<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 11:16:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 11:16:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ 19 موسمِ سرما میں تیزی سے پھیل سکتا ہے، قومی ادارہ صحت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1143796/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: قومی ادارہ برائے صحت نے موسمِ سرما میں کووڈ 19سمیت 7 بیماریوں کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے صحت کے حکام کو ہائی الرٹ رہنے کی تجویز دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1583789/covid-19-can-spread-rapidly-in-winter-nih"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق موسمی آگاہی اور انتباہ  (ایس اے اے ایل) کے نام سے جاری ہدایات نامے میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ 19، کریمن کانگو، نکسیر بخار کا وائرس، ڈینگی بخار، ڈفتھیریا، پرٹوس، موسمی نزلہ زکام کے علاوہ ایکس ڈی آر (ایکسٹینسو ڈرگ ریزسٹنس) ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں اکتوبر سے فروری کے درمیان تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی ادارہ صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق موسمی آگاہی اور انتباہ کا بنیادی مقصد صحت کے تمام حکام اور متعلقہ پیشہ ور افراد کو ہر سطح پر ان وبائی امراض سے بروقت اور مؤثر انداز میں لڑنے کے لیے تیار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142137"&gt;موسم سرما میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے، تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این آئی ایچ نے اپنے خط میں خبردار کیا کہ یہ بیماریاں سردی کے موسم میں تیزی سے پھیل سکتی ہیں جبکہ اس میں قومی اور عالمی عوامی صحت کے واقعات جیسے ہیومن ایمیونو ڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی/ ایڈز) کو قومی جبکہ ایبولا وائرس ڈیزیز کے بارے میں بھی بتایا گیا جو مستقبل میں کسی بھی ملک اور خطے کے لیے خطرہ ہوسکتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ ’گزشتہ 5 سال کے اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے قومی ادارہ صحت نے تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی محکموں کو مسلسل نگرانی کرنے اور متوقع موسمی صحت سے متعلق خطرات پر نگاہ رکھتے ہوئے اس کے تناظر میں تمام احتیاطی تدابیر اور علاج معالجے کے اقدامات کرنے کا کہا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;موجودہ وبا کی صورتحال میں این آئی ایچ تکنیکی مشوروں اور سپورٹ کے ساتھ ساتھ تمام تعلیمی، معاشی و تجارتی اور انتظامی اور مقامی اداروں میں ٹیسٹ کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143465"&gt;سردیوں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ ہے، وزیراعظم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اسٹیک ہولڈرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تکنیکی ہدایات اور آگاہی سے متعلق معلومات این آئی ایچ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے رواں ہفتے موسم سرما کے دوران کووڈ19 کے کیسز تیزی سے بڑھنے کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا کہ ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کووڈ 19 کا مرکز بن چکے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس جان لیوا وائرس سے بچاؤ کے لیے دی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1136928/"&gt;برطانیہ کے موسم سرما کی دوسری لہر میں وائرس سے ایک لاکھ 20 ہزار اموات ہوسکتی ہیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر سے کووڈ19 کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اس وقت ملک میں کورونا کے 8 ہزار 528 کیسز فعال ہیں۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید برآں ملک بھر میں کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے مختص ایک ہزار 912 وینٹی لیٹرز میں سے 73 زیر استعمال ہیں جبکہ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں کوئی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 8 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: قومی ادارہ برائے صحت نے موسمِ سرما میں کووڈ 19سمیت 7 بیماریوں کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے صحت کے حکام کو ہائی الرٹ رہنے کی تجویز دی ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1583789/covid-19-can-spread-rapidly-in-winter-nih">رپورٹ</a></strong> کے مطابق موسمی آگاہی اور انتباہ  (ایس اے اے ایل) کے نام سے جاری ہدایات نامے میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ 19، کریمن کانگو، نکسیر بخار کا وائرس، ڈینگی بخار، ڈفتھیریا، پرٹوس، موسمی نزلہ زکام کے علاوہ ایکس ڈی آر (ایکسٹینسو ڈرگ ریزسٹنس) ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں اکتوبر سے فروری کے درمیان تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔</p>

<p>قومی ادارہ صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق موسمی آگاہی اور انتباہ کا بنیادی مقصد صحت کے تمام حکام اور متعلقہ پیشہ ور افراد کو ہر سطح پر ان وبائی امراض سے بروقت اور مؤثر انداز میں لڑنے کے لیے تیار کرنا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142137">موسم سرما میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے، تحقیق</a></strong></p>

<p>این آئی ایچ نے اپنے خط میں خبردار کیا کہ یہ بیماریاں سردی کے موسم میں تیزی سے پھیل سکتی ہیں جبکہ اس میں قومی اور عالمی عوامی صحت کے واقعات جیسے ہیومن ایمیونو ڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی/ ایڈز) کو قومی جبکہ ایبولا وائرس ڈیزیز کے بارے میں بھی بتایا گیا جو مستقبل میں کسی بھی ملک اور خطے کے لیے خطرہ ہوسکتی ہیں۔ </p>

<p>خط میں کہا گیا کہ ’گزشتہ 5 سال کے اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے قومی ادارہ صحت نے تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی محکموں کو مسلسل نگرانی کرنے اور متوقع موسمی صحت سے متعلق خطرات پر نگاہ رکھتے ہوئے اس کے تناظر میں تمام احتیاطی تدابیر اور علاج معالجے کے اقدامات کرنے کا کہا ہے‘۔</p>

<p>موجودہ وبا کی صورتحال میں این آئی ایچ تکنیکی مشوروں اور سپورٹ کے ساتھ ساتھ تمام تعلیمی، معاشی و تجارتی اور انتظامی اور مقامی اداروں میں ٹیسٹ کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143465">سردیوں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ ہے، وزیراعظم</a></strong></p>

<p>اس کے علاوہ اسٹیک ہولڈرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تکنیکی ہدایات اور آگاہی سے متعلق معلومات این آئی ایچ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔</p>

<p>یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے رواں ہفتے موسم سرما کے دوران کووڈ19 کے کیسز تیزی سے بڑھنے کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔</p>

<p>بعدازاں وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا کہ ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کووڈ 19 کا مرکز بن چکے تھے۔ </p>

<p>اسد عمر نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس جان لیوا وائرس سے بچاؤ کے لیے دی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1136928/">برطانیہ کے موسم سرما کی دوسری لہر میں وائرس سے ایک لاکھ 20 ہزار اموات ہوسکتی ہیں</a></strong></p>

<p>نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر سے کووڈ19 کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اس وقت ملک میں کورونا کے 8 ہزار 528 کیسز فعال ہیں۔  </p>

<p>مزید برآں ملک بھر میں کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے مختص ایک ہزار 912 وینٹی لیٹرز میں سے 73 زیر استعمال ہیں جبکہ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں کوئی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 8 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1143796</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Oct 2020 15:20:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7ed64c7f3bf.png" type="image/png" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f7ed64c7f3bf.png"/>
        <media:title>اسد عمر نے کہا تھا کہ جان لیوا وائرس سے بچاو کے لیے دی جانے والی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کریں —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
