<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:31:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:31:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کراچی بہتر کا مستحق ہے، بلکہ بہت بہتر کا‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1140902/</link>
      <description>&lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/08/5f4caef8460a8.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/08/5f4caef8460a8.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/08/5f4caef8460a8.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/08/5f4caef8460a8.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لکھاری اسلام آباد میں ڈان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لکھاری اسلام آباد میں ڈان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یقیناً پانی تو واپس چلا جائے گا، مگر سوالات موجود رہیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہرِ کراچی میں آنے والے شدید سیلاب نے بہت کچھ بے نقاب کردیا ہے مگر یہاں کام کرنے اور نہ کرنے سے متعلق عدم استحکام سے متعلق پالیسی زیادہ واضح ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس لیے یہ حالات یقینی طور پر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتے ہیں، بلکہ ہونے چاہئیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن کیسے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہمیں بار بار یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ کراچی کے مسائل بہت زیادہ گھمبیر ہیں، جو محض نالوں کی صفائی یا ایک مکمل بااختیار میئر کی تعیناتی سے حل نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان مسائل کی جڑیں بے تحاشہ تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، سیاسی مفادات اور اداروں کے درمیان کشیدگی کے نیچے دب چکی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مختصر یہ کہ کوئی بھی حکومت تنِ تنہا ان مسائل کو حل نہیں کرسکتی۔ اس کا نتیجہ کئی دہائیوں سے اس بحث کی صورت نکل رہا ہے کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اس بارے میں بات ہوتی ہے کہ اب تک یہ سب کیوں نہیں کیا جاسکا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن اب ان حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر اس بحث کو گرما دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بارش کے بعد کھڑے اس پانی نے تازہ سیاسی اور انتظامی مفادات کے لیے زبردست ماحول بنادیا ہے۔ اب یہاں روایتی طرزِ حکمرانی کو جاری رکھنے اور اس کی دلیل دینے والے کم کم نظر آئیں گے۔ اور اگر ایسا کرنے والے نظر آئے بھی تو ان کی بات کو اب زیادہ اہمیت نہیں دی جائے گی۔ یعنی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کمزور ہوگی اور اصلاحات سے متعلق راستے ہموار ہوتے چلے جائیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--scribe  '&gt;                &lt;iframe src="https://www.dawnnews.tv/news/embed/1140526" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہمیں یہ کہہ لینا چاہیے کہ کراچی نے اپنی تبدیلی کے لیے خود راستہ تلاش کرلیا ہے۔ تمام ادارے اس شہر کی ترقی کے لیے اصلاحات لانے اور اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ سب کچھ محض اس بنیادی نقطے سے شروع ہوسکتا ہے کہ اب معاملات کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ فیصلہ اس اصول کی بنیاد پر لیا جاسکتا ہے کہ جوائنٹ ایکشن ٹیم مل بیٹھ کر اس پوری صورتحال کا جائزہ لے گی۔ یقینی طور پر اس پر عمل ہرگز اتنا آسان نہیں جتنا یہ سب کچھ کہنا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اس پوری صورتحال میں اپنی آئینی پوزیشن کا دفاع کرے گی، کیونکہ جب اس شہر میں ان اصلاحات کو نافذ کرنے کی بات آئے گی تو بظاہر سارے اختیارات اسی جماعت کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ 14 ممبر قومی اسمبلی کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی اس شہر کی ایک اسٹیک ہولڈر ہے، لیکن چونکہ وہ وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے صوبے میں ان کا کردار بس مشاورتی سطح تک ہی محدود رہے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جہاں تک بلدیاتی نظام اور حکومت کی بات ہے تو یہ ایک بیکار نظام ہے، اور ویسے بھی اس شہر کے میئر جمعے کی رات پانی میں ڈوبے ہوئے کراچی کو الوداع کہہ چکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پھر اس شہر میں ایک اور بڑا مسئلہ متعدد نظام، حکام اور بورڈز کی موجودگی ہے، جس کی وجہ سے کوئی ایک ایسا فرد نہیں جو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے آگے بڑھے اور ان سے جان چھڑائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان حالیہ تباہ کن بارشوں سے پہلے ایک کمیٹی قائم ہوئی تھی، جس کے سربراہ وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ مقرر ہوئے تھے اور اس کمیٹی میں پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اراکین بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی میں شامل نمائندوں کی یہی ذمہ داری تھی کہ وہ اس شہر کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔ لیکن وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ نے واضح طور پر یہ بیان کردیا تھا کہ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد کسی بھی طور پر مشترکہ حکمرانی جیسا کوئی اصول نہیں ہے۔ اس حوالے سے مکمل اختیار صوبائی حکومت کو ہی حاصل ہے۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد سیاسی رکاوٹوں کو دُور کرنا ہے، جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=631667847785502&amp;amp;extid=gywU7yHviHkFgmkh" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی واضح رہے کہ اس کمیٹی کا قیام خود اپنے طور پر نہیں ہوا، اور ویسے بھی سیاسی طور پر تقسیم جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں وہاں ایسا خود سے ہونا ممکن بھی نہیں۔ بلکہ اس کمیٹی کا بننا اس طرف اشارہ کررہا ہے کہ اگر کراچی میں کام کرنے کے لیے کبھی بھی ضرورت پڑی تو اس قسم کے اسٹریٹجک فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پھر اگر کراچی کو بچانے کے لیے ایسا کوئی پلان موجود بھی ہے تو کسی بھی طور پر وہ کام چلاؤ یا عارضی طور پر مسائل کو حل کرنے جیسا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ درحقیقت وہ ایسی مشترکہ کاوش ہونی چاہیے جو موجودہ سیاسی اور آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام کرے۔ ایک ایسی کمیٹی جو تمام معاملات کو حل کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کمیٹی کو ایک نام دیا جائے اور پھر اس حوالے سے معاملات کو طے کیا جائے کہ یہ کس طرح صوبائی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کمیٹی کی سربراہی وزیرِاعلی مراد علی شاہ کریں اور اس میں محض پی ٹی آئی یا ایم کیو ایم کے افراد کو شامل نہیں کیا جائے بلکہ ہر اس جماعت کو شامل کیا جائے جس کی اس شہر میں نمائندگی موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--scribe  '&gt;                &lt;iframe src="https://www.dawnnews.tv/news/embed/1140690" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید آگے بڑھ کر اس کمیٹی کو یہ بھی اختیار ہونا چاہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر فوج کو بھی بلاسکے۔ ساتھ ساتھ تکنیکی ماہرین اور مشیران کو بھی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ درحقیقت اس کمیٹی کو مندرجہ ذیل بیان کیے جانے والے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;مقامی حکومت سے متعلق ایسے نظام پر کام کیا جائے جس پر سب کا مکمل اتفاق ہو اور پھر اس متفقہ نظام کو اسمبلی سے منظور کروانے کے لیے کوششیں کی جائیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایک ایسے انتظامی اسٹرکچر کے قیام کی کوشش کی جائے جس میں شہر کی تمام اتھارٹیز اور کام کرنے والے مختلف نظاموں کو ایک چھتری تلے کرکے اس کا اختیار میئر کو دے دیا جائے۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اس بات پر غور کیا جائے کہ کس طرح اصول و ضوابط میں رہتے ہوئے ڈی ایچ اے اور دیگر کینٹونمنٹ بورڈز کے معاملات کو نمٹایا جائے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;شہر سے تمام تجاوزات کے خاتمے سے متعلق بھرپور پلاننگ کی جائے جن کی وجہ سے شہر میں پانی کھڑے رہنے کے مسائل درپیش ہیں۔ ساتھ ساتھ اس حوالے سے بھی کام کیا جائے کہ تجاوزات کے خاتمے کے نتیجے میں جو لوگ بے گھر ہوں گے ان کے لیے کیا انتظام کیا جائے گا، چاہے وہ زمین دینے کی صورت میں ہو یا پھر رقم۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایک ایسی پالیسی مرتب کی جائے جس کی مدد سے مقامی اداروں میں موجود اضافی افراد کو فارغ کرنے سے متعلق سیاسی مسائل کو دُور کرنے کے لیے کوشش کی جائے۔ &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تجاوزات کے خاتمے کے بعد پانی کی نکاسی کس طرح ممکن ہوسکے گی، اس حوالے سے بلیو پرنٹ کی تیاری پر زور دیا جائے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;شہر سے کچرا اٹھانے اور اس کو ٹھکانے لگانے سے متعلق بھی فیصلہ کیا جائے اور اس حوالے سے ضروری مشینری کے انتظام پر بھی غور کیا جائے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا قیام لازمی بنایا جائے جس میں کراچی سرکلر ریلوے، گرین لائن اور دیگر نظام شامل ہونے چاہئیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بلڈنگ کنٹرول سے متعلق قوانین میں ریفارمز کے لیے کوششیں کی جائیں تاکہ مستقبل میں شہر ترتیب شدہ طریقے سے آگے بڑھے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ان سارے کاموں کی انجام دہی کے لیے صوبائی اور وفاقی بجٹ سے کس طرح رقم لی جاسکتی ہے، اس پر بھی کام کیا جائے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;

&lt;p&gt;سچ بات کی جائے تو ایسی سیکڑوں وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں کسی پر بھی عمل نہیں ہوگا، لیکن ساتھ ہزار ایسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ان پر عملدرآمد کیوں ضروری ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہمیں یہ کہہ لینا چاہیے کہ کراچی نے اپنی تبدیلی کے لیے خود راستہ تلاش کرلیا ہے۔ تمام ادارے اس شہر کی ترقی کے لیے اصلاحات لانے اور اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت ریاست کا جھکاؤ کراچی کی جانب ہے، اور اگر یہ چھکاؤ ٹھیک نکات کے ساتھ ٹھیک وقت پر ٹھیک وجوہات کے لیے ہوا تو یہ ان تمام قوتوں کو شکست سے دوچار کردے گا جو کراچی کو بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ساتھ یہ جھکاؤ شہر کی تمام قوتوں کو ایک چھت تلے لانے اور مل بیٹھ کر ان مسائل کو تیزی کے ساتھ حل کرنے کے لیے قائل کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت شہر میں مایوسی، غصے اور امید کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ ہر شہری کہنے پر مجبور ہوچکا ہے کہ بس، اب بہت ہوا۔ کراچی اس سے بہتر کا مستحق ہے، بلکہ بہت بہتر کا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب وقت آگیا ہے کہ تبدیلی لائی جائے، پھر چاہے وہ کچھ بھی ہو، لیکن اگر حکمت عملی بنانے والے ٹھیک سوچ رہے ہیں تو پھر وہ گورنر راج یا کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے جیسے فضول خیالات سے دُور رہتے ہوئے ایسی زبردست ریفارمز لائیں گے جو کراچی کو پاکستان کی ترقی کے لیے بطور انجن تیار کردیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1576986/wading-through-reform"&gt;مضمون&lt;/a&gt; 29 اگست 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/08/5f4caef8460a8.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/08/5f4caef8460a8.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/08/5f4caef8460a8.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/08/5f4caef8460a8.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لکھاری اسلام آباد میں ڈان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لکھاری اسلام آباد میں ڈان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>یقیناً پانی تو واپس چلا جائے گا، مگر سوالات موجود رہیں گے۔</strong></p>

<p>شہرِ کراچی میں آنے والے شدید سیلاب نے بہت کچھ بے نقاب کردیا ہے مگر یہاں کام کرنے اور نہ کرنے سے متعلق عدم استحکام سے متعلق پالیسی زیادہ واضح ہوچکی ہے۔</p>

<p>اس لیے یہ حالات یقینی طور پر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتے ہیں، بلکہ ہونے چاہئیں۔ </p>

<p>لیکن کیسے؟</p>

<p>ہمیں بار بار یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ کراچی کے مسائل بہت زیادہ گھمبیر ہیں، جو محض نالوں کی صفائی یا ایک مکمل بااختیار میئر کی تعیناتی سے حل نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان مسائل کی جڑیں بے تحاشہ تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، سیاسی مفادات اور اداروں کے درمیان کشیدگی کے نیچے دب چکی ہیں۔ </p>

<p>مختصر یہ کہ کوئی بھی حکومت تنِ تنہا ان مسائل کو حل نہیں کرسکتی۔ اس کا نتیجہ کئی دہائیوں سے اس بحث کی صورت نکل رہا ہے کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اس بارے میں بات ہوتی ہے کہ اب تک یہ سب کیوں نہیں کیا جاسکا۔</p>

<p>لیکن اب ان حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر اس بحث کو گرما دیا ہے۔</p>

<p>بارش کے بعد کھڑے اس پانی نے تازہ سیاسی اور انتظامی مفادات کے لیے زبردست ماحول بنادیا ہے۔ اب یہاں روایتی طرزِ حکمرانی کو جاری رکھنے اور اس کی دلیل دینے والے کم کم نظر آئیں گے۔ اور اگر ایسا کرنے والے نظر آئے بھی تو ان کی بات کو اب زیادہ اہمیت نہیں دی جائے گی۔ یعنی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کمزور ہوگی اور اصلاحات سے متعلق راستے ہموار ہوتے چلے جائیں گے۔ </p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--scribe  '>                <iframe src="https://www.dawnnews.tv/news/embed/1140526" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ہمیں یہ کہہ لینا چاہیے کہ کراچی نے اپنی تبدیلی کے لیے خود راستہ تلاش کرلیا ہے۔ تمام ادارے اس شہر کی ترقی کے لیے اصلاحات لانے اور اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔ </p>

<p>یہ سب کچھ محض اس بنیادی نقطے سے شروع ہوسکتا ہے کہ اب معاملات کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ فیصلہ اس اصول کی بنیاد پر لیا جاسکتا ہے کہ جوائنٹ ایکشن ٹیم مل بیٹھ کر اس پوری صورتحال کا جائزہ لے گی۔ یقینی طور پر اس پر عمل ہرگز اتنا آسان نہیں جتنا یہ سب کچھ کہنا۔ </p>

<p>پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اس پوری صورتحال میں اپنی آئینی پوزیشن کا دفاع کرے گی، کیونکہ جب اس شہر میں ان اصلاحات کو نافذ کرنے کی بات آئے گی تو بظاہر سارے اختیارات اسی جماعت کے پاس ہیں۔</p>

<p>اگرچہ 14 ممبر قومی اسمبلی کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی اس شہر کی ایک اسٹیک ہولڈر ہے، لیکن چونکہ وہ وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے صوبے میں ان کا کردار بس مشاورتی سطح تک ہی محدود رہے گا۔ </p>

<p>جہاں تک بلدیاتی نظام اور حکومت کی بات ہے تو یہ ایک بیکار نظام ہے، اور ویسے بھی اس شہر کے میئر جمعے کی رات پانی میں ڈوبے ہوئے کراچی کو الوداع کہہ چکے۔</p>

<p>پھر اس شہر میں ایک اور بڑا مسئلہ متعدد نظام، حکام اور بورڈز کی موجودگی ہے، جس کی وجہ سے کوئی ایک ایسا فرد نہیں جو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے آگے بڑھے اور ان سے جان چھڑائے۔</p>

<p>ان حالیہ تباہ کن بارشوں سے پہلے ایک کمیٹی قائم ہوئی تھی، جس کے سربراہ وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ مقرر ہوئے تھے اور اس کمیٹی میں پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اراکین بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی میں شامل نمائندوں کی یہی ذمہ داری تھی کہ وہ اس شہر کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔ لیکن وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ نے واضح طور پر یہ بیان کردیا تھا کہ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد کسی بھی طور پر مشترکہ حکمرانی جیسا کوئی اصول نہیں ہے۔ اس حوالے سے مکمل اختیار صوبائی حکومت کو ہی حاصل ہے۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد سیاسی رکاوٹوں کو دُور کرنا ہے، جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ </p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=631667847785502&amp;extid=gywU7yHviHkFgmkh" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ بھی واضح رہے کہ اس کمیٹی کا قیام خود اپنے طور پر نہیں ہوا، اور ویسے بھی سیاسی طور پر تقسیم جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں وہاں ایسا خود سے ہونا ممکن بھی نہیں۔ بلکہ اس کمیٹی کا بننا اس طرف اشارہ کررہا ہے کہ اگر کراچی میں کام کرنے کے لیے کبھی بھی ضرورت پڑی تو اس قسم کے اسٹریٹجک فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔</p>

<p>پھر اگر کراچی کو بچانے کے لیے ایسا کوئی پلان موجود بھی ہے تو کسی بھی طور پر وہ کام چلاؤ یا عارضی طور پر مسائل کو حل کرنے جیسا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ درحقیقت وہ ایسی مشترکہ کاوش ہونی چاہیے جو موجودہ سیاسی اور آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام کرے۔ ایک ایسی کمیٹی جو تمام معاملات کو حل کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔ </p>

<p>اس کمیٹی کو ایک نام دیا جائے اور پھر اس حوالے سے معاملات کو طے کیا جائے کہ یہ کس طرح صوبائی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔ </p>

<p>اس کمیٹی کی سربراہی وزیرِاعلی مراد علی شاہ کریں اور اس میں محض پی ٹی آئی یا ایم کیو ایم کے افراد کو شامل نہیں کیا جائے بلکہ ہر اس جماعت کو شامل کیا جائے جس کی اس شہر میں نمائندگی موجود ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--scribe  '>                <iframe src="https://www.dawnnews.tv/news/embed/1140690" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مزید آگے بڑھ کر اس کمیٹی کو یہ بھی اختیار ہونا چاہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر فوج کو بھی بلاسکے۔ ساتھ ساتھ تکنیکی ماہرین اور مشیران کو بھی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ درحقیقت اس کمیٹی کو مندرجہ ذیل بیان کیے جانے والے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔</p>

<ul>
<li>مقامی حکومت سے متعلق ایسے نظام پر کام کیا جائے جس پر سب کا مکمل اتفاق ہو اور پھر اس متفقہ نظام کو اسمبلی سے منظور کروانے کے لیے کوششیں کی جائیں۔</li>
<li>ایک ایسے انتظامی اسٹرکچر کے قیام کی کوشش کی جائے جس میں شہر کی تمام اتھارٹیز اور کام کرنے والے مختلف نظاموں کو ایک چھتری تلے کرکے اس کا اختیار میئر کو دے دیا جائے۔ </li>
<li>اس بات پر غور کیا جائے کہ کس طرح اصول و ضوابط میں رہتے ہوئے ڈی ایچ اے اور دیگر کینٹونمنٹ بورڈز کے معاملات کو نمٹایا جائے۔</li>
<li>شہر سے تمام تجاوزات کے خاتمے سے متعلق بھرپور پلاننگ کی جائے جن کی وجہ سے شہر میں پانی کھڑے رہنے کے مسائل درپیش ہیں۔ ساتھ ساتھ اس حوالے سے بھی کام کیا جائے کہ تجاوزات کے خاتمے کے نتیجے میں جو لوگ بے گھر ہوں گے ان کے لیے کیا انتظام کیا جائے گا، چاہے وہ زمین دینے کی صورت میں ہو یا پھر رقم۔ </li>
<li>ایک ایسی پالیسی مرتب کی جائے جس کی مدد سے مقامی اداروں میں موجود اضافی افراد کو فارغ کرنے سے متعلق سیاسی مسائل کو دُور کرنے کے لیے کوشش کی جائے۔ </li>
<li>تجاوزات کے خاتمے کے بعد پانی کی نکاسی کس طرح ممکن ہوسکے گی، اس حوالے سے بلیو پرنٹ کی تیاری پر زور دیا جائے۔</li>
<li>شہر سے کچرا اٹھانے اور اس کو ٹھکانے لگانے سے متعلق بھی فیصلہ کیا جائے اور اس حوالے سے ضروری مشینری کے انتظام پر بھی غور کیا جائے۔</li>
<li>پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا قیام لازمی بنایا جائے جس میں کراچی سرکلر ریلوے، گرین لائن اور دیگر نظام شامل ہونے چاہئیں۔</li>
<li>بلڈنگ کنٹرول سے متعلق قوانین میں ریفارمز کے لیے کوششیں کی جائیں تاکہ مستقبل میں شہر ترتیب شدہ طریقے سے آگے بڑھے۔</li>
<li>ان سارے کاموں کی انجام دہی کے لیے صوبائی اور وفاقی بجٹ سے کس طرح رقم لی جاسکتی ہے، اس پر بھی کام کیا جائے۔</li>
</ul>

<p>سچ بات کی جائے تو ایسی سیکڑوں وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں کسی پر بھی عمل نہیں ہوگا، لیکن ساتھ ہزار ایسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ان پر عملدرآمد کیوں ضروری ہے۔ </p>

<p>ہمیں یہ کہہ لینا چاہیے کہ کراچی نے اپنی تبدیلی کے لیے خود راستہ تلاش کرلیا ہے۔ تمام ادارے اس شہر کی ترقی کے لیے اصلاحات لانے اور اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔ </p>

<p>اس وقت ریاست کا جھکاؤ کراچی کی جانب ہے، اور اگر یہ چھکاؤ ٹھیک نکات کے ساتھ ٹھیک وقت پر ٹھیک وجوہات کے لیے ہوا تو یہ ان تمام قوتوں کو شکست سے دوچار کردے گا جو کراچی کو بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ساتھ یہ جھکاؤ شہر کی تمام قوتوں کو ایک چھت تلے لانے اور مل بیٹھ کر ان مسائل کو تیزی کے ساتھ حل کرنے کے لیے قائل کرسکتا ہے۔</p>

<p>اس وقت شہر میں مایوسی، غصے اور امید کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ ہر شہری کہنے پر مجبور ہوچکا ہے کہ بس، اب بہت ہوا۔ کراچی اس سے بہتر کا مستحق ہے، بلکہ بہت بہتر کا۔</p>

<p>اب وقت آگیا ہے کہ تبدیلی لائی جائے، پھر چاہے وہ کچھ بھی ہو، لیکن اگر حکمت عملی بنانے والے ٹھیک سوچ رہے ہیں تو پھر وہ گورنر راج یا کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے جیسے فضول خیالات سے دُور رہتے ہوئے ایسی زبردست ریفارمز لائیں گے جو کراچی کو پاکستان کی ترقی کے لیے بطور انجن تیار کردیں گے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ <a href="https://www.dawn.com/news/1576986/wading-through-reform">مضمون</a> 29 اگست 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1140902</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Aug 2020 13:51:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/08/5f4caddc6b784.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/08/5f4caddc6b784.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
