<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:44:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:44:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آذربائیجان کو ہتھیاروں کی فروخت پر اسرائیل سفارتی تنقید کی زد میں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1143637/</link>
      <description>&lt;p&gt;آذربائیجان کو اسلحہ فروخت کرنے والے اسرائیل کو قفقاز میں متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں جاری لڑائی کے دوران مشکلات کا شکار آرمینیا کی جانب سے سفارتی تنقید کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1583526/israel-under-diplomatic-fire-over-sale-of-arms-to-azerbaijan"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آرمینیا کے اسرائیل کے حریف ایران کے ساتھ طویل تعلقات ہیں جبکہ تل ابیب میں اس نے 17 ستمبر کو صرف سفارت خانہ کھولا تھا لیکن آرمینیا نے آذربائیجان کو اسلحے کی فروخت کا حوالہ دیتے ہوئے صرف دو ہفتے بعد ہی اپنے سفیر کو واپس بلالیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسرائیل کے صدر نے اپنے آرمینیائی ہم منصب سے بات کی اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ اسرائیل کے لیے آذربائیجان کو اسلحے کی برآمد روکنا مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143562/"&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان شدید لڑائی، ہلاکتیں 240 سے زائد ہوگئیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی دراڑ اس وقت پڑی جب فلائٹ ٹریسنگ سائٹ پر فلائٹ ریڈار 24 کے دستاویزات کی بنیاد پر میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ آذربائیجان کا کارگو جہاز جنوبی اسرائیل سے روانہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریڈار 24 کا کہنا تھا کہ متنازع سرحد پر جھڑپوں کے دوران آذربائیجان کی کمپنی کیریئر سلک وے کے جہاز نے اوودا ملٹری بیس کے قریب رامون ایئر پورٹ سے اڑان بھری۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کا اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کا ایک طویل سلسلہ ہے اور اسی حوالے سے ایران نے 2012 میں آذربائیجان کے سفیر کو طلب کرکے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اسرائیل کی وزارت دفاع نے اسلحے کی فروخت سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے 2016 میں کہا تھا کہ اسرائیل سے دفاعی ساز و سامان کی خریداری کا بجٹ 4.85 ارب ڈالر ہے جو اس وقت 4.4 ارب یورو کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسرائیلی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا البیٹ سسٹم آذربائیجان کو فروخت کیا گیا ہے جس میں مسلح ڈرون شامل ہیں اور ان ڈرونز کے باعث آرمینیا کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ دہائیوں سے جاری تنازع میں توازن آگیا ہے کیونکہ آرمینیائی جنگجوؤں کو پہاڑیوں میں برتری حاصل تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142939/"&gt;آذر بائیجان، آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے میں جھڑپیں، 23 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر کے مشیر حکمت حاجی یوف نے اسرائیلی سرکاری ویب سائٹ کو گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ آذربائیجان اس وقت جاری جھڑپوں میں اسرائیلی ساختہ ڈرونز استعمال کر رہا ہے جس میں نام نہاد خودکش ڈرونز بھی شامل ہیں، جو نیگورونو-کاراباخ میں اپنے ہدف کو تباہ کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسرائیل کے صدر ریوون ریولن نے آرمینیائی ہم منصب آرمین سارکیسیان سے بات کی اور جھڑپوں میں دونوں جانب کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل یروشلم میں رواں ہفتے آرمینیائی حلقوں کی جانب سے اولڈ سٹی میں آرمینیا کا پرچم لہرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 5 برسوں کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کیا جس کی مالیت 74 کروڑ ڈالر سے زائد بنتی ہے اور اس ضمن میں روس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یروشلم انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجی اینڈ سیکیورٹی کے صدر ایفرین اینبار کا کہنا تھا کہ ‘آذربائیجان ہمارے لیے ایک اہم ملک ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ہمیشہ یہاں تک کہ کشیدگی کے دور میں بھی ایک اچھے سپلائر بننے کی کوشش کرتے ہیں، ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ آذربائیجان کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر عمل کریں گے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143472/"&gt;آرمینیائی فوج نے دوسرے شہر پر بھی گولہ باری کردی، آذربائیجان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایفرین اینبار نے کہا کہ ‘وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کی ذمہ داری ہماری نہیں ہے، وہ چھریوں اور پتھروں کے ساتھ لڑ سکتے ہیں، لوگ بہت ساری چیزوں کے ساتھ لڑ سکتے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات 1990 کے اوائل میں سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد قائم ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143368/"&gt;نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی پر بات کرنے کو تیار ہیں، آرمینیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آذربائیجان کو اسلحہ فروخت کرنے والے اسرائیل کو قفقاز میں متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں جاری لڑائی کے دوران مشکلات کا شکار آرمینیا کی جانب سے سفارتی تنقید کا سامنا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1583526/israel-under-diplomatic-fire-over-sale-of-arms-to-azerbaijan"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آرمینیا کے اسرائیل کے حریف ایران کے ساتھ طویل تعلقات ہیں جبکہ تل ابیب میں اس نے 17 ستمبر کو صرف سفارت خانہ کھولا تھا لیکن آرمینیا نے آذربائیجان کو اسلحے کی فروخت کا حوالہ دیتے ہوئے صرف دو ہفتے بعد ہی اپنے سفیر کو واپس بلالیا۔</p>

<p>اسرائیل کے صدر نے اپنے آرمینیائی ہم منصب سے بات کی اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ اسرائیل کے لیے آذربائیجان کو اسلحے کی برآمد روکنا مشکل ہوگا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143562/">آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان شدید لڑائی، ہلاکتیں 240 سے زائد ہوگئیں</a></strong> </p>

<p>آرمینیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی دراڑ اس وقت پڑی جب فلائٹ ٹریسنگ سائٹ پر فلائٹ ریڈار 24 کے دستاویزات کی بنیاد پر میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ آذربائیجان کا کارگو جہاز جنوبی اسرائیل سے روانہ ہوگیا ہے۔</p>

<p>ریڈار 24 کا کہنا تھا کہ متنازع سرحد پر جھڑپوں کے دوران آذربائیجان کی کمپنی کیریئر سلک وے کے جہاز نے اوودا ملٹری بیس کے قریب رامون ایئر پورٹ سے اڑان بھری۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کا اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کا ایک طویل سلسلہ ہے اور اسی حوالے سے ایران نے 2012 میں آذربائیجان کے سفیر کو طلب کرکے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔</p>

<p>خیال رہے کہ اسرائیل کی وزارت دفاع نے اسلحے کی فروخت سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی۔</p>

<p>آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے 2016 میں کہا تھا کہ اسرائیل سے دفاعی ساز و سامان کی خریداری کا بجٹ 4.85 ارب ڈالر ہے جو اس وقت 4.4 ارب یورو کے برابر ہے۔</p>

<p>اسرائیلی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا البیٹ سسٹم آذربائیجان کو فروخت کیا گیا ہے جس میں مسلح ڈرون شامل ہیں اور ان ڈرونز کے باعث آرمینیا کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ دہائیوں سے جاری تنازع میں توازن آگیا ہے کیونکہ آرمینیائی جنگجوؤں کو پہاڑیوں میں برتری حاصل تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142939/">آذر بائیجان، آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے میں جھڑپیں، 23 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>آذربائیجان کے صدر کے مشیر حکمت حاجی یوف نے اسرائیلی سرکاری ویب سائٹ کو گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ آذربائیجان اس وقت جاری جھڑپوں میں اسرائیلی ساختہ ڈرونز استعمال کر رہا ہے جس میں نام نہاد خودکش ڈرونز بھی شامل ہیں، جو نیگورونو-کاراباخ میں اپنے ہدف کو تباہ کرسکتے ہیں۔</p>

<p>اسرائیل کے صدر ریوون ریولن نے آرمینیائی ہم منصب آرمین سارکیسیان سے بات کی اور جھڑپوں میں دونوں جانب کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔</p>

<p>اس سے قبل یروشلم میں رواں ہفتے آرمینیائی حلقوں کی جانب سے اولڈ سٹی میں آرمینیا کا پرچم لہرایا گیا تھا۔</p>

<p>اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 5 برسوں کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کیا جس کی مالیت 74 کروڑ ڈالر سے زائد بنتی ہے اور اس ضمن میں روس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>

<p>یروشلم انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجی اینڈ سیکیورٹی کے صدر ایفرین اینبار کا کہنا تھا کہ ‘آذربائیجان ہمارے لیے ایک اہم ملک ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ہمیشہ یہاں تک کہ کشیدگی کے دور میں بھی ایک اچھے سپلائر بننے کی کوشش کرتے ہیں، ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ آذربائیجان کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر عمل کریں گے’۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143472/">آرمینیائی فوج نے دوسرے شہر پر بھی گولہ باری کردی، آذربائیجان</a></strong></p>

<p>ایفرین اینبار نے کہا کہ ‘وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کی ذمہ داری ہماری نہیں ہے، وہ چھریوں اور پتھروں کے ساتھ لڑ سکتے ہیں، لوگ بہت ساری چیزوں کے ساتھ لڑ سکتے ہیں’۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات 1990 کے اوائل میں سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد قائم ہوئے تھے۔</p>

<p>یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>

<p>دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔</p>

<p>آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143368/">نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی پر بات کرنے کو تیار ہیں، آرمینیا</a></strong></p>

<p>متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1143637</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Oct 2020 22:48:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7c608ad49d1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f7c608ad49d1.jpg"/>
        <media:title>اسرائیل، آذربائیجان کو اسلحہ فروخت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
