<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:06:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:06:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: سانپ کے کاٹنے سے 20 برس میں 12 لاکھ افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1136432/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک تحقیق کے مطابق بھارت میں گزشتہ 20 برس میں سانپ کے کاٹنے سے کم از کم 12 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی &lt;a href="https://www.bbc.com/news/world-asia-india-53331803"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا کہ متاثرین میں سے نصف کی عمریں 30 سے 69 سال کے درمیان تھیں اور ان میں سے ایک چوتھائی بچے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132347"&gt;بھارت: شوہر پر سانپ کے ذریعے بیوی کو قتل کرنے کا الزام&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق رسل وائپر، کریٹ اور کوبرا کی وجہ سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ باقی اموات کم از کم 12 دیگر اقسام کے سانپوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق متعدد سانپ کے حملے مہلک ثابت ہوئے کیونکہ متاثرین ایسے علاقوں میں تھے جہاں طبی سہولیات تک رسائی نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/07/5f0612a55a8ec.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/07/5f0612a55a8ec.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/07/5f0612a55a8ec.jpg 624w, https://i.dawn.com/primary/2020/07/5f0612a55a8ec.jpg 624w' sizes='(min-width: 992px)  624px, (min-width: 768px)  624px,  500px' alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ نصف اموات مون سون کے موسم یعنی جون اور ستمبر کے درمیان ہوئیں اور زیادہ تر متاثرین کے پیروں پر سانپ نے حملہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اوپن ایکسیس جریدے 'ای لائف' میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بھارتی اور بین الاقوامی ماہرین نے حصہ لیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1136236"&gt;سانپ جیسے زہریلے دانتوں والا انوکھا جاندار دریافت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے بتایا گیا کہ یہ تحقیق بھارت کے 'ملین ڈیتھ اسٹڈی' سے حاصل کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ رسل وائپر سانپ فطرتاً جارحانہ ہوتا ہے اور بھارت اور جنوبی ایشیا میں پایا جاتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق رسل وائپر چوہوں کو کھانا پسند کرتا ہے اور اسی لیے یہ اکثر شہری اور دیہی علاقوں کے قریب پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ 2001 سے 2014 کے درمیان سانپ کے کاٹنے سے 70 فیصد اموات 8 ریاستوں بہار، جھارکھنڈ، مدھیا پردیش، اڑیسہ، اتر پردیش، آندھرا پردیش (بشمول تلنگانہ)، راجستھان اور گجرات میں ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ مون سون کے موسم میں دیہات میں رہنے والی کاشتکار برادریوں کو سانپ کے کاٹنے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113629"&gt;جب سانپ کے کاٹنے پر کسان نے اپنی انگلی ہی کاٹ دی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کو 'سانپ سے بچنے سے متعلق آگاہی مہم' شروع کرنی چاہیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال سانپ کے کاٹنے سے 81 ہزار سے ایک لاکھ 38 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے مطابق مذکورہ تعداد میں تقریباً تین گنا زندہ رہتے ہیں یا مستقل معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک تحقیق کے مطابق بھارت میں گزشتہ 20 برس میں سانپ کے کاٹنے سے کم از کم 12 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ </p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی <a href="https://www.bbc.com/news/world-asia-india-53331803"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا کہ متاثرین میں سے نصف کی عمریں 30 سے 69 سال کے درمیان تھیں اور ان میں سے ایک چوتھائی بچے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1132347">بھارت: شوہر پر سانپ کے ذریعے بیوی کو قتل کرنے کا الزام</a></strong></p>

<p>محققین کے مطابق رسل وائپر، کریٹ اور کوبرا کی وجہ سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ </p>

<p>انہوں نے بتایا کہ باقی اموات کم از کم 12 دیگر اقسام کے سانپوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔</p>

<p>محققین کے مطابق متعدد سانپ کے حملے مہلک ثابت ہوئے کیونکہ متاثرین ایسے علاقوں میں تھے جہاں طبی سہولیات تک رسائی نہیں تھی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/07/5f0612a55a8ec.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/07/5f0612a55a8ec.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/07/5f0612a55a8ec.jpg 624w, https://i.dawn.com/primary/2020/07/5f0612a55a8ec.jpg 624w' sizes='(min-width: 992px)  624px, (min-width: 768px)  624px,  500px' alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ نصف اموات مون سون کے موسم یعنی جون اور ستمبر کے درمیان ہوئیں اور زیادہ تر متاثرین کے پیروں پر سانپ نے حملہ کیا۔</p>

<p>اوپن ایکسیس جریدے 'ای لائف' میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بھارتی اور بین الاقوامی ماہرین نے حصہ لیا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1136236">سانپ جیسے زہریلے دانتوں والا انوکھا جاندار دریافت</a></strong> </p>

<p>اس حوالے سے بتایا گیا کہ یہ تحقیق بھارت کے 'ملین ڈیتھ اسٹڈی' سے حاصل کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ رسل وائپر سانپ فطرتاً جارحانہ ہوتا ہے اور بھارت اور جنوبی ایشیا میں پایا جاتا ہے۔ </p>

<p>محققین کے مطابق رسل وائپر چوہوں کو کھانا پسند کرتا ہے اور اسی لیے یہ اکثر شہری اور دیہی علاقوں کے قریب پایا جاتا ہے۔</p>

<p>تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ 2001 سے 2014 کے درمیان سانپ کے کاٹنے سے 70 فیصد اموات 8 ریاستوں بہار، جھارکھنڈ، مدھیا پردیش، اڑیسہ، اتر پردیش، آندھرا پردیش (بشمول تلنگانہ)، راجستھان اور گجرات میں ہوئیں۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ مون سون کے موسم میں دیہات میں رہنے والی کاشتکار برادریوں کو سانپ کے کاٹنے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113629">جب سانپ کے کاٹنے پر کسان نے اپنی انگلی ہی کاٹ دی</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کو 'سانپ سے بچنے سے متعلق آگاہی مہم' شروع کرنی چاہیے۔ </p>

<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال سانپ کے کاٹنے سے 81 ہزار سے ایک لاکھ 38 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ </p>

<p>ان کے مطابق مذکورہ تعداد میں تقریباً تین گنا زندہ رہتے ہیں یا مستقل معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1136432</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2020 01:42:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/07/5f06158f9dc0d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/07/5f06158f9dc0d.jpg"/>
        <media:title>محققین کے مطابق رسل وائپر، کریٹ اور کوبرا کی وجہ سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
