<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:14:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:14:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طیارہ حادثہ: ورثا کو فی کس 50 لاکھ روپے ملیں گے، ترجمان پی آئی اے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1132718/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی ایئر پورٹ کے نزدیک گنجان آبادی میں کریش ہونے والا ہوائی جہاز اے 320 ایک کروڑ 97 لاکھ ڈالر (3 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد) میں انشورڈ تھا جس سے ہر مسافر کو 50 لاکھ روپے ملیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز(پی آئی اے) کے ترجمان عبداللہ ایچ خان نے ڈان کو بتایا کہ ’اے پی-بی ایل ڈی 2274 طیارے کے ڈھانچے کی انشورنس ایک کروڑ 97 لاکھ ڈالر تھی جسے پی آئی اے نے لیز پر حاصل کیا تھا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1560333/each-passenger-aboard-crashed-plane-insured-for-rs5m-pia"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ہوا بازی میں ’ڈھانچے کی انشورنش‘ طیارے کو پہنچے والے عملی نقصان کو پورا کرتی ہے چاہے نقصان زمین پر ہوا ہو یا فضا میں پہنچا ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ سرکاری کمپنی ہونے کی حیثیت سے نیشنل انشورنش کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) انشورر ہے اور مارش کمپنی انشورنس کی بروکر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132168"&gt;کراچی طیارہ حادثہ: فی مسافر 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، وزیرہوا بازی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اے آئی جی ری انشورر ہے، ری انشورر وہ کمپنی ہوتی ہے جو انشورنس کمپنی کو مالیاتی تحفظ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی آئی اے کی ویب سائٹ پر پوسٹ کردہ انشورنس سرٹیفکیٹ کے مطابق این آئی سی ایل 30 دسمبر 2019 سے 29 دسمبر 2020 تک کے لیے پی آئی اے کی ’ملکیت میں چلائے جانے والے‘ تمام طیاروں کے فلیٹ (بیڑے) کو انشورڈ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ سیلیسٹیکل ایوی ایشن ٹریڈنگ 34 لمیٹڈ آئر لینڈ کی ملکیت تھا جو پی آئی اے کے بجائے انشورنس کی رقم حاصل کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں طیارے کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132256"&gt;عید کے موقع پر طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین اشک بار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسافروں کے بارے میں ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ وہ بھی این آئی سی ایل سے 50 لاکھ روپے فی کس کے عوض انشورڈ تھے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہر مسافر کے اہلِ خانہ کو تدفین کے انتظامات کے لیے 10 لاکھ روپے دیے جارہے ہیں اور جاں بحق ہونے والوں کے قانونی ورثا کو 50 لاکھ روپے فی کس کی ادائیگی کی جائے گی'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے قانونی کارروائیاں پوری کرنے کے بعد ہر متاثرہ خاندان کی جانب سے کلیم جمع کروائے گی، ساتھ ہی  حویلیاں طیارہ حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آخری مرتبہ انشورنس کی رقم ملنے میں 5 سے 6 ماہ لگے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب طیارہ حادثے کی تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حکام کا کہنا تھا کہ ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن کی متاثرہ گلی کو ایک سے 2 روز میں کلیئر کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132317"&gt;طیارہ حادثے سے متاثرہ مکانات کے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے سروے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے بتایا تھا کہ طیارے کے ڈھانچے کو کراچی ایئرپورٹ کے خالی ہینگر میں لے جا کر تحقیقات کے لیے دوبارہ جوڑا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں صدر مملکت عارف علوی نے پی آئی اے کے چیف ایئر مارشل ارشد محمود ملک کو متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی ایئر پورٹ کے نزدیک گنجان آبادی میں کریش ہونے والا ہوائی جہاز اے 320 ایک کروڑ 97 لاکھ ڈالر (3 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد) میں انشورڈ تھا جس سے ہر مسافر کو 50 لاکھ روپے ملیں گے۔</p>

<p>پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز(پی آئی اے) کے ترجمان عبداللہ ایچ خان نے ڈان کو بتایا کہ ’اے پی-بی ایل ڈی 2274 طیارے کے ڈھانچے کی انشورنس ایک کروڑ 97 لاکھ ڈالر تھی جسے پی آئی اے نے لیز پر حاصل کیا تھا‘۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1560333/each-passenger-aboard-crashed-plane-insured-for-rs5m-pia">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ہوا بازی میں ’ڈھانچے کی انشورنش‘ طیارے کو پہنچے والے عملی نقصان کو پورا کرتی ہے چاہے نقصان زمین پر ہوا ہو یا فضا میں پہنچا ہو۔</p>

<p>ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ سرکاری کمپنی ہونے کی حیثیت سے نیشنل انشورنش کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) انشورر ہے اور مارش کمپنی انشورنس کی بروکر ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132168">کراچی طیارہ حادثہ: فی مسافر 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، وزیرہوا بازی</a></strong></p>

<p>دوسری جانب برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اے آئی جی ری انشورر ہے، ری انشورر وہ کمپنی ہوتی ہے جو انشورنس کمپنی کو مالیاتی تحفظ فراہم کرتی ہے۔</p>

<p>پی آئی اے کی ویب سائٹ پر پوسٹ کردہ انشورنس سرٹیفکیٹ کے مطابق این آئی سی ایل 30 دسمبر 2019 سے 29 دسمبر 2020 تک کے لیے پی آئی اے کی ’ملکیت میں چلائے جانے والے‘ تمام طیاروں کے فلیٹ (بیڑے) کو انشورڈ کیا تھا۔</p>

<p>حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ سیلیسٹیکل ایوی ایشن ٹریڈنگ 34 لمیٹڈ آئر لینڈ کی ملکیت تھا جو پی آئی اے کے بجائے انشورنس کی رقم حاصل کرے گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں طیارے کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132256">عید کے موقع پر طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین اشک بار</a></strong> </p>

<p>مسافروں کے بارے میں ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ وہ بھی این آئی سی ایل سے 50 لاکھ روپے فی کس کے عوض انشورڈ تھے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہر مسافر کے اہلِ خانہ کو تدفین کے انتظامات کے لیے 10 لاکھ روپے دیے جارہے ہیں اور جاں بحق ہونے والوں کے قانونی ورثا کو 50 لاکھ روپے فی کس کی ادائیگی کی جائے گی'۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے قانونی کارروائیاں پوری کرنے کے بعد ہر متاثرہ خاندان کی جانب سے کلیم جمع کروائے گی، ساتھ ہی  حویلیاں طیارہ حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آخری مرتبہ انشورنس کی رقم ملنے میں 5 سے 6 ماہ لگے تھے۔</p>

<p>دوسری جانب طیارہ حادثے کی تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حکام کا کہنا تھا کہ ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن کی متاثرہ گلی کو ایک سے 2 روز میں کلیئر کردیا جائے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132317">طیارہ حادثے سے متاثرہ مکانات کے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے سروے</a></strong></p>

<p>اس ضمن میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے بتایا تھا کہ طیارے کے ڈھانچے کو کراچی ایئرپورٹ کے خالی ہینگر میں لے جا کر تحقیقات کے لیے دوبارہ جوڑا جائے گا۔</p>

<p>علاوہ ازیں صدر مملکت عارف علوی نے پی آئی اے کے چیف ایئر مارشل ارشد محمود ملک کو متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1132718</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2020 11:28:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اظفرالاشفاق)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/05/5ed1d284c2f9e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/05/5ed1d284c2f9e.jpg"/>
        <media:title>لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی—تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
