<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:28:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:28:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لڑکی کو تھپڑ مارنے پر پولیس اہلکار کی مختصر گرفتاری
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1143700/</link>
      <description>&lt;p&gt;گوجرانوالہ: صدر پولیس نے جی ٹی روڈ کے نزدیک جی منگولیا پارک میں ایک ’فرار ہونے والی‘ لڑکی کو مبینہ طور پر تھپڑ مارنے پر اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تاہم واقعے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اے ایس آئی کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1583670/asi-briefly-held-for-slapping-girl"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق مذکورہ مقدمہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) فیصل معین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074925"&gt;خاتون سے سرِ عام بدسلوکی کرنے والے اہلکار معطل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنہوں نے کہا کہ وہ دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ چن دا قلعہ بائی پاس کے نزدیک موجود تھے کہ انہیں اطلاع ملی کے بڑی تعداد لوگ منگولیا پارک پر جمع ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایس ایچ او کے مطابق انہیں معلوم ہوا کہ اے ایس آئی علی اکبر سد پارہ نے تنزیلہ بی بی کو اس وقت تھپڑ مارا کہ جب وہ اپنی بہن معین بی بی کو گھر واپس جانے سے انکار کررہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے ردِ عمل دیا جس پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں صدر پولیس لاک اپ میں قید کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1110360/"&gt;استعفے کی ویڈیو وائرل ہونے پر خاتون پولیس اہلکار سے بازپرس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں پولیس نے گرفتار اہلکار کو عدالت میں پیش کیا جہاں اسے ضمانت پر رہائی دے دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس افسر سے رپورٹ طلب کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 7 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گوجرانوالہ: صدر پولیس نے جی ٹی روڈ کے نزدیک جی منگولیا پارک میں ایک ’فرار ہونے والی‘ لڑکی کو مبینہ طور پر تھپڑ مارنے پر اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کرلیا۔</p>

<p>واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تاہم واقعے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اے ایس آئی کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1583670/asi-briefly-held-for-slapping-girl">رپورٹ</a></strong> کے مطابق مذکورہ مقدمہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) فیصل معین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074925">خاتون سے سرِ عام بدسلوکی کرنے والے اہلکار معطل</a></strong></p>

<p>جنہوں نے کہا کہ وہ دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ چن دا قلعہ بائی پاس کے نزدیک موجود تھے کہ انہیں اطلاع ملی کے بڑی تعداد لوگ منگولیا پارک پر جمع ہورہے ہیں۔</p>

<p>ایس ایچ او کے مطابق انہیں معلوم ہوا کہ اے ایس آئی علی اکبر سد پارہ نے تنزیلہ بی بی کو اس وقت تھپڑ مارا کہ جب وہ اپنی بہن معین بی بی کو گھر واپس جانے سے انکار کررہی تھی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے ردِ عمل دیا جس پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں صدر پولیس لاک اپ میں قید کردیا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1110360/">استعفے کی ویڈیو وائرل ہونے پر خاتون پولیس اہلکار سے بازپرس</a></strong></p>

<p>بعدازاں پولیس نے گرفتار اہلکار کو عدالت میں پیش کیا جہاں اسے ضمانت پر رہائی دے دی گئی۔</p>

<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس افسر سے رپورٹ طلب کرلی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 7 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1143700</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Oct 2020 15:05:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7d752222ab6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f7d752222ab6.jpg"/>
        <media:title>واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او فیصل معین کی مدعیت میں درج کیا گیا—فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
