<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:01:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:01:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رضاکاروں پر منفی اثرات، کورونا ویکسین کا آزمائشی مرحلہ روک دیا گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1144153/</link>
      <description>&lt;p&gt;معروف ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے اپنی کورونا ویکسین کے رضاکاروں پر منفی رد عمل کے باعث ویکسین کا آزمائشی مرحلہ روک دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a href="https://www.reuters.com/article/us-health-coronavirus-johnson-johnson/jj-pauses-covid-19-vaccine-trials-due-to-unexplained-illness-in-participant-idUSKBN26Y01Q"&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جانسن اینڈ جانسن نے 12 اکتوبر کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ ان کی جانب سے تیسرے آزمائشی مرحلے میں داخل ہونے والی ویکسین کے کچھ رضاکاروں پر منفی اثرات مرتب ہوئے، جس کی وجہ سے ویکسین کا ٹرائل عارضی طور پر روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق بعض رضاکاروں میں ایک نامعلوم بیماری کی شکایات سامنے آنے کے بعد ویکسین کی آزمائش کو روکا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ رضاکاروں کی جانب سے نامعلوم بیماری کی شکایت کی مانیٹرنگ اور آزاد ڈیٹا سے بھی تصدیق ہوئی، جس کے باعث ویکسین کے تیسرے مرحلے کی آزمائش کو فوری طور پر عارضی بنیادوں پر روکا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5f85871f5e7a1'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1138755"&gt;جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین بندروں پر موثر ثابت&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ کمپنی نے ویکسین کے آزمائشی مرحلے کو روکے جانے کی تصدیق کی تاہم کمپنی نے رضاکاروں میں سامنے آنے والی بیماری سے متعلق کوئی وضاحت جاری نہیں کی اور اسے نامعلوم بیماری کا نام دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانسن اینڈ جانسن کی مذکورہ ویکسین کی رواں برس اگست میں بندروں پر کامیاب آزمائش ہوئی تھی، جس کے فوری بعد اس کی آزمائش انسانوں پر شروع کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انسانوں پر کی گئی آزمائش کا پہلا مرحلہ کامیاب ہونے کے بعد گزشتہ ماہ ستمبر کے وسط میں اس کا تیسرا اور اہم ترین آزمائشی مرحلہ شروع کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویکسن کے تیسرے آزمائشی مرحلے میں برازیل، ارجنٹائن، چلی، کولمبیا، میکسیکو، پیرو، جنوبی افریقہ اور امریکا میں 60 ہزار افراد کو ویکسین دی جانی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم تیسرے مرحلے کے شروع ہونے کے ایک ماہ بعد ہی رضاکاروں میں نامعلوم بیماری سامنے آنے کے بعد اس کی آزمائش روک دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر مذکورہ ویکسین کی آزمائش نہیں روکی جاتی تو رواں برس کے آخر یا پھر 2021 کے آغاز تک ویکسین کا تیسرا مرحلہ مکمل ہوجاتا، جس کے چند ہفتوں بعد اس کے نتائج کا اعلان کیا جاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانسن اینڈ جانسن کی مذکورہ ویکسین کو دیگر کمپنیوں یا ممالک کی جانب سے بنائی جانے والی تمام ویکسین سے بہتر سمجھا جا رہا تھا، کیوں کہ مذکورہ ویکسین کا ایک ڈوز ہی کورونا مریض پر اثر انداز ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5f85871f5e802'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142887"&gt;جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین انسانی آزمائش کے تیسرے مرحلے میں داخل&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;جانسن اینڈ جانسن کے علاوہ دیگر تقریبا تمام ہی ویکسین کے دو ڈوز کورونا مریض پر اثر انداز ہونے کے اندازے لگائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانسن اینڈ جانسن کی مذکورہ ویکسین کے علاوہ چین کی 4 کمپنیوں، امریکا کی موڈرینا، فیزر اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ویکسین بھی آزمائش کے آخری یعنی تیسرے مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر مذکورہ ساتوں ویکسین میں سے کوئی بھی ویکسین تیسرے مرحلے میں بھی کامیاب ہوجاتی ہے تو آئندہ سال کے وسط تک دنیا میں کوئی ایک ویکسین دستیاب ہوسکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال کیا جا رہا ہے کہ جانسن اینڈ جانسن رضاکاروں میں بیماری کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ویکسین کے نتائج کا اعلان کرے گی اور عین ممکن ہے کہ ویکسین کے آزمائش کا دوبارہ آغاز کیا جائے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معروف ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے اپنی کورونا ویکسین کے رضاکاروں پر منفی رد عمل کے باعث ویکسین کا آزمائشی مرحلہ روک دیا۔</p>

<p>خبر رساں ادارے <a href="https://www.reuters.com/article/us-health-coronavirus-johnson-johnson/jj-pauses-covid-19-vaccine-trials-due-to-unexplained-illness-in-participant-idUSKBN26Y01Q"><strong>رائٹرز</strong></a> کے مطابق جانسن اینڈ جانسن نے 12 اکتوبر کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ ان کی جانب سے تیسرے آزمائشی مرحلے میں داخل ہونے والی ویکسین کے کچھ رضاکاروں پر منفی اثرات مرتب ہوئے، جس کی وجہ سے ویکسین کا ٹرائل عارضی طور پر روک دیا گیا۔</p>

<p>کمپنی کے مطابق بعض رضاکاروں میں ایک نامعلوم بیماری کی شکایات سامنے آنے کے بعد ویکسین کی آزمائش کو روکا گیا۔</p>

<p>کمپنی نے بتایا کہ رضاکاروں کی جانب سے نامعلوم بیماری کی شکایت کی مانیٹرنگ اور آزاد ڈیٹا سے بھی تصدیق ہوئی، جس کے باعث ویکسین کے تیسرے مرحلے کی آزمائش کو فوری طور پر عارضی بنیادوں پر روکا گیا۔</p>

<h6 id='5f85871f5e7a1'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1138755">جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین بندروں پر موثر ثابت</a></h6>

<p>اگرچہ کمپنی نے ویکسین کے آزمائشی مرحلے کو روکے جانے کی تصدیق کی تاہم کمپنی نے رضاکاروں میں سامنے آنے والی بیماری سے متعلق کوئی وضاحت جاری نہیں کی اور اسے نامعلوم بیماری کا نام دیا۔</p>

<p>جانسن اینڈ جانسن کی مذکورہ ویکسین کی رواں برس اگست میں بندروں پر کامیاب آزمائش ہوئی تھی، جس کے فوری بعد اس کی آزمائش انسانوں پر شروع کی گئی تھی۔</p>

<p>انسانوں پر کی گئی آزمائش کا پہلا مرحلہ کامیاب ہونے کے بعد گزشتہ ماہ ستمبر کے وسط میں اس کا تیسرا اور اہم ترین آزمائشی مرحلہ شروع کیا گیا تھا۔</p>

<p>ویکسن کے تیسرے آزمائشی مرحلے میں برازیل، ارجنٹائن، چلی، کولمبیا، میکسیکو، پیرو، جنوبی افریقہ اور امریکا میں 60 ہزار افراد کو ویکسین دی جانی تھی۔</p>

<p>تاہم تیسرے مرحلے کے شروع ہونے کے ایک ماہ بعد ہی رضاکاروں میں نامعلوم بیماری سامنے آنے کے بعد اس کی آزمائش روک دی گئی۔</p>

<p>اگر مذکورہ ویکسین کی آزمائش نہیں روکی جاتی تو رواں برس کے آخر یا پھر 2021 کے آغاز تک ویکسین کا تیسرا مرحلہ مکمل ہوجاتا، جس کے چند ہفتوں بعد اس کے نتائج کا اعلان کیا جاتا۔</p>

<p>جانسن اینڈ جانسن کی مذکورہ ویکسین کو دیگر کمپنیوں یا ممالک کی جانب سے بنائی جانے والی تمام ویکسین سے بہتر سمجھا جا رہا تھا، کیوں کہ مذکورہ ویکسین کا ایک ڈوز ہی کورونا مریض پر اثر انداز ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔</p>

<h6 id='5f85871f5e802'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142887">جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین انسانی آزمائش کے تیسرے مرحلے میں داخل</a></h6>

<p>جانسن اینڈ جانسن کے علاوہ دیگر تقریبا تمام ہی ویکسین کے دو ڈوز کورونا مریض پر اثر انداز ہونے کے اندازے لگائے گئے ہیں۔</p>

<p>جانسن اینڈ جانسن کی مذکورہ ویکسین کے علاوہ چین کی 4 کمپنیوں، امریکا کی موڈرینا، فیزر اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ویکسین بھی آزمائش کے آخری یعنی تیسرے مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔</p>

<p>اگر مذکورہ ساتوں ویکسین میں سے کوئی بھی ویکسین تیسرے مرحلے میں بھی کامیاب ہوجاتی ہے تو آئندہ سال کے وسط تک دنیا میں کوئی ایک ویکسین دستیاب ہوسکے گی۔</p>

<p>خیال کیا جا رہا ہے کہ جانسن اینڈ جانسن رضاکاروں میں بیماری کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ویکسین کے نتائج کا اعلان کرے گی اور عین ممکن ہے کہ ویکسین کے آزمائش کا دوبارہ آغاز کیا جائے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1144153</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Oct 2020 15:53:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f855b60dfb8e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f855b60dfb8e.jpg"/>
        <media:title>جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کو دوسری ویکسینز سے اہم مانا جا رہا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
