<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:03:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:03:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیگورنو-کاراباخ میں آذربائیجان سے کشیدگی میں 773 فوجی مارے گئے، آرمینیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1144754/</link>
      <description>&lt;p&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی جاری ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے تازہ جھڑپوں کی رپورٹس دی جارہی ہیں جبکہ آرمینیا کی فوج کے اب تک 773 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر ایجنسی ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان نے نیگورنو-کاراباخ میں مزید جھڑپوں کی تصدیق کی ہے جہاں لڑائی کو تین ہفتے ہوچکے ہیں جبکہ جنگ بندی کی کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی فوج کی جانب سے شیلنگ کا سلسلہ تھما نہیں اور ترتار اور آغدام میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں 2شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144199/"&gt;نیگورنو-کاراباخ میں ہلاکتوں کی تعداد 540 سے زائد، انسانی بحران کا خدشہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب آرمینیا کی وزارت دفاع کی ترجمان سشان اسٹیپانیان نے کہا کہ جنوبی علاقوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے اور آذربائیجان کی فورسز مذکورہ خطے میں آرٹلری کا استعمال کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف کا کہنا تھا کہ ان کی فوج نے جبرائیل اور فضولی کے خطے میں کئی گاؤں اور شہروں میں قبضہ حاصل کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ نیگورنو-کاراباخ میں آرمینیا کا قبضہ 90 کی دہائی سے ہے جبکہ عالمی سطح پر اس کو آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الہام علی یوف نے کہا کہ ہماری فورسز نے نیگورنو-کاراباخ کے جنوبی علاقے میں زینگیلان اور کئی قریبی گاؤں میں آرمینیا کی فوج کو پیچھے دھکیل دیا اور قبضہ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کے عہدیداروں کے مطابق 27 ستمبر کو شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ان کے 773 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے حکام نے اپنے فوجی نقصان سے سے آگاہ نہیں کیا لیکن 61 شہریوں کے ہلاک اور 291 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143922/"&gt;آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین سیز فائر کا معاہدہ چند منٹ بھی برقرار نہ رہ سکا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے دونوں ممالک نے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی اور دہائیوں سے جاری تنازع شدت اختیار کر گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس کے دارالحکومت ماسکو میں 9 اکتوبر کو آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کے درمیان 10 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے تھے جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس کی خلاف ورزی کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو سے واشنگٹن میں شیڈول ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پومپیو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکا سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور دونوں ممالک سے جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے پر زور دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143905/"&gt;اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی جاری ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے تازہ جھڑپوں کی رپورٹس دی جارہی ہیں جبکہ آرمینیا کی فوج کے اب تک 773 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔</p>

<p>خبر ایجنسی ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان نے نیگورنو-کاراباخ میں مزید جھڑپوں کی تصدیق کی ہے جہاں لڑائی کو تین ہفتے ہوچکے ہیں جبکہ جنگ بندی کی کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔</p>

<p>آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی فوج کی جانب سے شیلنگ کا سلسلہ تھما نہیں اور ترتار اور آغدام میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں 2شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144199/">نیگورنو-کاراباخ میں ہلاکتوں کی تعداد 540 سے زائد، انسانی بحران کا خدشہ</a></strong></p>

<p>دوسری جانب آرمینیا کی وزارت دفاع کی ترجمان سشان اسٹیپانیان نے کہا کہ جنوبی علاقوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے اور آذربائیجان کی فورسز مذکورہ خطے میں آرٹلری کا استعمال کر رہی ہے۔</p>

<p>آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف کا کہنا تھا کہ ان کی فوج نے جبرائیل اور فضولی کے خطے میں کئی گاؤں اور شہروں میں قبضہ حاصل کر لیا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ نیگورنو-کاراباخ میں آرمینیا کا قبضہ 90 کی دہائی سے ہے جبکہ عالمی سطح پر اس کو آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔</p>

<p>الہام علی یوف نے کہا کہ ہماری فورسز نے نیگورنو-کاراباخ کے جنوبی علاقے میں زینگیلان اور کئی قریبی گاؤں میں آرمینیا کی فوج کو پیچھے دھکیل دیا اور قبضہ کر لیا ہے۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کے عہدیداروں کے مطابق 27 ستمبر کو شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ان کے 773 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>

<p>آذربائیجان کے حکام نے اپنے فوجی نقصان سے سے آگاہ نہیں کیا لیکن 61 شہریوں کے ہلاک اور 291 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143922/">آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین سیز فائر کا معاہدہ چند منٹ بھی برقرار نہ رہ سکا</a></strong></p>

<p>گزشتہ ہفتے دونوں ممالک نے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی اور دہائیوں سے جاری تنازع شدت اختیار کر گیا۔</p>

<p>روس کے دارالحکومت ماسکو میں 9 اکتوبر کو آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کے درمیان 10 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے تھے جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس کی خلاف ورزی کی گئی۔</p>

<p>دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔</p>

<p>آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو سے واشنگٹن میں شیڈول ہے۔ </p>

<p>پومپیو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکا سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور دونوں ممالک سے جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے پر زور دیا تھا۔</p>

<p>یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>

<p>دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔</p>

<p>آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143905/">اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1144754</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Oct 2020 00:38:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f8f2595be50c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f8f2595be50c.jpg"/>
        <media:title>نیگورونو-کاراباخ میں 30 شہری بھی ہلاک ہوئے—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
