<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Afghanistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:47:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:47:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان: نیوز چینل کی گاڑی پر ’حملہ‘، صحافی سمیت ڈرائیور ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1132807/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان کے شہر کابل میں مقامی نیوز چینل کی گاڑی پر بم دھماکے سے صحافی اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ اس وقت پیش آیا جب چینل کا عملہ ایک وین میں دفتر جارہا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077789/"&gt;افغانستان میں 3 دھماکے، طلبہ، صحافیوں سمیت 40 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکے میں 4 ملازمین زخمی بھی ہوئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خورشید ٹی وی نیوز چینل کے نیوز ڈائریکٹر جاوید فرہاد نے بتایا کہ نیوز اسٹیشن کے 15 ملازمین پر حملہ جس میں ایک صحافی اور وین کا ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ابھی تک حملے کی ذمہ داری کے بارے میں فوری طور پر کوئی دعوی سامنے نہیں آیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب وزارت داخلہ نے بتایا کہ نجی ٹی وی خورشید کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا حملہ ہوا ہے جس میں چینل کے ملازمین کو نشانہ بنایا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1130676"&gt;افغانستان: میٹرنٹی ہوم اور جنازے میں حملوں سے 37 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگست 2019 میں بھی خورشید ٹی وی وین کو چھوٹے بم سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو راہگیرہ ہلاک ہوگئے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 2018 میں کابل اور صوبہ قندھار کے ضلع دامان میں 3 بم دھماکوں میں طلبہ اور صحافیوں سمیت 40 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغانستان میں صرف سال &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078027"&gt;&lt;strong&gt;2017&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے دوران 21 صحافی ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر ٹارگٹڈ حملوں کا نشانہ بنے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے مواد کی وجہ سے پژواک افغان نیوز، دی موبی گروپ، بیسیوں ٹی وی چینل اور 170 سے زائد ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز معیار اور اعتبار کی علامت بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان کے شہر کابل میں مقامی نیوز چینل کی گاڑی پر بم دھماکے سے صحافی اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ </p>

<p>الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ اس وقت پیش آیا جب چینل کا عملہ ایک وین میں دفتر جارہا تھا۔ </p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077789/">افغانستان میں 3 دھماکے، طلبہ، صحافیوں سمیت 40 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>اس حوالے سے وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکے میں 4 ملازمین زخمی بھی ہوئے۔ </p>

<p>خورشید ٹی وی نیوز چینل کے نیوز ڈائریکٹر جاوید فرہاد نے بتایا کہ نیوز اسٹیشن کے 15 ملازمین پر حملہ جس میں ایک صحافی اور وین کا ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ </p>

<p>تاہم ابھی تک حملے کی ذمہ داری کے بارے میں فوری طور پر کوئی دعوی سامنے نہیں آیا۔ </p>

<p>دوسری جانب وزارت داخلہ نے بتایا کہ نجی ٹی وی خورشید کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ </p>

<p>واضح رہے کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا حملہ ہوا ہے جس میں چینل کے ملازمین کو نشانہ بنایا گیا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1130676">افغانستان: میٹرنٹی ہوم اور جنازے میں حملوں سے 37 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>اگست 2019 میں بھی خورشید ٹی وی وین کو چھوٹے بم سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو راہگیرہ ہلاک ہوگئے تھے۔ </p>

<p>خیال رہے کہ 2018 میں کابل اور صوبہ قندھار کے ضلع دامان میں 3 بم دھماکوں میں طلبہ اور صحافیوں سمیت 40 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ </p>

<p>افغانستان میں صرف سال <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078027"><strong>2017</strong></a> کے دوران 21 صحافی ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر ٹارگٹڈ حملوں کا نشانہ بنے۔ </p>

<p>اپنے مواد کی وجہ سے پژواک افغان نیوز، دی موبی گروپ، بیسیوں ٹی وی چینل اور 170 سے زائد ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز معیار اور اعتبار کی علامت بن چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1132807</guid>
      <pubDate>Sun, 31 May 2020 01:33:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/05/5ed2c21af3c9e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/05/5ed2c21af3c9e.jpg"/>
        <media:title>وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکے میں 4 ملازمین زخمی بھی ہوئے۔ —فوٹو: اے ایف یی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
