، طلبہ سمیت مکینوں کو روکا اور تلاشی لی اور مشتبہ مظاہرین کو گرفتار کیا۔</p>

<p>منصوبہ بندی کے تحت ہونے والے مظاہروں کو روکنے کی کوشش میں ہزاروں مسلح پولیس اہلکار سڑکوں پر موجود تھے۔  </p>

<p>مظاہرین چین کے قومی ترانے کی تضحیک اور مجوزہ قانون کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کی عمارت کے آس پاس سڑکوں پر بیٹھ گئے اور آمد و رفت معطل کردی۔ </p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/HongKongFP/status/1265519538155728896?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1265519538155728896&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.theguardian.com%2Fworld%2F2020%2Fmay%2F27%2Fhong-kong-trump-china-security-crackdown-protests"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>واضح رہے کہ مذکورہ کونسل میں قانون ساز چین کے ترانے کے قانون پر بحث و مباحثے کر رہے تھے۔ </p>

<p>احتجاج کے منتظمین نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو ’پانی‘ کی صورت میں پورے شہر میں چلتے رہنے کی تاکید کی۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114334">چین کا ہانگ کانگ میں سخت سیکیورٹی قوانین لانے کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>انہوں نے اعتراف کیا کہ گرفتاری کے خطرے کے بغیر ترانے سے متعلق متنازع قانون پر بحث کو روکنا مشکل ہوگا لیکن آپ کم از کم بیان دے سکتے ہیں۔ </p>

<p>بعد ازاں دوپہر کے کھانے کے بعد مظاہرین دوبارہ جمع ہوگئے اور مونگ کوک میں اسکول کے بچوں سمیت 180 افراد کو حراست میں لیا گیا</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/XinqiSu/status/1265514988602626053"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسری جانب پولیس نے مظاہرین پر ملبے کو نذر آتش کرنے اور اہلکاروں پر اشیا پھینکنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انہوں نے متعدد نوجوانوں کو پیٹرول بم اور ہتھیار رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ </p>

<p>اس دوران ہجوم نعرے لگا تے رہے کہ ’ہانگ کانگ کی آزادی واحد حل ہے‘۔ </p>

<p>ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے مظاہرین اب حسان پلیس میں جمع ہوگئے ہیں۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113128">ہانگ کانگ حکومت جھکنے پر مجبور، ملزمان حوالگی کے متنازع قانون سے دستبردار</a></strong></p>

<p>74 سالہ  خاتون نے کہا کہ 'یقیناً، مجھے اپنی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ہم کو مجبور کر رہے ہیں۔'</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/pakwayne/status/1265480167360614400?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1265480167360614400&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.theguardian.com%2Fworld%2F2020%2Fmay%2F27%2Fhong-kong-trump-china-security-crackdown-protests"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا جس کے بعد سے چین نے یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کی ہے۔</p>

<p>اس ضمن میں 'ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ' اخبار نے ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ قوانین علیحدگی پسند، غیر ملکی مداخلت، دہشت گردی اور تمام تر اشتعال انگیز سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ہوں گے جس کا مقصد مرکزی حکومت کو گرانے اور سابق برطانوی کالونی میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو روکنا ہے۔</p>

<p>چین میں خارجہ امور کے نائب وزیر نے کہا تھا کہ نئی صورتحال اور تقاضوں کے تحت نئے اقدامات ضروری ہیں اور بعض فیصلے قومی سطح پر لینا بہت ہی ضروری ہوگئے ہیں۔</p>

<p>دوسری جانب غیر سرکاری تنظیم 'ہانگ کانگ واچ' کے ڈائریکٹر جانی پیٹرسن نے کہا تھا کہ ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سیکیورٹی سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ ’بے مثال اور انتہائی متنازع مداخلت ہے‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا جس کے بعد سے چین نے یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1132459</guid>
      <pubDate>Wed, 27 May 2020 22:54:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/05/5ece9a90957ca.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/05/5ece9a90957ca.jpg"/>
        <media:title>مذکورہ قانون نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
