<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 04:23:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 04:23:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے چیئرمین کیلئے گھر کی خریداری میں قوانین کو توڑا، اے جی پی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1145009/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے) اپنے قیام یعنی تقریباً 2 دہائیوں سے اپنے قواعد (رولز) نہیں تشکیل دے سکی اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے نیا انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں اتھارٹی نے خریداری کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیئرمین  پی این آر اے کے لیے ایک گھر خریدا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1586716/pnra-broke-rules-to-purchase-house-for-chairman-agp"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 2001 میں ایک آرڈیننس کے تحت پی این آر اے کا قیام عمل میں آیا تھا اور اسے ملک میں جوہری تحفظ اور تابکاری کے تحفظ سے متعلق تمام معاملات کو کنٹرول، ریگولیٹ، نگرانی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اسے جوہری تحفظ اور تابکاری سے بچاؤ کے لیے قواعد و ضوابط تیار کرنے، گائیڈ لائنز جاری کرنے اور آئنائزنگ تابکاری سے بڑھتے خطرات کے خلاف زندگی، صحت اور املاک کے تحفظ کے لیے پروگرامز اور پالیسیز تیار کرنے اور ان پر عمل درآمد کا اختیار ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144546/"&gt;سال 2019 میں ایک کھرب 66 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس 'چوری' کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی این آر اے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے سائے تلے کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے جی پی کی رپورٹ برائے مالی سال 20-2019 میں کہا گیا کہ ’ نیشنل کمانڈ اتھارٹی  ایکٹ 2010 کے سیکشن 9 (2) کہتا ہے کہ اتھارٹی این سی اے کی سروس میں ملازمین کی خدمت کے شرائط و ضوابط سے متعلق تمام معاملات کو ریگولیٹ کرے گی، جس میں ان کے تقرر، برطرفی، ترقی، تبادلہ، سالمیت کی تشخیص، اعتبار، سیکیورٹی کلیئرنگ اور دیگر متعلقہ معاملات شامل ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں مزید کہا گیا کہ ایکٹ کا سیکشن 15 کہتا ہے کہ اتھارٹی اس ایکٹ کے مقاصد کی انجام رہی کے لیے قوانین بنا سکتی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ پی این آر اے سے درخواست کی گئی کہ وہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت بنائے گئے قوائد/ریگولیشنز اور اکاؤنٹنگ طریقہ کار کی نقول فراہم کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ریکارڈ کے جائزے کے بعد آڈیٹرز نے مشاہدہ کیا کہ پی این آر اے نے جی پی/سی پی فنڈز، پینشن، ویفلیئر اور سرمایہ کاری سے متعلق قوانین وضع نہیں کیا اور انتظامیہ نے پی این آر اے فنانشل ٹرانزیکشن کے لیے اکاؤنٹنگ میں استعمال ہونے والی تفصیلی پالیسز اور طریقہ کار کی وضاحت کے لیے اکاؤنٹنگ طریقہ کار کو وضع نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1135539"&gt;آڈیٹر جنرل کا وفاقی وزارتوں میں 270 ارب روپے کی بےضابطگیوں، غبن کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر پی این آر  اے انتظامیہ نے آڈٹ اعتراض کے ردعمل میں کہا کہ این سی اے ایکٹ کے مطابق انہیں اس کے سائے میں چلنے والی آرگنائزیشن کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار ہے، پی این آر اے بھی این سی اے ایکٹ کے تحت چلتی ہے، لہٰذا قوانین بنانا این سی اے کا دائرہ اختیار ہے، انہوں نے مختلف قوانین بنائیں ہیں اور باقی زیر عمل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں محکمہ کی اکاؤنٹس کمیٹی نے 14 جنوری کو پی این آر اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ قوانین اور اکاؤنٹنگ طریقہ کار کو وضع کرے اور اسے متعلقہ اتھارٹی سے منظور کروائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم آڈیٹرز نے بیان کیا کہ ’رپورٹ کو حتمی شکل دینے تک آڈٹ کو کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 24 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے) اپنے قیام یعنی تقریباً 2 دہائیوں سے اپنے قواعد (رولز) نہیں تشکیل دے سکی اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے نیا انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں اتھارٹی نے خریداری کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیئرمین  پی این آر اے کے لیے ایک گھر خریدا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1586716/pnra-broke-rules-to-purchase-house-for-chairman-agp"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 2001 میں ایک آرڈیننس کے تحت پی این آر اے کا قیام عمل میں آیا تھا اور اسے ملک میں جوہری تحفظ اور تابکاری کے تحفظ سے متعلق تمام معاملات کو کنٹرول، ریگولیٹ، نگرانی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔</p>

<p>اس کے علاوہ اسے جوہری تحفظ اور تابکاری سے بچاؤ کے لیے قواعد و ضوابط تیار کرنے، گائیڈ لائنز جاری کرنے اور آئنائزنگ تابکاری سے بڑھتے خطرات کے خلاف زندگی، صحت اور املاک کے تحفظ کے لیے پروگرامز اور پالیسیز تیار کرنے اور ان پر عمل درآمد کا اختیار ہے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144546/">سال 2019 میں ایک کھرب 66 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس 'چوری' کا انکشاف</a></strong></p>

<p>پی این آر اے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے سائے تلے کام کرتی ہے۔</p>

<p>اے جی پی کی رپورٹ برائے مالی سال 20-2019 میں کہا گیا کہ ’ نیشنل کمانڈ اتھارٹی  ایکٹ 2010 کے سیکشن 9 (2) کہتا ہے کہ اتھارٹی این سی اے کی سروس میں ملازمین کی خدمت کے شرائط و ضوابط سے متعلق تمام معاملات کو ریگولیٹ کرے گی، جس میں ان کے تقرر، برطرفی، ترقی، تبادلہ، سالمیت کی تشخیص، اعتبار، سیکیورٹی کلیئرنگ اور دیگر متعلقہ معاملات شامل ہیں‘۔</p>

<p>اس میں مزید کہا گیا کہ ایکٹ کا سیکشن 15 کہتا ہے کہ اتھارٹی اس ایکٹ کے مقاصد کی انجام رہی کے لیے قوانین بنا سکتی ہے‘۔</p>

<p>آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ پی این آر اے سے درخواست کی گئی کہ وہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت بنائے گئے قوائد/ریگولیشنز اور اکاؤنٹنگ طریقہ کار کی نقول فراہم کرے۔</p>

<p>اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ریکارڈ کے جائزے کے بعد آڈیٹرز نے مشاہدہ کیا کہ پی این آر اے نے جی پی/سی پی فنڈز، پینشن، ویفلیئر اور سرمایہ کاری سے متعلق قوانین وضع نہیں کیا اور انتظامیہ نے پی این آر اے فنانشل ٹرانزیکشن کے لیے اکاؤنٹنگ میں استعمال ہونے والی تفصیلی پالیسز اور طریقہ کار کی وضاحت کے لیے اکاؤنٹنگ طریقہ کار کو وضع نہیں کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1135539">آڈیٹر جنرل کا وفاقی وزارتوں میں 270 ارب روپے کی بےضابطگیوں، غبن کا انکشاف</a></strong></p>

<p>ادھر پی این آر  اے انتظامیہ نے آڈٹ اعتراض کے ردعمل میں کہا کہ این سی اے ایکٹ کے مطابق انہیں اس کے سائے میں چلنے والی آرگنائزیشن کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار ہے، پی این آر اے بھی این سی اے ایکٹ کے تحت چلتی ہے، لہٰذا قوانین بنانا این سی اے کا دائرہ اختیار ہے، انہوں نے مختلف قوانین بنائیں ہیں اور باقی زیر عمل ہیں۔</p>

<p>علاوہ ازیں محکمہ کی اکاؤنٹس کمیٹی نے 14 جنوری کو پی این آر اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ قوانین اور اکاؤنٹنگ طریقہ کار کو وضع کرے اور اسے متعلقہ اتھارٹی سے منظور کروائے۔</p>

<p>تاہم آڈیٹرز نے بیان کیا کہ ’رپورٹ کو حتمی شکل دینے تک آڈٹ کو کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی‘۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 24 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1145009</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Oct 2020 08:27:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f93d0889d88b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f93d0889d88b.jpg"/>
        <media:title>آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا—فائل فوٹو: اے جی ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
