<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:29:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:29:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کلبھوشن یادیو سے متعلق آرڈیننس ایوان میں پیش، اپوزیشن کی پراسرار خاموشی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1138235/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت نے آخر کار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت قونصلر رسائی دینے سے متعلق متنازع آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1571542/jadhav-specific-law-laid-in-na-amid-opposition-silence"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے پراسرار خاموشی دیکھنے کو ملی جو پہلے اس پر سخت احتجاج اور اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اسے روکنے کی کوشش کررہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے مئی میں نافذ کردہ آئی سی جے (ریویو اینڈ ریکنسڈریشن) آرڈیننس 2020 سمیت 5 آرڈیننس ایوان میں پیش کیے اور اپوزیشن کی جانب سے کسی نے بھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:  &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137812/"&gt;حکومت نے آرڈیننس کی شکل میں کلبھوشن یادیو کو این آر او دیا، بلاول بھٹو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اجلاس ملتوی ہونے سے چند لمحے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے متنازع آرڈیننس پر بات کی اور حکومت کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے ایک سال مکمل ہونے سے چند روز قبل بھارتی جاسوس کو سہولت فراہم کر نے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ ہفتے ایوان میں آرڈیننس پیش کرنے کے حکومتی اقدام کی مخالفت کی تھی اور آرڈیننس پیش ہونے سے روکنے کے لیے ایوان کی کارروائی سے بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم گزشتہ روز وہ ایوان میں اس وقت داخل ہوئے جب تمام پانچوں آرڈیننس ایجنڈے کے مطابق پیش کیے جاچکے تھے، اجلاس میں انہیں فوراً بات کرنے کا موقع بھی ملا لیکن انہوں نے صرف ایجنڈے پر موجود بلز کے حوالے سے بات کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137787/"&gt;حکومت کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرنے کی استدعا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا ضمیر انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اجلاس کو ایجنڈے پر موجود آرڈیننس کے حوالے سے کاروائی کرنے دیں اور اسپیکر اسمبلی اسد قیصر سے درخواست کی تھی کہ قانون سازی کی کارروائی مؤخر کریں اور ان بلز کو ایوان میں پیش کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں بابر اعوان نے 8 بل ایوان میں پیش کیے جس میں انسداد منشیات (ترمیمی) بل 2020، کمپنیز(ترمیمی) بل 2020، انسداد منی لانڈرنگ (دوسری ترمیم) بل 2020 اور انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کلبھوشن یادیو سے متعلق آرڈیننس کے علاوہ مشیر پارلیمانی امور نے کمپنیز (ترمیمی) آرڈیننس 2020، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز(ترمیمی) آرڈیننس 2020، کمپنیز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2020 اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی (ترمیم) آرڈینسس 2020 بھی ایوان میں پیش کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137903"&gt;’آرڈیننس میں کلبھوشن یادیو کی سزا ختم نہیں کی‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ آئی سی جے (ریویو اور ری کنسڈریشن) آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے ’ایک دہشت گرد کو سہولت فراہم‘ کرنے پر سوال کھڑے کیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ کلبھوشن یادیو کو 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور اپریل 2017 میں اسے ایک فوجی عدالت سے سزا ہوئی تھی، اپوزیشن نے اس کی سزا سے متعلق آرڈیننس کو سابق فوجی آمر جنرل پروز مشرف کے قومی مفاہمتی آرڈینسس (این آر او) سے تشبیہ دی تھی جو سیاسی کیسز ختم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوئی ڈیل کا حصہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f1fd5fc253d3'&gt;کراچی کا مسئلہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ایوان میں ایک مرتبہ پھر کراچی میں اتوار کو ہونے والے بارش کے نتیجے میں انتظامیہ کی مبینہ بد انتظامی سامنے آنے پر شہر قائد سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اور پی پی پی اراکین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ٹی آئی رکن فہیم خان نے کہا کہ ’کل جب کراچی کے عوام ڈوب رہے تھے تو  یہ لوگ (پی پی پی رہنما) کیک کاٹ رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں 12 ہزار گھوسٹ ملازمین ہیں جنہیں سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1138181/"&gt;کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش، کرنٹ لگنے سے مزید 3 افراد جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور رکن آفتاب صدیقی نے کہا کہ کراچی نے اتنا نقصان گزشتہ برس نہیں اٹھایا تھا جب 163 ملی میٹر بارش ہوئی تھی جتنی اتوار کو ہونے والی 28 ملی میٹر بارش سے شہر کو نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس شہر، وزیر بحری امور علی زیدی کی جانب سے رضاکارانہ طور پر نالوں کی صفائی کی مہم کی وجہ سے بچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آفتاب صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی کو موئن جو دڑو بنا دیا گیا ہے اس شہر کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے کیوں کہ جب کراچی تباہ ہوگا تو ملک کی معیشت تباہ ہوگی اور اس کے بعد پورا ملک مفلوج ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پی پی پی کے آغا رفیع اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ کراچی کے بارے میں صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بات کرتے ہیں کیوں کہ انہوں نے دو سال کے عرصے میں اس شہر کے لیے کچھ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کو ان مسائل کا سامنا برسوں سے ہے کیوں کہ سندھ کو کالونی سمجھا جاتا رہا، انہوں نے کراچی کی سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے لیے کنوٹنمنٹ بورڈز کو مورد الزام ٹھہرایا جنہوں نے شہر میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت نے آخر کار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت قونصلر رسائی دینے سے متعلق متنازع آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1571542/jadhav-specific-law-laid-in-na-amid-opposition-silence">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے پراسرار خاموشی دیکھنے کو ملی جو پہلے اس پر سخت احتجاج اور اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اسے روکنے کی کوشش کررہی تھی۔</p>

<p>وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے مئی میں نافذ کردہ آئی سی جے (ریویو اینڈ ریکنسڈریشن) آرڈیننس 2020 سمیت 5 آرڈیننس ایوان میں پیش کیے اور اپوزیشن کی جانب سے کسی نے بھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:  <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137812/">حکومت نے آرڈیننس کی شکل میں کلبھوشن یادیو کو این آر او دیا، بلاول بھٹو</a></strong></p>

<p>تاہم اجلاس ملتوی ہونے سے چند لمحے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے متنازع آرڈیننس پر بات کی اور حکومت کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے ایک سال مکمل ہونے سے چند روز قبل بھارتی جاسوس کو سہولت فراہم کر نے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>

<p>واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ ہفتے ایوان میں آرڈیننس پیش کرنے کے حکومتی اقدام کی مخالفت کی تھی اور آرڈیننس پیش ہونے سے روکنے کے لیے ایوان کی کارروائی سے بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔</p>

<p>تاہم گزشتہ روز وہ ایوان میں اس وقت داخل ہوئے جب تمام پانچوں آرڈیننس ایجنڈے کے مطابق پیش کیے جاچکے تھے، اجلاس میں انہیں فوراً بات کرنے کا موقع بھی ملا لیکن انہوں نے صرف ایجنڈے پر موجود بلز کے حوالے سے بات کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137787/">حکومت کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرنے کی استدعا</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا ضمیر انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اجلاس کو ایجنڈے پر موجود آرڈیننس کے حوالے سے کاروائی کرنے دیں اور اسپیکر اسمبلی اسد قیصر سے درخواست کی تھی کہ قانون سازی کی کارروائی مؤخر کریں اور ان بلز کو ایوان میں پیش کریں۔</p>

<p>بعدازاں بابر اعوان نے 8 بل ایوان میں پیش کیے جس میں انسداد منشیات (ترمیمی) بل 2020، کمپنیز(ترمیمی) بل 2020، انسداد منی لانڈرنگ (دوسری ترمیم) بل 2020 اور انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 شامل تھے۔</p>

<p>کلبھوشن یادیو سے متعلق آرڈیننس کے علاوہ مشیر پارلیمانی امور نے کمپنیز (ترمیمی) آرڈیننس 2020، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز(ترمیمی) آرڈیننس 2020، کمپنیز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2020 اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی (ترمیم) آرڈینسس 2020 بھی ایوان میں پیش کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137903">’آرڈیننس میں کلبھوشن یادیو کی سزا ختم نہیں کی‘</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ آئی سی جے (ریویو اور ری کنسڈریشن) آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے ’ایک دہشت گرد کو سہولت فراہم‘ کرنے پر سوال کھڑے کیے تھے۔</p>

<p>یاد رہے کہ کلبھوشن یادیو کو 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور اپریل 2017 میں اسے ایک فوجی عدالت سے سزا ہوئی تھی، اپوزیشن نے اس کی سزا سے متعلق آرڈیننس کو سابق فوجی آمر جنرل پروز مشرف کے قومی مفاہمتی آرڈینسس (این آر او) سے تشبیہ دی تھی جو سیاسی کیسز ختم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوئی ڈیل کا حصہ تھا۔</p>

<h3 id='5f1fd5fc253d3'>کراچی کا مسئلہ</h3>

<p>ایوان میں ایک مرتبہ پھر کراچی میں اتوار کو ہونے والے بارش کے نتیجے میں انتظامیہ کی مبینہ بد انتظامی سامنے آنے پر شہر قائد سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اور پی پی پی اراکین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔</p>

<p>پی ٹی آئی رکن فہیم خان نے کہا کہ ’کل جب کراچی کے عوام ڈوب رہے تھے تو  یہ لوگ (پی پی پی رہنما) کیک کاٹ رہے تھے۔</p>

<p>انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں 12 ہزار گھوسٹ ملازمین ہیں جنہیں سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1138181/">کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش، کرنٹ لگنے سے مزید 3 افراد جاں بحق</a></strong></p>

<p>ایک اور رکن آفتاب صدیقی نے کہا کہ کراچی نے اتنا نقصان گزشتہ برس نہیں اٹھایا تھا جب 163 ملی میٹر بارش ہوئی تھی جتنی اتوار کو ہونے والی 28 ملی میٹر بارش سے شہر کو نقصان پہنچا۔</p>

<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس شہر، وزیر بحری امور علی زیدی کی جانب سے رضاکارانہ طور پر نالوں کی صفائی کی مہم کی وجہ سے بچ گیا تھا۔</p>

<p>آفتاب صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی کو موئن جو دڑو بنا دیا گیا ہے اس شہر کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے کیوں کہ جب کراچی تباہ ہوگا تو ملک کی معیشت تباہ ہوگی اور اس کے بعد پورا ملک مفلوج ہوجائے گا۔</p>

<p>دوسری جانب پی پی پی کے آغا رفیع اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ کراچی کے بارے میں صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بات کرتے ہیں کیوں کہ انہوں نے دو سال کے عرصے میں اس شہر کے لیے کچھ نہیں کیا۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کو ان مسائل کا سامنا برسوں سے ہے کیوں کہ سندھ کو کالونی سمجھا جاتا رہا، انہوں نے کراچی کی سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے لیے کنوٹنمنٹ بورڈز کو مورد الزام ٹھہرایا جنہوں نے شہر میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1138235</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2020 12:38:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/07/5f1faa826e8af.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/07/5f1faa826e8af.jpg"/>
        <media:title>اپوزیشن سخت احتجاج اور اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اسے روکنے کی کوشش کررہی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
