<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 07:38:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 07:38:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کم عمر بچی کو نامناسب اشیا کی تشہیر کیلئے استعمال کرنے پر اہل خانہ طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1137437/</link>
      <description>&lt;p&gt;سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر نے مبینہ طور پر کم عمر بچی کو نامناسب اشیا کی تشہیر کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر ان کے قریبی رشتہ داروں کو تفتیش کے لیے طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی عرب کے اخبار &lt;a href="https://www.okaz.com.sa/news/local/2033427"&gt;&lt;strong&gt;عکاز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے سوشل میڈیا پر کم عمر بچی کی تشہیری ویڈیوز وائرل ہونے کے  بعد معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے والدین کو سمن جاری کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کم عمر بچی کی تشہیری ویڈیوز گزشتہ چند روز سے واٹس ایپ، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ مختصر دورانیے کی متعدد ویڈیوز میں کم عمر بچی کو بڑی عمر اور بالغ خواتین کے نامناسب استعمال کی اشیا کی تشہیر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5f145bab2c27a'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113396"&gt;سعودی عرب میں عبایہ میں ملبوس لڑکی کا میلے میں ’ہپ ہاپ‘ ڈانس&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اخبار کے مطابق ویڈیوز میں بچی کو خواتین کی شادیوں میں استعمال ہونے والی اشیا کی تشہیر کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا، علاوہ ازیں انہیں کچھ ایسی اشیا کی تشہیر کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا جنہیں نامناسب سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچی کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد شہریوں میں غم و غصہ پایا گیا تھا اور پبلک پراسیکیوٹر نے شکایات کے بعد بچی کے اہل خانہ کو سمن جاری کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے بچی اور ان کے اہل خانہ کی ذہنی صحت سمیت اس بات کی تفتیش کی جائے گی کہ اشتہارات میں کس طرح بچوں کے حقوق کو پامال کرکے عام شہریوں کو بھی اذیت دی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر نے مبینہ طور پر کم عمر بچی کو نامناسب اشیا کی تشہیر کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر ان کے قریبی رشتہ داروں کو تفتیش کے لیے طلب کرلیا۔</p>

<p>سعودی عرب کے اخبار <a href="https://www.okaz.com.sa/news/local/2033427"><strong>عکاز</strong></a> کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے سوشل میڈیا پر کم عمر بچی کی تشہیری ویڈیوز وائرل ہونے کے  بعد معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے والدین کو سمن جاری کیا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق کم عمر بچی کی تشہیری ویڈیوز گزشتہ چند روز سے واٹس ایپ، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی تھی۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ مختصر دورانیے کی متعدد ویڈیوز میں کم عمر بچی کو بڑی عمر اور بالغ خواتین کے نامناسب استعمال کی اشیا کی تشہیر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ </p>

<h6 id='5f145bab2c27a'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113396">سعودی عرب میں عبایہ میں ملبوس لڑکی کا میلے میں ’ہپ ہاپ‘ ڈانس</a></h6>

<p>اخبار کے مطابق ویڈیوز میں بچی کو خواتین کی شادیوں میں استعمال ہونے والی اشیا کی تشہیر کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا، علاوہ ازیں انہیں کچھ ایسی اشیا کی تشہیر کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا جنہیں نامناسب سمجھا جاتا ہے۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچی کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد شہریوں میں غم و غصہ پایا گیا تھا اور پبلک پراسیکیوٹر نے شکایات کے بعد بچی کے اہل خانہ کو سمن جاری کردیے۔</p>

<p>اب پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے بچی اور ان کے اہل خانہ کی ذہنی صحت سمیت اس بات کی تفتیش کی جائے گی کہ اشتہارات میں کس طرح بچوں کے حقوق کو پامال کرکے عام شہریوں کو بھی اذیت دی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1137437</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2020 19:41:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/07/5f1433362d440.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/07/5f1433362d440.jpg"/>
        <media:title>پبلک پراسیکیوشن دفتر نے والدین کو طلب کرلیا—فائل فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
