<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:32:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:32:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بغاوت کے مقدمے کا تنازع نیا موڑ اختیار کرگیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1143681/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر اور دیگر 40 مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143524/"&gt;&lt;strong&gt;درج ایف آئی آر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا تنازع اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کرگیا جب اس کا شکایت کنندہ فرد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کارکن نکلا، جس کا مجرمانہ ریکارڈ بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1583601/sedition-case-controversy-takes-new-turn"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حالیہ پیش رفت میں حکومت پنجاب نے راجا فاروق حیدر کا نام ایف آئی آر سے ختم کرنے کا فیصلہ بظاہر مختلف حلقوں کی جانب سے کی جانے والی اس تنقید کے بعد کیا جو دیکھتے ہیں کہ یہ قدم کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پیر کو نئے ’متنازع‘ چیف کے ماتحت لاہور پولیس نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز، راجا فاروق حیدر اور دیگر اعلیٰ لیگی قیادت کے خلاف بغاوت اور دیگر الزامات کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143621/"&gt;نواز شریف کے خلاف مقدمہ ریاست نہیں ایک شہری کی درخواست پر درج کیا، پولیس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم شکایت کنندہ بدر رشید عرف ہیرا کا مجرمانہ ریکارڈ اور پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ تصاویر سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے سب سے پہلے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور پر لیگی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا الزام لگایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بدر رشید کے بارے میں یہ کہا جارہا کہ وہ پی ٹی آئی لیبر ونگ کا عہدیدار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حیران کن طور پر شاہدرہ میں خورشید پارک کے رہائشی بدر رشید کے خلاف شاہدرہ پولیس کی جانب سے اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ ہے جبکہ اسی تھانے میں اب وہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں مدعی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ وہ شارق پور (ضلع نانکانہ) میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے اور اولڈ انارکلی تھانے میں پولیس افسر پر حملے کے الزام میں بھی ایف آئی آرز میں نامزد ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بدر رشید جو کچھ کیسز میں گرفتار بھی ہوا چکا ہے، اس نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر یونین کونسل کے چیئرمین کے لیے انتخاب بھی لڑا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ پنجاب اور وفاقی حکومتیں خود کو اس ایف آئی آر کے درج کروانے سے دور رکھ رہی ہیں تاہم کچھ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیسے ایک اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو تحریک انصاف حکومت کی اعلیٰ شخصیت یا اختیارات رکھنے والی کسی اور کے حکم کے بغیر 2 سابق وزرائے اعظم، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، 3 سابق فوجی افسران، سابق گورنر سندھ، سابق وزرائے دفاع و داخلہ، سابق وزیر قانون پنجاب اور دیگر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا اختیار دیا گیا؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ تھانے عموماً تب تک مقدمہ درج نہیں کرتے جب تک وہ ان کی حدود میں نہ ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نواز شریف نے اسلام آباد میں منعقد آل پارٹی کانفرنس (اے پی سی) اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں بالترتیب 20 ستمبر اور یکم اکتوبر کو تقاریر کی لیکن مقدمہ شاہدرہ تھانے میں درج ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان سوالات کے جوابات کے لیے ڈان نے کیپٹیل سٹی پولیس افسر عمر شیخ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی سی پی او کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا کہ جس میں واضح کیا گیا کہ (نواز شریف و دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف) ایف آئی آر ریاست یا کسی ریاستی ادارے کے حکم پر نہیں بلکہ ایک شہری بدر رشید کی شکایت پر درج کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں کہا گیا کہ ’پولیس نے کیس میں قانون کی تمام متعلقہ دفعات لگائی ہیں، کیس میں میرٹ پر تفتیش جاری ہے اور مذکورہ الزام میں نامزد کوئی بھی ملزم ملوث پایا گیا تو وہ مزید قانونی کارروائی کا سامنا کرے گا، مزید یہ کہ مقدمے میں انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ڈان سے گفتگو میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ’ہم تفتیشی مرحلے پر ایف آئی آر سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر کا نام نکالیں گے تاہم کیس میں نامزد دیگر افراد کے خلاف قانون کے مطابق تحقیقات ہوگی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا بزدار انتظامیہ نے راجا فاروق حیدر کے نام کو نکالنے کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ناپسندیدگی کے اظہار کے بعد کیا تو اس پر انہوں نے ’نہیں‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا اس رجسٹریشن میں کوئی کردار نہیں چونکہ پولیس نے ایک شہری کی شکایت پر یہ درج کی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیاض الحسن چوہان نے اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا کہ بدر رشید عرف ہیرا پی ٹی آئی کا عہدیدار تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143524/"&gt;لاہور: نواز شریف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’شکایت کنندہ کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں، بہت سے لوگ ہیں جن کی پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ تصاویر ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکنان بن گئے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ بدر رشید پی ٹی آئی یو سی چیئرمین کے ٹکٹ ہولڈر تھے اور ان کے بھائی 15 ایف آئی آرز میں نامزد کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا ’بدر رشید کا بھائی گورنر پنجاب چوہدری سرور کی اہلیہ کی این جی او میں کام کرتا ہے جبکہ چوہدری سرور جو فیڈریشن کی نمائندگی کرتے ہیں انہوں نے اس ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کیس وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر درج نہیں ہوسکتا، کسی ایس ایچ او میں ہمت نہیں کہ وہ ملک کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بغیر حکومتی حکم کے ایف آئی آر درج کرے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید برآں چوہدری محمد سرور نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ بدر رشید کی تصاویر صرف ان کے ساتھ نہیں بلکہ دیگر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں، وزیر ریلوے شیخ رشید اور اسٹیبلشمنٹ کے کچھ افراد کے ساتھ ہے لیکن ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے کیونکہ سیاستدان روزانہ کئی لوگوں سے ملتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر اور دیگر 40 مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143524/"><strong>درج ایف آئی آر</strong></a> کا تنازع اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کرگیا جب اس کا شکایت کنندہ فرد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کارکن نکلا، جس کا مجرمانہ ریکارڈ بھی ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1583601/sedition-case-controversy-takes-new-turn"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حالیہ پیش رفت میں حکومت پنجاب نے راجا فاروق حیدر کا نام ایف آئی آر سے ختم کرنے کا فیصلہ بظاہر مختلف حلقوں کی جانب سے کی جانے والی اس تنقید کے بعد کیا جو دیکھتے ہیں کہ یہ قدم کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ پیر کو نئے ’متنازع‘ چیف کے ماتحت لاہور پولیس نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز، راجا فاروق حیدر اور دیگر اعلیٰ لیگی قیادت کے خلاف بغاوت اور دیگر الزامات کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143621/">نواز شریف کے خلاف مقدمہ ریاست نہیں ایک شہری کی درخواست پر درج کیا، پولیس</a></strong></p>

<p>تاہم شکایت کنندہ بدر رشید عرف ہیرا کا مجرمانہ ریکارڈ اور پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ تصاویر سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے سب سے پہلے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور پر لیگی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا الزام لگایا۔</p>

<p>بدر رشید کے بارے میں یہ کہا جارہا کہ وہ پی ٹی آئی لیبر ونگ کا عہدیدار ہے۔</p>

<p>حیران کن طور پر شاہدرہ میں خورشید پارک کے رہائشی بدر رشید کے خلاف شاہدرہ پولیس کی جانب سے اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ ہے جبکہ اسی تھانے میں اب وہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں مدعی ہیں۔</p>

<p>اس کے علاوہ وہ شارق پور (ضلع نانکانہ) میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے اور اولڈ انارکلی تھانے میں پولیس افسر پر حملے کے الزام میں بھی ایف آئی آرز میں نامزد ہیں۔</p>

<p>بدر رشید جو کچھ کیسز میں گرفتار بھی ہوا چکا ہے، اس نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر یونین کونسل کے چیئرمین کے لیے انتخاب بھی لڑا تھا۔</p>

<p>اگرچہ پنجاب اور وفاقی حکومتیں خود کو اس ایف آئی آر کے درج کروانے سے دور رکھ رہی ہیں تاہم کچھ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیسے ایک اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو تحریک انصاف حکومت کی اعلیٰ شخصیت یا اختیارات رکھنے والی کسی اور کے حکم کے بغیر 2 سابق وزرائے اعظم، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، 3 سابق فوجی افسران، سابق گورنر سندھ، سابق وزرائے دفاع و داخلہ، سابق وزیر قانون پنجاب اور دیگر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا اختیار دیا گیا؟</p>

<p>اس کے علاوہ تھانے عموماً تب تک مقدمہ درج نہیں کرتے جب تک وہ ان کی حدود میں نہ ہو۔</p>

<p>نواز شریف نے اسلام آباد میں منعقد آل پارٹی کانفرنس (اے پی سی) اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں بالترتیب 20 ستمبر اور یکم اکتوبر کو تقاریر کی لیکن مقدمہ شاہدرہ تھانے میں درج ہوا۔</p>

<p>ان سوالات کے جوابات کے لیے ڈان نے کیپٹیل سٹی پولیس افسر عمر شیخ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ </p>

<p>سی سی پی او کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا کہ جس میں واضح کیا گیا کہ (نواز شریف و دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف) ایف آئی آر ریاست یا کسی ریاستی ادارے کے حکم پر نہیں بلکہ ایک شہری بدر رشید کی شکایت پر درج کی گئی۔</p>

<p>اس میں کہا گیا کہ ’پولیس نے کیس میں قانون کی تمام متعلقہ دفعات لگائی ہیں، کیس میں میرٹ پر تفتیش جاری ہے اور مذکورہ الزام میں نامزد کوئی بھی ملزم ملوث پایا گیا تو وہ مزید قانونی کارروائی کا سامنا کرے گا، مزید یہ کہ مقدمے میں انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا‘۔ </p>

<p>دوسری جانب ڈان سے گفتگو میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ’ہم تفتیشی مرحلے پر ایف آئی آر سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر کا نام نکالیں گے تاہم کیس میں نامزد دیگر افراد کے خلاف قانون کے مطابق تحقیقات ہوگی‘۔</p>

<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا بزدار انتظامیہ نے راجا فاروق حیدر کے نام کو نکالنے کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ناپسندیدگی کے اظہار کے بعد کیا تو اس پر انہوں نے ’نہیں‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا اس رجسٹریشن میں کوئی کردار نہیں چونکہ پولیس نے ایک شہری کی شکایت پر یہ درج کی‘۔</p>

<p>فیاض الحسن چوہان نے اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا کہ بدر رشید عرف ہیرا پی ٹی آئی کا عہدیدار تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143524/">لاہور: نواز شریف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’شکایت کنندہ کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں، بہت سے لوگ ہیں جن کی پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ تصاویر ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکنان بن گئے‘۔</p>

<p>دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ بدر رشید پی ٹی آئی یو سی چیئرمین کے ٹکٹ ہولڈر تھے اور ان کے بھائی 15 ایف آئی آرز میں نامزد کیے گئے تھے۔</p>

<p>انہوں نے الزام لگایا ’بدر رشید کا بھائی گورنر پنجاب چوہدری سرور کی اہلیہ کی این جی او میں کام کرتا ہے جبکہ چوہدری سرور جو فیڈریشن کی نمائندگی کرتے ہیں انہوں نے اس ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیا‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کیس وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر درج نہیں ہوسکتا، کسی ایس ایچ او میں ہمت نہیں کہ وہ ملک کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بغیر حکومتی حکم کے ایف آئی آر درج کرے‘۔</p>

<p>مزید برآں چوہدری محمد سرور نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ بدر رشید کی تصاویر صرف ان کے ساتھ نہیں بلکہ دیگر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں، وزیر ریلوے شیخ رشید اور اسٹیبلشمنٹ کے کچھ افراد کے ساتھ ہے لیکن ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے کیونکہ سیاستدان روزانہ کئی لوگوں سے ملتے ہیں‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1143681</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Oct 2020 17:45:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالقرنین طاہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7d451337cdc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f7d451337cdc.jpg"/>
        <media:title>مذکورہ مقدمے میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم بھی نامزد ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
