<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:29:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:29:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریس کے شیدائیوں نے مقابلہ دیکھنے کیلئے کرینیں کرائے پر لے لیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1138502/</link>
      <description>&lt;p&gt;پولینڈ کے شہر لیوبلِن میں کورونا وبا کے باعث عائد پابندیوں کے پیشِ نظر ریس کے شیدائیوں نے ریس دیکھنے کے لیے کرینیں کرائیں پر لے لیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈیٹی سینٹرل پر شائع ہونے والی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.odditycentral.com/news/fans-rent-cranes-to-watch-car-race-from-outside-arena-during-pandemic.html#more-70463"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق کورونا کے سبب سماجی فاصلے کی احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے صرف 25 فیصد تماشائیوں کو ریس ارینا کے اندر داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم کچھ تماشائیوں نے ایرینا میں داخل ہوئے بغیر ریس سے لطف اٹھانے کا انوکھا ہی انداز اختیار کیا اور تعمیراتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی کرینوں پر سوار ہو کر ریس دیکھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی دیکھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067190/"&gt;میچ کے دوران تماشائی ایک دوسرے سے الجھ پڑے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے 21 کرینیں کرائے پر لی گئیں اور ہر کرین کے پلیٹ فارم پر 3 سے 4 افراد سوار ہوئے جس کے بعد انہیں اسٹیڈیم سے اوپر کر کے مقابلہ دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تماشائیوں کے ریس سے محظوظ ہونے کے انوکھے طریقے کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/07/5f22c4c593727.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/07/5f22c4c593727.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/07/5f22c4c593727.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/07/5f22c4c593727.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="تماشائیوں نے 21 کرینوں پر سوار ہو کر ریس سے لطف اٹھایا&amp;mdash;تصویر بشکریہ آڈیٹی سینٹرل" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;تماشائیوں نے 21 کرینوں پر سوار ہو کر ریس سے لطف اٹھایا—تصویر بشکریہ آڈیٹی سینٹرل&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولینڈ کی کھیلوں کی ویب سائٹ کے مطابق رواں برس نیشنل اسپیڈ وے ایکسٹرا لیگ کے آغاز کے وقت اسٹیڈیم کے باہر صرف 3 کرینیں دیکھی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ہر ریس کے بعد کرینوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا جو آخری میچ میں 21 تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1028275"&gt;کس ملک میں زیادہ تماشائی ٹیسٹ میچ دیکھنے آتے ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرین کو تفریح کے لیے استعمال کرنے کا آئیڈیا دینے والے شخص کا کہنا تھا ان کے پاس شائقین کی طرف سے موصول ہونے والی درخواستوں کی بھرمار ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں جب کسی کھیل کے شائقین نے مقابلہ دیکھنے کے لیے کرین کا استعمال کیا ہو بلکہ اس سے پہلے ترکی کے فٹ بال کلب کے ایک پرستار نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے پر پابندی عائد کیے جانے پر کرین کی مدد سے میچ دیکھا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پولینڈ کے شہر لیوبلِن میں کورونا وبا کے باعث عائد پابندیوں کے پیشِ نظر ریس کے شیدائیوں نے ریس دیکھنے کے لیے کرینیں کرائیں پر لے لیں۔</p>

<p>آڈیٹی سینٹرل پر شائع ہونے والی <strong><a href="https://www.odditycentral.com/news/fans-rent-cranes-to-watch-car-race-from-outside-arena-during-pandemic.html#more-70463">رپورٹ</a></strong> کے مطابق کورونا کے سبب سماجی فاصلے کی احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے صرف 25 فیصد تماشائیوں کو ریس ارینا کے اندر داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔</p>

<p>تاہم کچھ تماشائیوں نے ایرینا میں داخل ہوئے بغیر ریس سے لطف اٹھانے کا انوکھا ہی انداز اختیار کیا اور تعمیراتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی کرینوں پر سوار ہو کر ریس دیکھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی دیکھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067190/">میچ کے دوران تماشائی ایک دوسرے سے الجھ پڑے</a></strong></p>

<p>اس مقصد کے لیے 21 کرینیں کرائے پر لی گئیں اور ہر کرین کے پلیٹ فارم پر 3 سے 4 افراد سوار ہوئے جس کے بعد انہیں اسٹیڈیم سے اوپر کر کے مقابلہ دکھایا گیا۔</p>

<p>تماشائیوں کے ریس سے محظوظ ہونے کے انوکھے طریقے کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/07/5f22c4c593727.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/07/5f22c4c593727.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/07/5f22c4c593727.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/07/5f22c4c593727.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="تماشائیوں نے 21 کرینوں پر سوار ہو کر ریس سے لطف اٹھایا&mdash;تصویر بشکریہ آڈیٹی سینٹرل" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">تماشائیوں نے 21 کرینوں پر سوار ہو کر ریس سے لطف اٹھایا—تصویر بشکریہ آڈیٹی سینٹرل</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>پولینڈ کی کھیلوں کی ویب سائٹ کے مطابق رواں برس نیشنل اسپیڈ وے ایکسٹرا لیگ کے آغاز کے وقت اسٹیڈیم کے باہر صرف 3 کرینیں دیکھی گئی تھیں۔</p>

<p>تاہم ہر ریس کے بعد کرینوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا جو آخری میچ میں 21 تک پہنچ گئی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1028275">کس ملک میں زیادہ تماشائی ٹیسٹ میچ دیکھنے آتے ہیں؟</a></strong></p>

<p>کرین کو تفریح کے لیے استعمال کرنے کا آئیڈیا دینے والے شخص کا کہنا تھا ان کے پاس شائقین کی طرف سے موصول ہونے والی درخواستوں کی بھرمار ہوگئی ہے۔</p>

<p>یہ پہلا موقع نہیں جب کسی کھیل کے شائقین نے مقابلہ دیکھنے کے لیے کرین کا استعمال کیا ہو بلکہ اس سے پہلے ترکی کے فٹ بال کلب کے ایک پرستار نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے پر پابندی عائد کیے جانے پر کرین کی مدد سے میچ دیکھا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1138502</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2020 20:51:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/07/5f22c4aa2c622.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/07/5f22c4aa2c622.jpg"/>
        <media:title>ہر کرین کے پلیٹ فارم پر 3 سے 4 افراد سوار ہوئے —تصویر بشکریہ آڈیٹی سینٹرل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
