<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:10:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:10:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اکاؤنٹس کے آڈٹ پر اے جی پی اور انجینئرنگ کونسل کے مابین تنازع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1138478/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ملک کے 2 ریگولیٹری اداروں آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) اور پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے مابین انجینئرنگ ریگولیٹر کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر تنازع کھڑا ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے متعدد درخواستوں کے باوجود پی ای سی نے آڈٹ کے لیے اکاؤنٹ پیش نہیں کیے کہ اپنی مرضی کی نجی کمپنی سے کروائے گئے اس کے آڈٹ کی آڈیٹر جنرل کو توثیق کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایسے تمام سرکاری محکمے، ادارے، ریگولیٹرز، خودمختار اور نیم خودمختار کارپوریشنز اور کمپنیز کے جہاں عوامی پیسہ شامل ہو ان کا آڈٹ کرنا آڈیٹر جنرل پاکستان کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں زیر بحث آیا جہاں پی ای سی کی درخواست پر کونسل کو اس شرط پر اپنی مرضی کی کمپنی سے آڈٹ کروانے کی اجازت دے دی گئی کہ اس کی رپورٹ کی توثیق آڈیٹر جنرل پاکستان سے کروائی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094915"&gt;پاکستان انجینئرنگ کونسل کا اپنے اکاؤنٹس تک رسائی دینے سے انکار ، آڈٹ رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ای سی نے اس بات پر اتفاق کیا اور ایک نجی کمپنی سے آڈٹ کروا کر رپورٹ کو وفاقی آڈٹ کی توثیق کے لیے اے جی پی کو بھجوادیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ڈائریکٹر جنرل وفاقی آڈٹ نے اسے قبول نہیں کیا اور اسے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا کیوں کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ایک قانونی سرکاری تنظیم ہے جس کی سرپرست وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ اس کا آڈٹ اے جی پی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جو حکومت پاکستان کے ماتحت تمام اداروں کا آڈٹ کرنے کا آئینی ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ پی ای سی کو قواعد کی پاسداری کرتے ہوئے اے جی پی کو آڈٹ کے لیے رسائی دینی ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082799"&gt;انجینئرنگ کونسل کا ڈیم کیلئے درکار افرادی قوت پر سپریم کورٹ سے رابطہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے نکات پی ای سی کے مؤقف کی تصدیق نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ای سی نے بارہا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کو یہ شکایت کی کہ 19 فروری کو ہونے والے کمیٹی اجلاس کے نکات میں اس کی نجی طور پر آڈٹ کروانے کی درخواست کو قبول نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ای سی نے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کو لکھا کہ یہ معاملہ کمیٹی اجلاس میں زیر بحث آیا تھا جس میں ’متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ای ای قیام پارلیمان کے ایک ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا اور سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم سے کروایا گیا آڈٹ تصدیق اور تعمیل کے لیے آڈیٹر جنرل پاکستان میں پیش کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ اس فیصلے کے تحت پی ای سی نے اپنی آڈٹ رپورٹ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پاس جمع کروائی اور پی اے سی کی ہدایات پر عمل کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120787"&gt;’سال 18-2017 میں غفلت کے باعث 423 ارب روپے کا نقصان ہوا‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم آڈٹ کے ڈائریکٹر جنرل نے پی اے سی کے فیصلے کے ’خلاف‘ پی اے سی کو آڈٹ کی اطلاع بھجوائی، کونسل نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پی اے سی کے اجلاس کے نکات بھی واضح نہیں کرتے کہ یہ فیصلہ کمیٹی نے کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس نے بھی اجلاس کے نکات پر اعتراض اٹھائے تھے حتیٰ کہ کمیٹی کی جانب سے دوبارہ کوریجنڈم جاری ہونے کے باوجود ’پی اے سی کا اصل فیصلہ شامل نہیں کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 1976 میں پارلیمانی ایکٹ کے تحت ملک میں انجینئرنگ کے پیشے اور تعلیم کی ریگولرائزیشن کے لیے پی ای سی قائم کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1571925/row-between-engineering-council-agp-over-audit-of-accounts"&gt;یہ خبر&lt;/a&gt; 30 جولائی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ملک کے 2 ریگولیٹری اداروں آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) اور پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے مابین انجینئرنگ ریگولیٹر کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر تنازع کھڑا ہوگیا۔</p>

<p>باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے متعدد درخواستوں کے باوجود پی ای سی نے آڈٹ کے لیے اکاؤنٹ پیش نہیں کیے کہ اپنی مرضی کی نجی کمپنی سے کروائے گئے اس کے آڈٹ کی آڈیٹر جنرل کو توثیق کرنی چاہیے۔</p>

<p>خیال رہے کہ ایسے تمام سرکاری محکمے، ادارے، ریگولیٹرز، خودمختار اور نیم خودمختار کارپوریشنز اور کمپنیز کے جہاں عوامی پیسہ شامل ہو ان کا آڈٹ کرنا آڈیٹر جنرل پاکستان کی ذمہ داری ہے۔</p>

<p>مذکورہ معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں زیر بحث آیا جہاں پی ای سی کی درخواست پر کونسل کو اس شرط پر اپنی مرضی کی کمپنی سے آڈٹ کروانے کی اجازت دے دی گئی کہ اس کی رپورٹ کی توثیق آڈیٹر جنرل پاکستان سے کروائی جائے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094915">پاکستان انجینئرنگ کونسل کا اپنے اکاؤنٹس تک رسائی دینے سے انکار ، آڈٹ رپورٹ</a></strong></p>

<p>پی ای سی نے اس بات پر اتفاق کیا اور ایک نجی کمپنی سے آڈٹ کروا کر رپورٹ کو وفاقی آڈٹ کی توثیق کے لیے اے جی پی کو بھجوادیا۔</p>

<p>تاہم ڈائریکٹر جنرل وفاقی آڈٹ نے اسے قبول نہیں کیا اور اسے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا کیوں کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ایک قانونی سرکاری تنظیم ہے جس کی سرپرست وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہے۔</p>

<p>چنانچہ اس کا آڈٹ اے جی پی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جو حکومت پاکستان کے ماتحت تمام اداروں کا آڈٹ کرنے کا آئینی ادارہ ہے۔</p>

<p>ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ پی ای سی کو قواعد کی پاسداری کرتے ہوئے اے جی پی کو آڈٹ کے لیے رسائی دینی ہوگی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082799">انجینئرنگ کونسل کا ڈیم کیلئے درکار افرادی قوت پر سپریم کورٹ سے رابطہ</a></strong></p>

<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے نکات پی ای سی کے مؤقف کی تصدیق نہیں کرتے۔</p>

<p>درحقیقت ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ای سی نے بارہا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کو یہ شکایت کی کہ 19 فروری کو ہونے والے کمیٹی اجلاس کے نکات میں اس کی نجی طور پر آڈٹ کروانے کی درخواست کو قبول نہیں کیا گیا۔</p>

<p>پی ای سی نے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کو لکھا کہ یہ معاملہ کمیٹی اجلاس میں زیر بحث آیا تھا جس میں ’متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ای ای قیام پارلیمان کے ایک ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا اور سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم سے کروایا گیا آڈٹ تصدیق اور تعمیل کے لیے آڈیٹر جنرل پاکستان میں پیش کرنا چاہیے۔</p>

<p>چنانچہ اس فیصلے کے تحت پی ای سی نے اپنی آڈٹ رپورٹ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پاس جمع کروائی اور پی اے سی کی ہدایات پر عمل کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120787">’سال 18-2017 میں غفلت کے باعث 423 ارب روپے کا نقصان ہوا‘</a></strong> </p>

<p>تاہم آڈٹ کے ڈائریکٹر جنرل نے پی اے سی کے فیصلے کے ’خلاف‘ پی اے سی کو آڈٹ کی اطلاع بھجوائی، کونسل نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پی اے سی کے اجلاس کے نکات بھی واضح نہیں کرتے کہ یہ فیصلہ کمیٹی نے کیا۔</p>

<p>اس ضمن میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس نے بھی اجلاس کے نکات پر اعتراض اٹھائے تھے حتیٰ کہ کمیٹی کی جانب سے دوبارہ کوریجنڈم جاری ہونے کے باوجود ’پی اے سی کا اصل فیصلہ شامل نہیں کیا گیا‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ 1976 میں پارلیمانی ایکٹ کے تحت ملک میں انجینئرنگ کے پیشے اور تعلیم کی ریگولرائزیشن کے لیے پی ای سی قائم کی گئی تھی۔</p>

<hr />

<p><strong><a href="https://www.dawn.com/news/1571925/row-between-engineering-council-agp-over-audit-of-accounts">یہ خبر</a> 30 جولائی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1138478</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2020 18:27:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/07/5f227fbc2231d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/07/5f227fbc2231d.jpg"/>
        <media:title>دفتر آڈیٹر جنرل پاکستان—بشکریہ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
