<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:11:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:11:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف آئی اے میں شاہین ایئر کے خلاف مقدمہ درج، ڈائریکٹر گرفتار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1136911/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی شکایت پر شاہین ایئر انٹرنیشنل (ایس اے آئی) کے خلاف قومی خزانے کو مبینہ طور پر ایک ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر مقدمہ درج کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کراچی کے ڈائریکٹر منیر احمد شیخ نے کہا کہ کیس ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ کیس کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کا نتیجہ ہے جسے سی اے اے کراچی کی تحریری شکایت پر شروع کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092880"&gt;شاہین ایئر لائن کے مالکان بیرونِ ملک فرار ہونے میں کامیاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سینئر عہدیدار نے نشاندہی کی کہ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ شاہین ایئرلائن کو ’فلائٹ آپریشن چارجز‘ سول ایوی ایشن کو ادا کرنے تھے لیکن شاہین ایئر کے چیئرمین کاشف صہبائی، سی ای او احسان خالد صہبائی، ڈائریکٹرز اور انتطامیہ کے اراکین نے مبینہ طور پر مارچ 2018 سے اب تک سی اے اے کو چارجز کی ادائیگی میں دھوکا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ شاہین ایئرلائن کے مذکورہ بالا عہدیداروں نے غیر قانونی طور پر تقریباً ایک ارب 40 کروڑ روپے کی رقم اور کے آئی بی او آر + سی اے اے کے سرچارج، اپنے پاس رکھے جس کے باعث قومی خزانے کو کے آئی بی او آر-سرچارج کی مد میں ایک ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انکوائری کے دوران ایف آئی اے نے ملزمان کے سی ٹی آرز/ای ٹی آرز کے لیے مالیاتی نگرانی کے یونٹ (ایف ایم یو) سے رجوع کیا جس پر ایف ایم یو نے کینیڈین حکام سے رابطہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092579"&gt;شاہین ایئر لائن کی جائیداد بیچ کر تمام رقم وصول کر لیتے ہیں، چیف جسٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ دو ملزمان کو رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) نے 5 لاکھ کینیڈین ڈالر نقد کے ساتھ پکڑا اور رقم اب پولیس کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ شاہین ایئرلائن کے ڈائریکٹرز کے خلاف کیس ’پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 406  (کرمنل بریچ آف ٹرسٹ) کی دفعہ ، 489-ایف (ڈس آنرنگ آف چیک) ، 109 (جرم میں اعانت)، 34 (مجرمانہ عزائم) اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3 ار 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاہین ایئر لائن کے جن اراکین کو اس مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے ان میں سی ای او احسان خالد صہبائی اور ڈائریکٹرز کاشف محمود، سبرینہ کلثوم صہبائی، جاوید کریم، جینٹ صہبائی، ہوشنگ بی سدوا، راشدہ یاسمین، یاور محمود اور محمد واثق شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افسر نے بتایا کہ ایک ڈائریکٹر یاور محمود صہبائی کو گرفتار کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1568821/fia-registers-case-against-shaheen-air-arrests-director"&gt;یہ خبر&lt;/a&gt; 14 جولائی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی شکایت پر شاہین ایئر انٹرنیشنل (ایس اے آئی) کے خلاف قومی خزانے کو مبینہ طور پر ایک ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر مقدمہ درج کرلیا۔</p>

<p>ایف آئی اے کراچی کے ڈائریکٹر منیر احمد شیخ نے کہا کہ کیس ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں درج کیا گیا۔</p>

<p>مذکورہ کیس کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کا نتیجہ ہے جسے سی اے اے کراچی کی تحریری شکایت پر شروع کیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092880">شاہین ایئر لائن کے مالکان بیرونِ ملک فرار ہونے میں کامیاب</a></strong> </p>

<p>ایک سینئر عہدیدار نے نشاندہی کی کہ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ شاہین ایئرلائن کو ’فلائٹ آپریشن چارجز‘ سول ایوی ایشن کو ادا کرنے تھے لیکن شاہین ایئر کے چیئرمین کاشف صہبائی، سی ای او احسان خالد صہبائی، ڈائریکٹرز اور انتطامیہ کے اراکین نے مبینہ طور پر مارچ 2018 سے اب تک سی اے اے کو چارجز کی ادائیگی میں دھوکا دیا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ شاہین ایئرلائن کے مذکورہ بالا عہدیداروں نے غیر قانونی طور پر تقریباً ایک ارب 40 کروڑ روپے کی رقم اور کے آئی بی او آر + سی اے اے کے سرچارج، اپنے پاس رکھے جس کے باعث قومی خزانے کو کے آئی بی او آر-سرچارج کی مد میں ایک ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔</p>

<p>انکوائری کے دوران ایف آئی اے نے ملزمان کے سی ٹی آرز/ای ٹی آرز کے لیے مالیاتی نگرانی کے یونٹ (ایف ایم یو) سے رجوع کیا جس پر ایف ایم یو نے کینیڈین حکام سے رابطہ کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092579">شاہین ایئر لائن کی جائیداد بیچ کر تمام رقم وصول کر لیتے ہیں، چیف جسٹس</a></strong></p>

<p>ایف آئی اے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ دو ملزمان کو رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) نے 5 لاکھ کینیڈین ڈالر نقد کے ساتھ پکڑا اور رقم اب پولیس کے پاس ہے۔</p>

<p>چنانچہ شاہین ایئرلائن کے ڈائریکٹرز کے خلاف کیس ’پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 406  (کرمنل بریچ آف ٹرسٹ) کی دفعہ ، 489-ایف (ڈس آنرنگ آف چیک) ، 109 (جرم میں اعانت)، 34 (مجرمانہ عزائم) اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3 ار 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔</p>

<p>شاہین ایئر لائن کے جن اراکین کو اس مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے ان میں سی ای او احسان خالد صہبائی اور ڈائریکٹرز کاشف محمود، سبرینہ کلثوم صہبائی، جاوید کریم، جینٹ صہبائی، ہوشنگ بی سدوا، راشدہ یاسمین، یاور محمود اور محمد واثق شامل ہیں۔</p>

<p>افسر نے بتایا کہ ایک ڈائریکٹر یاور محمود صہبائی کو گرفتار کرلیا گیا۔</p>

<hr />

<p><strong><a href="https://www.dawn.com/news/1568821/fia-registers-case-against-shaheen-air-arrests-director">یہ خبر</a> 14 جولائی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1136911</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2020 19:53:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/07/5f0d3622b4399.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/07/5f0d3622b4399.jpg"/>
        <media:title>کیس ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں درج کیا گیا—وکیمیڈیا کامنز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
