<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:29:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:29:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک گیر کریک ڈاؤن میں چائلڈ پورنوگرافی کے 3 ملزمان گرفتار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1136011/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے ملک بھر میں کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 3 مشتبہ چائلڈ پورنو گرافرز (بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے والوں) کو گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادارے نے زیر حراست ملزمان کو برقی جرائم کی روک تھام (سائبر کرائم) عدالتوں میں پیش کر کے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ انٹر پول، یورپی اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور مدد سے پہلی مرتبہ ایسے ملزمان کو گرفتار کیا گیا جو پورونوگرافک ویب سائٹ کے اراکین تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107364"&gt;کراچی: چائلڈ پورنوگرافی کے الزام میں ایک شخص گرفتار، قابل اعتراض ویڈیوز برآمد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایف آئی اے عام افراد کی شکایت پر مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرتی تھی اور اس کے بعد ان سے مزید تفتیش کی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس مرتبہ ایف آئی نے خود تفتیش کا آغاز کیا اور مشتبہ چائلڈ پورنو گرافرز کا سراغ لگانے کے لیے بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے بین الاقوامی شراکت داروں نے ملزمان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد مجرمان کا سراغ لگانے میں ادارے کی مدد کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کے مطابق ان تینوں ملزمان کو پنجاب میں لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ سے گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے فحش مواد، تصاویر اور دیگر آلات بھی برآمد ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1131670"&gt;چائلڈ پورنوگرافی کے مجرم کی اپیل مسترد، سزا برقرار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملزمان پر انسداد برقی جرائم ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ (تعزیرات پاکستان) کی متعدد دفعات عائد کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ملزمان نہ صرف بین الاقوامی فحش ویب سائٹ پر فحش مواد فراہم کرتے تھے بلکہ انہیں مقامی واٹس ایپ گروپس میں بھی پھیلاتے ہیں، اس حوالے سے تفتیش سائبر کرائم ونگ اسلام آباد   نے کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے ملزمان سے ان کے رابطوں کے حوالے سے مزید تفتیش کے لیے عدالت سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1566863/three-held-for-child-pornography-in-countrywide-crackdown"&gt;یہ خبر&lt;/a&gt; 4 جولائی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے ملک بھر میں کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 3 مشتبہ چائلڈ پورنو گرافرز (بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے والوں) کو گرفتار کرلیا۔</p>

<p>ادارے نے زیر حراست ملزمان کو برقی جرائم کی روک تھام (سائبر کرائم) عدالتوں میں پیش کر کے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔</p>

<p>ایف آئی اے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ انٹر پول، یورپی اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور مدد سے پہلی مرتبہ ایسے ملزمان کو گرفتار کیا گیا جو پورونوگرافک ویب سائٹ کے اراکین تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107364">کراچی: چائلڈ پورنوگرافی کے الزام میں ایک شخص گرفتار، قابل اعتراض ویڈیوز برآمد</a></strong> </p>

<p>انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایف آئی اے عام افراد کی شکایت پر مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرتی تھی اور اس کے بعد ان سے مزید تفتیش کی جاتی تھی۔</p>

<p>تاہم اس مرتبہ ایف آئی نے خود تفتیش کا آغاز کیا اور مشتبہ چائلڈ پورنو گرافرز کا سراغ لگانے کے لیے بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا۔</p>

<p>عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے بین الاقوامی شراکت داروں نے ملزمان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد مجرمان کا سراغ لگانے میں ادارے کی مدد کی۔</p>

<p>ایف آئی اے کے مطابق ان تینوں ملزمان کو پنجاب میں لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ سے گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے فحش مواد، تصاویر اور دیگر آلات بھی برآمد ہوئے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1131670">چائلڈ پورنوگرافی کے مجرم کی اپیل مسترد، سزا برقرار</a></strong></p>

<p>ملزمان پر انسداد برقی جرائم ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ (تعزیرات پاکستان) کی متعدد دفعات عائد کی گئی ہیں۔</p>

<p>ایف آئی اے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ملزمان نہ صرف بین الاقوامی فحش ویب سائٹ پر فحش مواد فراہم کرتے تھے بلکہ انہیں مقامی واٹس ایپ گروپس میں بھی پھیلاتے ہیں، اس حوالے سے تفتیش سائبر کرائم ونگ اسلام آباد   نے کی۔</p>

<p>جس کے بعد ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے ملزمان سے ان کے رابطوں کے حوالے سے مزید تفتیش کے لیے عدالت سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔</p>

<hr />

<p><strong><a href="https://www.dawn.com/news/1566863/three-held-for-child-pornography-in-countrywide-crackdown">یہ خبر</a> 4 جولائی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1136011</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2020 13:21:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/07/5f00104e51f04.jpg?r=1060349913" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/07/5f00104e51f04.jpg?r=1705679657"/>
        <media:title>ماضی میں ایف آئی اے عام افراد کی شکایت پر مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرتی تھی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
