<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:06:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:06:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کیلئے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا، محمد زبیر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1144606/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پارٹی قائد نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے کہا ہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144593/"&gt;&lt;strong&gt;کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے لیے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اور ریاست نے ایک اسٹنگ آپریشن کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ ریاستی دہشت گردی ہے اور اگر ہم آج اس کی مذمت نہیں کریں گے تو کل ہم سب کو اس سے گزرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں لیکن ہم ڈرنے والے نہیں یہ جو مرضی کرلیں، ہم بہت عرصے سے سوچ رہے تھے کہ یہ کیسے ردعمل دیں گے اور ہم نے کل رات کو یہ دیکھ لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وہ ہوٹل میں تھے اور اس کمرے میں مریم نواز بھی تھیں، آپ کو کیا ڈر و خوف تھا جو دروازہ توڑ کر آپ اندر گھسے، کیپٹن (ر) صفدر نے کونسا وہاں سے بھاگ جانا تھا، اگر آپ نے انہیں گرفتار کرنا ہی تھا تو  ہوٹل کے خارجی راستوں کو بند کرکے یا کمرے سے نیچے آنے پر گرفتار کرسکتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144593/"&gt;کراچی: مزار قائد کے تقدس کی پامالی کا الزام، کیپٹن (ر) صفدر گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آپ ایک نہتی عورت سے اتنا ڈرتے ہیں کہ ہوٹل کے کمرے میں دروازہ توڑ کر گھس جاتے ہیں، اس میں بہت سی اسٹوریز ہیں جس کی تصدیق کر رہے ہیں، میری وزیراعلیٰ سندھ اور سعید غنی سے بات ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد زبیر کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا، جس طریقے سے یہ دباؤ ڈالا گیا اس کے حقائق کچھ دیر بعد جاری کریں گے تو پوری قوم کو پتا چل جائے گا اس ملک میں کیا ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی ایک تو سیاسی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ اور کراچی میں اتنا بڑا جلسہ ہوا، تاہم عمران خان اور ان کے حواریوں کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں سیاسی طور پر دور کیا جائے اور جب کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز سندھ میں آئے ہیں تو انہیں یہاں گرفتار کریں گے تو سارا الزام سندھ پولیس اور حکومت پر لگ جائے گا لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی جانب سے ایک اسٹنگ آپریشن کیا گیا اور سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا اور جس حالات میں دباؤ ڈالا گیا اس کی تفصیل بھی ہم کچھ دیر میں دے دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر صحافی کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ دباؤ کس کی جانب سے ڈالا گیا تو اس پر محمد زبیر نے جواب دیا کہ ’آپ کیا سوئٹزرلینڈ میں رہتے ہیں‘، اس کی تفصیل ہم جلد ہی دے دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلا اس وقت عدالت میں موجود ہیں جبکہ اگر آپ کو کوئی ڈر خوف نہیں تو مجھے سابق گورنر ہوتے ہوئے بھی تھانے کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد زبیر کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو کن حالات میں رکھا ہے یہ ہمارا حق بنتا ہے لیکن نہ مجھے اور نہ وکلا کو اندر جانے نہیں دے رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f8d67f482599'&gt;محمد زبیر کا حامد میر کی ٹوئٹ کی تصدیق و تردید سے انکار&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب معروف صحافی حامد میر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی جس میں لکھا کہ ’بدقسمت واقعہ، حکومت سندھ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کو بتایا کہ آئی جی سندھ کو صبح 4 بجے اغوا کیا گیا اور انہیں سیکٹر کمانڈرز کے دفتر میں لایا گیا جہاں ایڈیشنل آئی جی پہلے سے موجود تھے اور انہیں کیپٹن (ر) صفدر کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر مجبور کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/HamidMirPAK/status/1318059878498304000"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر سے جب حامد میر کی اس ٹوئٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق و تردید نہیں کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایک، آدھ گھنٹے میں تفصیلات کے بارے میں بتائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد زبیر کا کہنا تھا کہ حامد میر کی ٹوئٹ سے متعلق ان سے پوچھیں، ساتھ ہی انہوں نے پولیس افسران سے رابطہ ہونے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران سے بات ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/FaizullahSwati/status/1318065055229947906"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کیپٹن (ر) صفدر سے ملنے نہ دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہیں صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں ممکنہ طور پر محمد زبیر کی ایک آڈیو شیئر کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صحافی کی جانب سے شیئر کردہ آڈیو میں محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ’مراد علی شاہ نے انہیں ابھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پہلے آئی جی سندھ پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ وہ گرفتاری کے لیے بھیجیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/MurtazaViews/status/1318105079413616641"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ممکنہ طور پر محمد زبیر کی آڈیو میں کہا گیا کہ ’جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو رینجرز نے 4 بجے اغوا کیا ہے اور مجھے وزیراعلیٰ نے یہی بات کہی، میں نے ان سے اغوا کے لفظ پر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جی انہیں اٹھایا گیا اور سیکٹرز کمانڈر کے آفس لے گئے جہاں ایڈیشنل آئی جی موجود تھے جبکہ انہیں آرڈر جاری کرنے پر مجبور کیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈیو کے مطابق ’رینجرز والے پولیس والوں کے ساتھ گئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ آپ اندر جائیں’۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f8d67f4825e3'&gt;کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ ’پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144602/"&gt;کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں ہوئی، سعید غنی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراچی کے ضلع شرقی کے پولیس تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506-بی کے تحت درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے 200 ساتھیوں نے مزار قائد کا تقدس پامال، قبر کی بے حرمتی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما 18 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی، جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے تھے، جس پر کیپٹن (ر) صفڈر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا جبکہ یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی تھی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پارٹی قائد نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے کہا ہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144593/"><strong>کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری</strong></a> کے لیے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اور ریاست نے ایک اسٹنگ آپریشن کیا۔</p>

<p>کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ ریاستی دہشت گردی ہے اور اگر ہم آج اس کی مذمت نہیں کریں گے تو کل ہم سب کو اس سے گزرنا پڑے گا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں لیکن ہم ڈرنے والے نہیں یہ جو مرضی کرلیں، ہم بہت عرصے سے سوچ رہے تھے کہ یہ کیسے ردعمل دیں گے اور ہم نے کل رات کو یہ دیکھ لیا۔</p>

<p>سابق گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وہ ہوٹل میں تھے اور اس کمرے میں مریم نواز بھی تھیں، آپ کو کیا ڈر و خوف تھا جو دروازہ توڑ کر آپ اندر گھسے، کیپٹن (ر) صفدر نے کونسا وہاں سے بھاگ جانا تھا، اگر آپ نے انہیں گرفتار کرنا ہی تھا تو  ہوٹل کے خارجی راستوں کو بند کرکے یا کمرے سے نیچے آنے پر گرفتار کرسکتے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144593/">کراچی: مزار قائد کے تقدس کی پامالی کا الزام، کیپٹن (ر) صفدر گرفتار</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ آپ ایک نہتی عورت سے اتنا ڈرتے ہیں کہ ہوٹل کے کمرے میں دروازہ توڑ کر گھس جاتے ہیں، اس میں بہت سی اسٹوریز ہیں جس کی تصدیق کر رہے ہیں، میری وزیراعلیٰ سندھ اور سعید غنی سے بات ہوئی ہے۔</p>

<p>محمد زبیر کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا، جس طریقے سے یہ دباؤ ڈالا گیا اس کے حقائق کچھ دیر بعد جاری کریں گے تو پوری قوم کو پتا چل جائے گا اس ملک میں کیا ہورہا ہے۔</p>

<p>بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی ایک تو سیاسی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ اور کراچی میں اتنا بڑا جلسہ ہوا، تاہم عمران خان اور ان کے حواریوں کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں سیاسی طور پر دور کیا جائے اور جب کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز سندھ میں آئے ہیں تو انہیں یہاں گرفتار کریں گے تو سارا الزام سندھ پولیس اور حکومت پر لگ جائے گا لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی جانب سے ایک اسٹنگ آپریشن کیا گیا اور سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا اور جس حالات میں دباؤ ڈالا گیا اس کی تفصیل بھی ہم کچھ دیر میں دے دیں گے۔</p>

<p>اس موقع پر صحافی کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ دباؤ کس کی جانب سے ڈالا گیا تو اس پر محمد زبیر نے جواب دیا کہ ’آپ کیا سوئٹزرلینڈ میں رہتے ہیں‘، اس کی تفصیل ہم جلد ہی دے دیں گے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلا اس وقت عدالت میں موجود ہیں جبکہ اگر آپ کو کوئی ڈر خوف نہیں تو مجھے سابق گورنر ہوتے ہوئے بھی تھانے کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔</p>

<p>محمد زبیر کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو کن حالات میں رکھا ہے یہ ہمارا حق بنتا ہے لیکن نہ مجھے اور نہ وکلا کو اندر جانے نہیں دے رہے۔</p>

<h3 id='5f8d67f482599'>محمد زبیر کا حامد میر کی ٹوئٹ کی تصدیق و تردید سے انکار</h3>

<p>دوسری جانب معروف صحافی حامد میر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی جس میں لکھا کہ ’بدقسمت واقعہ، حکومت سندھ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کو بتایا کہ آئی جی سندھ کو صبح 4 بجے اغوا کیا گیا اور انہیں سیکٹر کمانڈرز کے دفتر میں لایا گیا جہاں ایڈیشنل آئی جی پہلے سے موجود تھے اور انہیں کیپٹن (ر) صفدر کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر مجبور کیا گیا‘۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/HamidMirPAK/status/1318059878498304000"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر سے جب حامد میر کی اس ٹوئٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق و تردید نہیں کی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ میں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایک، آدھ گھنٹے میں تفصیلات کے بارے میں بتائیں گے۔</p>

<p>محمد زبیر کا کہنا تھا کہ حامد میر کی ٹوئٹ سے متعلق ان سے پوچھیں، ساتھ ہی انہوں نے پولیس افسران سے رابطہ ہونے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران سے بات ہوئی ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/FaizullahSwati/status/1318065055229947906"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کیپٹن (ر) صفدر سے ملنے نہ دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے‘۔</p>

<p>وہیں صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں ممکنہ طور پر محمد زبیر کی ایک آڈیو شیئر کی۔</p>

<p>صحافی کی جانب سے شیئر کردہ آڈیو میں محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ’مراد علی شاہ نے انہیں ابھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پہلے آئی جی سندھ پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ وہ گرفتاری کے لیے بھیجیں‘۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/MurtazaViews/status/1318105079413616641"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ممکنہ طور پر محمد زبیر کی آڈیو میں کہا گیا کہ ’جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو رینجرز نے 4 بجے اغوا کیا ہے اور مجھے وزیراعلیٰ نے یہی بات کہی، میں نے ان سے اغوا کے لفظ پر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جی انہیں اٹھایا گیا اور سیکٹرز کمانڈر کے آفس لے گئے جہاں ایڈیشنل آئی جی موجود تھے جبکہ انہیں آرڈر جاری کرنے پر مجبور کیا‘۔</p>

<p>آڈیو کے مطابق ’رینجرز والے پولیس والوں کے ساتھ گئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ آپ اندر جائیں’۔ </p>

<h3 id='5f8d67f4825e3'>کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری</h3>

<p>خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ ’پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا‘۔</p>

<p>پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144602/">کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں ہوئی، سعید غنی</a></strong></p>

<p>کراچی کے ضلع شرقی کے پولیس تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔</p>

<p>مذکورہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506-بی کے تحت درج کیا گیا تھا۔</p>

<p>ایف آئی آر میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے 200 ساتھیوں نے مزار قائد کا تقدس پامال، قبر کی بے حرمتی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔</p>

<p>خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما 18 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔</p>

<p>باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی، جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے تھے، جس پر کیپٹن (ر) صفڈر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا جبکہ یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔</p>

<p>اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔</p>

<p>یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی تھی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1144606</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Oct 2020 15:18:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f8d35dc0b699.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f8d35dc0b699.png"/>
        <media:title>مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے میڈیا سے بات کی—فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
