<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:56:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:56:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تسمانی شیطان کی 3 ہزار سال بعد آبائی زمین پر واپسی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1143640/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہولی وڈ سائنس فکشن فلموں میں'تھور' جیسا کردار ادا کرنے سے شہرت حاصل کرنے والے آسٹریلوی نژاد اداکار کرس ہیمس ورتھ اور جانوروں سے متعلق کام کرنے والی ایک تنظیم نے تسمانی شیطان (تسمانین ڈیولز) کہلائے جانے والے جانوروں کو تین ہزار سال بعد آبائی زمین پر چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تسمائی شیطان  (تسمانین ڈیولز) دراصل کتے اور ریچھ کی مشابہت والے چھوٹے قد کے گوشت خور جانور ہیں، جو دودھ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ جانور عام طور پر انسانوں پر حملہ نہیں کرتے، تاہم اگر کوئی ان پر حملہ کرے تو وہ بدلے میں اپنی حفاظت کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ جانوروں میں سے زیادہ تر کی رنگت سیاہ ہوتی ہے، تاہم ان میں سے کچھ بھورے اور خاکی رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ جانوروں پر تسمائی نام اس لیے پڑا، کیوں کہ انہیں ابتدائی طور پر آسٹریلیا کی جزیرہ نما ریاست تسمانیا میں پایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5f7c6c60da23c'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1129465/"&gt;ڈیڑھ صدی بعد نایاب بھورے ریچھ کی اسپین میں جھلک&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;تاہم کم از کم تین صدیوں سے مذکورہ جانور اپنی آبائی سرزمین یعنی آسٹریلیا کی ریاست تسمائی سے بیماریوں اور قحط سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے ختم ہوچکے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f7c6b67bb7ae.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/10/5f7c6b67bb7ae.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7c6b67bb7ae.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f7c6b67bb7ae.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="آئندہ چند ماہ میں مزید تسمانی شیطانوں کو آسٹریلوی جنگلات میں چھوڑا جائے گا&amp;mdash;اسکرین شاٹ/ ٰیوٹیوب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آئندہ چند ماہ میں مزید تسمانی شیطانوں کو آسٹریلوی جنگلات میں چھوڑا جائے گا—اسکرین شاٹ/ ٰیوٹیوب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تسمائی شیطان کو کئی سال سے منہ اور جبڑے کے کینسر کا سامنا ہے، جس وجہ سے 2008 میں اقوام متحدہ (یو این) اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اسے نایاب جانور قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تسیمائی شیطان کی نسل کی معدومیت کے خطرے کے باعث آسٹریلیا میں جانوروں کی افزائش و نشو نما کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دیگر عالمی فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر ان کی افزائش کی اور اب تین ہزار سال بعد مذکورہ جانور کو اپنی آبائی سرزمین میں چھوڑ دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رسان ادارے &lt;a href="https://uk.reuters.com/article/us-australia-environment-tasmanian-devil/tasmanian-devils-set-paw-on-mainland-australia-after-3000-years-idUKKBN26R0HC"&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ہولی وڈ اداکار کرس ہیمس ورتھ نے دیگر تنظیموں کے اشتراک سے تسمانی شیطان کے جانوروں کو ان کی آبائی زمین کہلائی جانے والی ریاست تسمانیا کے جنگلات میں چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f7c6bbd64ade.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/10/5f7c6bbd64ade.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7c6bbd64ade.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f7c6bbd64ade.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="تسمانی شیطانوں کو 5 اکتوبر کو 3 ہزار سال بعد آبائی سرزمین تسمانیا کے جنگلات میں چھوڑا گیا&amp;mdash;فوٹو: : Aussie Ark" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;تسمانی شیطانوں کو 5 اکتوبر کو 3 ہزار سال بعد آبائی سرزمین تسمانیا کے جنگلات میں چھوڑا گیا—فوٹو: : Aussie Ark&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تسمیانی شیطانوں کو آسٹریلوی جنگلات میں چھوڑے جانے کے موقع پر کرس ہیمس ورتھ کی اہلیہ اور دیگر سماجی رہنما بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر محدود تسمیانی شیطانوں کو جنگلات میں چھوڑا گیاہے، تاہم کرس ہیمس ورتھ اور آسٹریلیا میں جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے مطابق مجموعی طور آئندہ چند ماہ میں 400 تسمانی شیطانوں کو جنگلات میں چھوڑا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تسمانی شیطانوں کی تین ہزار سال بعد آبائی زمین پر واپسی کے موقع پر آسٹریلوی افراد نے خوشی کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذکورہ جانور اب منہ اور جبڑے کے کینسر کو شکست دینے میں کامیاب جائیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/EMQu7dg4Gek?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہولی وڈ سائنس فکشن فلموں میں'تھور' جیسا کردار ادا کرنے سے شہرت حاصل کرنے والے آسٹریلوی نژاد اداکار کرس ہیمس ورتھ اور جانوروں سے متعلق کام کرنے والی ایک تنظیم نے تسمانی شیطان (تسمانین ڈیولز) کہلائے جانے والے جانوروں کو تین ہزار سال بعد آبائی زمین پر چھوڑ دیا۔</p>

<p>تسمائی شیطان  (تسمانین ڈیولز) دراصل کتے اور ریچھ کی مشابہت والے چھوٹے قد کے گوشت خور جانور ہیں، جو دودھ دیتے ہیں۔</p>

<p>یہ جانور عام طور پر انسانوں پر حملہ نہیں کرتے، تاہم اگر کوئی ان پر حملہ کرے تو وہ بدلے میں اپنی حفاظت کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔</p>

<p>مذکورہ جانوروں میں سے زیادہ تر کی رنگت سیاہ ہوتی ہے، تاہم ان میں سے کچھ بھورے اور خاکی رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔</p>

<p>مذکورہ جانوروں پر تسمائی نام اس لیے پڑا، کیوں کہ انہیں ابتدائی طور پر آسٹریلیا کی جزیرہ نما ریاست تسمانیا میں پایا گیا تھا۔</p>

<h6 id='5f7c6c60da23c'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1129465/">ڈیڑھ صدی بعد نایاب بھورے ریچھ کی اسپین میں جھلک</a></h6>

<p>تاہم کم از کم تین صدیوں سے مذکورہ جانور اپنی آبائی سرزمین یعنی آسٹریلیا کی ریاست تسمائی سے بیماریوں اور قحط سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے ختم ہوچکے تھے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f7c6b67bb7ae.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/10/5f7c6b67bb7ae.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7c6b67bb7ae.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f7c6b67bb7ae.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="آئندہ چند ماہ میں مزید تسمانی شیطانوں کو آسٹریلوی جنگلات میں چھوڑا جائے گا&mdash;اسکرین شاٹ/ ٰیوٹیوب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آئندہ چند ماہ میں مزید تسمانی شیطانوں کو آسٹریلوی جنگلات میں چھوڑا جائے گا—اسکرین شاٹ/ ٰیوٹیوب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تسمائی شیطان کو کئی سال سے منہ اور جبڑے کے کینسر کا سامنا ہے، جس وجہ سے 2008 میں اقوام متحدہ (یو این) اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اسے نایاب جانور قرار دے دیا تھا۔</p>

<p>تسیمائی شیطان کی نسل کی معدومیت کے خطرے کے باعث آسٹریلیا میں جانوروں کی افزائش و نشو نما کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دیگر عالمی فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر ان کی افزائش کی اور اب تین ہزار سال بعد مذکورہ جانور کو اپنی آبائی سرزمین میں چھوڑ دیا گیا۔</p>

<p>خبر رسان ادارے <a href="https://uk.reuters.com/article/us-australia-environment-tasmanian-devil/tasmanian-devils-set-paw-on-mainland-australia-after-3000-years-idUKKBN26R0HC"><strong>رائٹرز</strong></a> کے مطابق ہولی وڈ اداکار کرس ہیمس ورتھ نے دیگر تنظیموں کے اشتراک سے تسمانی شیطان کے جانوروں کو ان کی آبائی زمین کہلائی جانے والی ریاست تسمانیا کے جنگلات میں چھوڑ دیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f7c6bbd64ade.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/10/5f7c6bbd64ade.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7c6bbd64ade.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f7c6bbd64ade.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="تسمانی شیطانوں کو 5 اکتوبر کو 3 ہزار سال بعد آبائی سرزمین تسمانیا کے جنگلات میں چھوڑا گیا&mdash;فوٹو: : Aussie Ark" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">تسمانی شیطانوں کو 5 اکتوبر کو 3 ہزار سال بعد آبائی سرزمین تسمانیا کے جنگلات میں چھوڑا گیا—فوٹو: : Aussie Ark</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تسمیانی شیطانوں کو آسٹریلوی جنگلات میں چھوڑے جانے کے موقع پر کرس ہیمس ورتھ کی اہلیہ اور دیگر سماجی رہنما بھی موجود تھے۔</p>

<p>ابتدائی طور پر محدود تسمیانی شیطانوں کو جنگلات میں چھوڑا گیاہے، تاہم کرس ہیمس ورتھ اور آسٹریلیا میں جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے مطابق مجموعی طور آئندہ چند ماہ میں 400 تسمانی شیطانوں کو جنگلات میں چھوڑا جائے گا۔</p>

<p>تسمانی شیطانوں کی تین ہزار سال بعد آبائی زمین پر واپسی کے موقع پر آسٹریلوی افراد نے خوشی کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذکورہ جانور اب منہ اور جبڑے کے کینسر کو شکست دینے میں کامیاب جائیں گے۔ </p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/EMQu7dg4Gek?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1143640</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Oct 2020 18:08:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7c6abe6a697.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f7c6abe6a697.jpg"/>
        <media:title>کتے کی طرح دکھنے والے گوشت خور جانور کی نسل کو معدومیت کا خطرہ ہے—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
