<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:42:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:42:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طیارہ حادثہ: بلیک باکس کی ڈی کوڈنگ، ڈاؤن لوڈنگ کا عمل مکمل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1133459/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: حادثے کا شکار ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132074"&gt;طیارے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی تحقیقات کرنے والے فرانسیسی تفتیش کاروں نے اعلان کیا ہے کہ بدقسمت پرواز کے بلیک باکس کی ڈی کوڈنگ اور ڈاؤن لوڈنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی بیورو آف انکوائری اینڈ اینالسز فار سول ایوی ایشن سیفٹی (بی ای اے) نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ پی کے-8303 کے بلیک باکس کے 2 اجزا کاکپٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) کی ڈی کوڈنگ اور اس کے ڈیٹا کی ڈاؤن لوڈنگ’ختم ہوگئی ہے، (جس کا) تجزیہ جاری رہے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/BEA_Aero/status/1268898066498813952"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیورو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) بعد کی تاریخ میں ڈاؤن لوڈ کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر/ پاکستان کے اے اے آئی بی کی تحقیقات/ان کی طرف سے موجودہ رابطوں پر ایک ابتدائی بیان جاری کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1133232/"&gt;طیارہ حادثہ: پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، سی اے اے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو پارلیمان میں پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5edb48e31d879'&gt;پی آئی اے طیارہ حادثہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132074"&gt;رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کر رہے ہیں جبکہ ٹیم کے دیگر اراکین میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، پاک فضائیہ کامرہ کے سیفٹی بورڈ کے انویسٹی گیٹر گروپ کیپٹن توقیر اور بورڈ کے جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132899"&gt;طیارہ حادثہ تحقیقات: فرانسیسی ٹیم نے اپنا کام مکمل کرلیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے ماہرین کی خصوصی ٹیم بھی پاکستان میں موجود ہے جو ایئرکرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے آئی آئی بی) کے حکام کے ساتھ اس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ تباہ ہونے والے طیارے اے 320 کو تیار کرنے والے کمپنی ایئر بس نے 11 اے اے آئی بی کے تفتیش کاروں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے 11 رکنی ٹیم پاکستان بھجوائی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایئربس کی تحقیقاتی ٹیم نے مسلسل 3 روز جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں شواہد اکٹھے کیے جبکہ رن وے اور ایئر پورٹ کے احاطے کا بھی جائزہ لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں ٹیم اے اے آئی بی کے صدر ایئر کموڈور عثمان غنی کے ہمراہ طیارے کے بلیک باکس کے 2 اجزا کاکپٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ٖڈیٹا ریکارڈر لے کر فرانس واپس چلی گئی تھی جہاں اس پر کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: حادثے کا شکار ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132074">طیارے</a></strong> کی تحقیقات کرنے والے فرانسیسی تفتیش کاروں نے اعلان کیا ہے کہ بدقسمت پرواز کے بلیک باکس کی ڈی کوڈنگ اور ڈاؤن لوڈنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔</p>

<p>فرانسیسی بیورو آف انکوائری اینڈ اینالسز فار سول ایوی ایشن سیفٹی (بی ای اے) نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ پی کے-8303 کے بلیک باکس کے 2 اجزا کاکپٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) کی ڈی کوڈنگ اور اس کے ڈیٹا کی ڈاؤن لوڈنگ’ختم ہوگئی ہے، (جس کا) تجزیہ جاری رہے گا‘۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/BEA_Aero/status/1268898066498813952"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بیورو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) بعد کی تاریخ میں ڈاؤن لوڈ کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر/ پاکستان کے اے اے آئی بی کی تحقیقات/ان کی طرف سے موجودہ رابطوں پر ایک ابتدائی بیان جاری کرے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1133232/">طیارہ حادثہ: پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، سی اے اے</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو پارلیمان میں پیش کی جائے گی۔</p>

<h3 id='5edb48e31d879'>پی آئی اے طیارہ حادثہ</h3>

<p>یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132074">رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی</a></strong> جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔</p>

<p>اس حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔</p>

<p>ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کر رہے ہیں جبکہ ٹیم کے دیگر اراکین میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، پاک فضائیہ کامرہ کے سیفٹی بورڈ کے انویسٹی گیٹر گروپ کیپٹن توقیر اور بورڈ کے جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید شامل ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132899">طیارہ حادثہ تحقیقات: فرانسیسی ٹیم نے اپنا کام مکمل کرلیا</a></strong></p>

<p>اس کے علاوہ طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے ماہرین کی خصوصی ٹیم بھی پاکستان میں موجود ہے جو ایئرکرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے آئی آئی بی) کے حکام کے ساتھ اس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کررہی ہے۔</p>

<p>اس کے علاوہ تباہ ہونے والے طیارے اے 320 کو تیار کرنے والے کمپنی ایئر بس نے 11 اے اے آئی بی کے تفتیش کاروں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے 11 رکنی ٹیم پاکستان بھجوائی تھی۔</p>

<p>حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایئربس کی تحقیقاتی ٹیم نے مسلسل 3 روز جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں شواہد اکٹھے کیے جبکہ رن وے اور ایئر پورٹ کے احاطے کا بھی جائزہ لیا تھا۔</p>

<p>بعدازاں ٹیم اے اے آئی بی کے صدر ایئر کموڈور عثمان غنی کے ہمراہ طیارے کے بلیک باکس کے 2 اجزا کاکپٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ٖڈیٹا ریکارڈر لے کر فرانس واپس چلی گئی تھی جہاں اس پر کام جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1133459</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jun 2020 12:42:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/06/5edb3700b8974.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/06/5edb3700b8974.jpg"/>
        <media:title>طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو پارلیمان میں پیش کی جائے گی—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
