<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:52:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:52:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیویارک: پاکستانی ہوٹل روزویلٹ کو 31 اکتوبر سے مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1143857/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیویارک: مین ہٹن کے قلب میں واقع پاکستانی ملکیت میں موجود روزویلٹ ہوٹل نے اعلان کیا ہے کہ وہ 31 اکتوبر سے مہمانوں کے لیے اپنے دورازے مستقبل طور پر بند کردے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1584029/roosevelt-hotel-to-shut-doors-from-oct-31"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس اعلان میں کہا گیا کہ ’موجودہ معاشی اثرات کے باعث نیویارک کا گرینڈ ڈیم روزویلٹ ہوٹل تقریباً 100 برس تک مہمانوں کو خوش آمدید کرنے کے بعد (اب) افسوس کے ساتھ 31 اکتوبر سے اپنے دروازے مستقل طور پر بند کر رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے جب ہوٹل کی ترجمان کی رائے جاننا چاہی تو انہوں نے کہا کہ ’جی، یہ بند ہورہا ہے جیسا کہ ویب سائٹ پر اعلان کیا گیا ہے‘، جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’اپنے سوالات ای میل کردیں، ہم اس کا جواب دیں گے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137086"&gt;'ڈونلڈ ٹرمپ پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل خریدنا چاہتے ہیں'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویب سائٹ پر موجود پیغام میں کہا گیا کہ مستقبل کی ریزرویشنز کے ساتھ مہمانوں کے لیے ’متبادل رہائش پر کام‘ جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہوٹل کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے اپنے زبردست عملے کے ساتھ کام کرنے اور ان کئی مہمانوں اور کلائنٹس کی زندگیوں اور خوشیوں کا حصہ بنا اعزاز ہے، جو ان گزشتہ 9 دہائیوں سے ہمارے ساتھ تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے بیان میں ہوٹل نے لکھا کہ ہم اپنے مہمانوں کی کہانیوں کا حصہ بن کر اتنا ہی لطف اندوز ہوئے جتنا کہ ہم 1924 سے مڈٹاؤن مین ہٹن کی تاریخ کا لازمی حصہ بن کر رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب باضابطہ طور پر پاکستانی سفارتخانہ ہوٹل سے متعلق تمام معاملات پی آئی اے کے حوالے کر رہا ہے جو اس کا مالک ہے، اسی بارے میں ترجمان سفارتخانے کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم سفارتی ذرائع نے واضح کیا کہ پی آئی اے ابھی تک اس جائیداد کا مالک ہے چونکہ عمارت کو فروخت نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس طرح کے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ہوٹل اس علاقے میں موجود دیگر ہوٹلز کی طرح بند ہورہا ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وبا نے ہوٹل کی صنعت کو تقریباً مار دیا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع نے واضح کیا کہ اس عمارت کی مالیت اب بھی اربوں ڈالرز سے زائد ہے، ساتھ ہی ایک اور ذرائع نے بتایا کہ ’پاکستان کے پاس اب 2 آپشن ہیں، اسے بیچ دیں یا کووڈ 19 کی وجہ سے متاثر ہونے والے مین ہٹن کے دیگر ہوٹلز کی طرح اسے کنڈومینیم (مشترکہ اختیارات) میں تبدیل کردے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ جولائی 2020 میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) نے ہوٹل کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1135886"&gt;&lt;strong&gt;نجکاری کے خلاف فیصلہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا تھا اور اسے مشترکہ منصوبے کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کمیٹی کی سربراہی کرتے ہوئے ایک نکاتی ایجنڈا نجکاری کا جائزہ لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی سی او پی نے نجکاری کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایک مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کریں تاکہ لین دین کا عمل شروع کیا جائے جیسا کہ جولائی 2019 میں ایک اکاؤنٹنگ کمپنی ڈیلوئٹ نے تجویز کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی نے تجویز دی تھی کہ روزویلٹ ہوٹل کی پراپرٹی کا سب سے اچھا اور بہتر استعمال سائٹ کو ایک ریٹیل اور کنڈومینیم سے زیادہ ایک آفس ٹاور میں (مشترکہ منصوبے کے ذریعے) ایک مشترکہ استعمال کی (پراپرٹی) میں بحال کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1135822"&gt;حکومت کا نیویارک میں پی آئی اے کے ہوٹل کی فروخت پر بات چیت کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ روزویلٹ ہوٹل کو 23 ستمبر 1924 کو کھولا گیا تھا اور اسے نائیگرا فالز کے تاجر فرینک اے ڈیوڈلے نے تعمیر کیا تھا جبکہ اسے امریکی ہوٹلز کمپنی آپریٹ کرتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی آئی اے نے 1979 میں اپنے سرمایہ کاری کے شعبے کے ذریعے اس ہوٹل کی لیز حاصل کی جس میں یہ آپشن بھی تھا کہ 20 برس بعد اس عمارت کو خریدا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1979 کے معاہدے میں سعودی عرب کے شاہ فیصل بن خالد بن عبدالعزیز آل سعود سرمایہ کاروں میں سے ایک تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1999 میں پی آئی اے نے اپنے اختیارات کو استعمال کیا اور 3 کروڑ 65 لاکھ ڈالر میں ہوٹل کو خریدا، 2005 میں پی آئی اے نے معاہدے میں اپنے سعودی شراکت دار سے خریدا جس میں 4 کروڑ ڈالر کے بدلے پیرس میں ہوٹل اسکرائب میں شہزادے کا حصہ اور ریاض من ہال ہوٹل میں پی آئی اے کا حصہ شامل تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد سے پی آئی اے کا ہوٹل میں 99 فیصد حصہ ہے جبکہ سعودیوں کا صرف ایک فیصد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 09 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیویارک: مین ہٹن کے قلب میں واقع پاکستانی ملکیت میں موجود روزویلٹ ہوٹل نے اعلان کیا ہے کہ وہ 31 اکتوبر سے مہمانوں کے لیے اپنے دورازے مستقبل طور پر بند کردے گا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1584029/roosevelt-hotel-to-shut-doors-from-oct-31"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اس اعلان میں کہا گیا کہ ’موجودہ معاشی اثرات کے باعث نیویارک کا گرینڈ ڈیم روزویلٹ ہوٹل تقریباً 100 برس تک مہمانوں کو خوش آمدید کرنے کے بعد (اب) افسوس کے ساتھ 31 اکتوبر سے اپنے دروازے مستقل طور پر بند کر رہا ہے‘۔</p>

<p>اس حوالے سے جب ہوٹل کی ترجمان کی رائے جاننا چاہی تو انہوں نے کہا کہ ’جی، یہ بند ہورہا ہے جیسا کہ ویب سائٹ پر اعلان کیا گیا ہے‘، جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’اپنے سوالات ای میل کردیں، ہم اس کا جواب دیں گے‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137086">'ڈونلڈ ٹرمپ پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل خریدنا چاہتے ہیں'</a></strong></p>

<p>ویب سائٹ پر موجود پیغام میں کہا گیا کہ مستقبل کی ریزرویشنز کے ساتھ مہمانوں کے لیے ’متبادل رہائش پر کام‘ جاری ہے۔</p>

<p>ہوٹل کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے اپنے زبردست عملے کے ساتھ کام کرنے اور ان کئی مہمانوں اور کلائنٹس کی زندگیوں اور خوشیوں کا حصہ بنا اعزاز ہے، جو ان گزشتہ 9 دہائیوں سے ہمارے ساتھ تھے۔</p>

<p>اپنے بیان میں ہوٹل نے لکھا کہ ہم اپنے مہمانوں کی کہانیوں کا حصہ بن کر اتنا ہی لطف اندوز ہوئے جتنا کہ ہم 1924 سے مڈٹاؤن مین ہٹن کی تاریخ کا لازمی حصہ بن کر رہے۔</p>

<p>دوسری جانب باضابطہ طور پر پاکستانی سفارتخانہ ہوٹل سے متعلق تمام معاملات پی آئی اے کے حوالے کر رہا ہے جو اس کا مالک ہے، اسی بارے میں ترجمان سفارتخانے کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا‘۔</p>

<p>تاہم سفارتی ذرائع نے واضح کیا کہ پی آئی اے ابھی تک اس جائیداد کا مالک ہے چونکہ عمارت کو فروخت نہیں کیا گیا۔</p>

<p>اس طرح کے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ہوٹل اس علاقے میں موجود دیگر ہوٹلز کی طرح بند ہورہا ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وبا نے ہوٹل کی صنعت کو تقریباً مار دیا ہے‘۔</p>

<p>ذرائع نے واضح کیا کہ اس عمارت کی مالیت اب بھی اربوں ڈالرز سے زائد ہے، ساتھ ہی ایک اور ذرائع نے بتایا کہ ’پاکستان کے پاس اب 2 آپشن ہیں، اسے بیچ دیں یا کووڈ 19 کی وجہ سے متاثر ہونے والے مین ہٹن کے دیگر ہوٹلز کی طرح اسے کنڈومینیم (مشترکہ اختیارات) میں تبدیل کردے‘۔</p>

<p>واضح رہے کہ جولائی 2020 میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) نے ہوٹل کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1135886"><strong>نجکاری کے خلاف فیصلہ</strong></a> کیا تھا اور اسے مشترکہ منصوبے کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>

<p>وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کمیٹی کی سربراہی کرتے ہوئے ایک نکاتی ایجنڈا نجکاری کا جائزہ لیا تھا۔</p>

<p>سی سی او پی نے نجکاری کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایک مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کریں تاکہ لین دین کا عمل شروع کیا جائے جیسا کہ جولائی 2019 میں ایک اکاؤنٹنگ کمپنی ڈیلوئٹ نے تجویز کیا تھا۔</p>

<p>کمپنی نے تجویز دی تھی کہ روزویلٹ ہوٹل کی پراپرٹی کا سب سے اچھا اور بہتر استعمال سائٹ کو ایک ریٹیل اور کنڈومینیم سے زیادہ ایک آفس ٹاور میں (مشترکہ منصوبے کے ذریعے) ایک مشترکہ استعمال کی (پراپرٹی) میں بحال کرنا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1135822">حکومت کا نیویارک میں پی آئی اے کے ہوٹل کی فروخت پر بات چیت کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ روزویلٹ ہوٹل کو 23 ستمبر 1924 کو کھولا گیا تھا اور اسے نائیگرا فالز کے تاجر فرینک اے ڈیوڈلے نے تعمیر کیا تھا جبکہ اسے امریکی ہوٹلز کمپنی آپریٹ کرتی تھی۔</p>

<p>پی آئی اے نے 1979 میں اپنے سرمایہ کاری کے شعبے کے ذریعے اس ہوٹل کی لیز حاصل کی جس میں یہ آپشن بھی تھا کہ 20 برس بعد اس عمارت کو خریدا جاسکتا ہے۔</p>

<p>1979 کے معاہدے میں سعودی عرب کے شاہ فیصل بن خالد بن عبدالعزیز آل سعود سرمایہ کاروں میں سے ایک تھے۔</p>

<p>1999 میں پی آئی اے نے اپنے اختیارات کو استعمال کیا اور 3 کروڑ 65 لاکھ ڈالر میں ہوٹل کو خریدا، 2005 میں پی آئی اے نے معاہدے میں اپنے سعودی شراکت دار سے خریدا جس میں 4 کروڑ ڈالر کے بدلے پیرس میں ہوٹل اسکرائب میں شہزادے کا حصہ اور ریاض من ہال ہوٹل میں پی آئی اے کا حصہ شامل تھا۔</p>

<p>جس کے بعد سے پی آئی اے کا ہوٹل میں 99 فیصد حصہ ہے جبکہ سعودیوں کا صرف ایک فیصد ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 09 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1143857</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Oct 2020 13:17:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f7fee0a02585.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f7fee0a02585.jpg"/>
        <media:title>ہوٹل نے اپنی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا—فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
