<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:35:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:35:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت سندھ کی جانب سے کورونا سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1134677/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 21-2020 کے لیے 12 کھرب روپے سے زائد کا مالی بجٹ پیش کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے متعلق اٹھائے گئے  اقدامات کی تفصیلات بتائیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;3 ارب روپے سے کورونا وائرس  ایمرجنسی  فنڈ تشکیل دیا گیا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایک ارب 30 کرور روپے سندھ حکومت اورتقریباً ایک ارب 70 کروڑ روپے صوبائی ملازمین کی جانب سے مہیا کئے گئے۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;رقم کے استعمال کی نگرانی اور منظوری کے لیے چیف سیکریٹری کی  سربراہی میں قائم کمیٹی کا قیام  &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کووڈ 19 سے نبردآزما تمام طبی عملے کے لیے ایک رواں بنیادی تنخواہ  کی شرح سے ہیلتھ رسک الاؤنس کی منظوری &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پوسٹ گریجویٹ / ہاؤس جاب  آفیسرز کو  بالترتیب گریڈ 17/18  کی  ابتدائی بنیادی تنخواہ  مارچ 2020  سے کووڈ- 19 وبا  کے خاتمے  تک دی جائے گی۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;2020-21  میں  ہیلتھ رسک الاؤنس پر ایک ارب روپے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;صوبے میں کورونا ٹیسٹنگ  کی استطاعت کو بڑھا کر 11450  روزانہ کر دی گئی۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تمام اضلاع میں 81  قرنطینہ مراکز  جن میں 8266  بستر وں کی گنجائش  موجود ہے قائم کیے گئے جبکہ 
جون 2020  تک یہ گنجائش 8616  تک بڑھا دی جائے گی۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;طبی سہولیات اور خدمات کی بروقت اور درست  فراہمی کے لیے سندھ حکومت  نے میڈیکل پروکیورمنٹ کمیٹی قائم کی جس نے اس کمیٹی نے ضروری مشینری  آلات اور  اوزاروں کی 2.43  بلین روپے کی خریداری کی ہے۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;موجود وینٹی لیٹرز  میں  اضافے کے لیے 101 مزید وینٹی  لیٹرز  بمعہ 250  مانیٹرز  خریدے گئے ہیں&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;نیپا  چورنگی کراچی پر واقع وبائی امراض کے ہسپتال کو گرانٹ ان ایڈ کے تحت 2 ارب روپے کی امداد  دی گئی&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سندھ حکومت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ایک ارب سے زائد روپے جاری کیے تاکہ ضرورت مندوں کو ان کی دہلیز  پر راشن مہیا کیا جاسکے۔ &lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 21-2020 کے لیے 12 کھرب روپے سے زائد کا مالی بجٹ پیش کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے متعلق اٹھائے گئے  اقدامات کی تفصیلات بتائیں۔ </p>

<ul>
<li>3 ارب روپے سے کورونا وائرس  ایمرجنسی  فنڈ تشکیل دیا گیا۔</li>
<li>ایک ارب 30 کرور روپے سندھ حکومت اورتقریباً ایک ارب 70 کروڑ روپے صوبائی ملازمین کی جانب سے مہیا کئے گئے۔ </li>
<li>رقم کے استعمال کی نگرانی اور منظوری کے لیے چیف سیکریٹری کی  سربراہی میں قائم کمیٹی کا قیام  </li>
<li>کووڈ 19 سے نبردآزما تمام طبی عملے کے لیے ایک رواں بنیادی تنخواہ  کی شرح سے ہیلتھ رسک الاؤنس کی منظوری </li>
<li>پوسٹ گریجویٹ / ہاؤس جاب  آفیسرز کو  بالترتیب گریڈ 17/18  کی  ابتدائی بنیادی تنخواہ  مارچ 2020  سے کووڈ- 19 وبا  کے خاتمے  تک دی جائے گی۔ </li>
<li>2020-21  میں  ہیلتھ رسک الاؤنس پر ایک ارب روپے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ </li>
<li>صوبے میں کورونا ٹیسٹنگ  کی استطاعت کو بڑھا کر 11450  روزانہ کر دی گئی۔ </li>
<li>تمام اضلاع میں 81  قرنطینہ مراکز  جن میں 8266  بستر وں کی گنجائش  موجود ہے قائم کیے گئے جبکہ 
جون 2020  تک یہ گنجائش 8616  تک بڑھا دی جائے گی۔ </li>
<li>طبی سہولیات اور خدمات کی بروقت اور درست  فراہمی کے لیے سندھ حکومت  نے میڈیکل پروکیورمنٹ کمیٹی قائم کی جس نے اس کمیٹی نے ضروری مشینری  آلات اور  اوزاروں کی 2.43  بلین روپے کی خریداری کی ہے۔ </li>
<li>موجود وینٹی لیٹرز  میں  اضافے کے لیے 101 مزید وینٹی  لیٹرز  بمعہ 250  مانیٹرز  خریدے گئے ہیں</li>
<li>نیپا  چورنگی کراچی پر واقع وبائی امراض کے ہسپتال کو گرانٹ ان ایڈ کے تحت 2 ارب روپے کی امداد  دی گئی</li>
<li>سندھ حکومت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ایک ارب سے زائد روپے جاری کیے تاکہ ضرورت مندوں کو ان کی دہلیز  پر راشن مہیا کیا جاسکے۔ </li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1134677</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Jun 2020 19:57:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز مغیری)</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
