<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:05:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:05:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیگورنو-کاراباخ میں جھڑپیں، آرمینیا کے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 974 ہوگئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1145107/</link>
      <description>&lt;p&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نیگورنو-کاراباخ میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں آرمینیا کے فوجیوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 974 ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق آرمینیا کے زیر تسلط آذربائیجان کےعلاقے نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کی فوج نے آذربائیجان کی فورسز پر الزام عائد کیا کہ مارتونی اور آسکیران میں شہری آبادی کو شیلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر تمام اطراف سے فائرنگ ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144754/"&gt;نیگورنو-کاراباخ میں آذربائیجان سے کشیدگی میں 773 فوجی مارے گئے، آرمینیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کے حکام کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر سے اب تک 974 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 37 شہری بھی نشانہ بنے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آرمینیا کی فوج نے تارتر، آغدیم اور آگابیدی کے علاقوں میں گولہ باری کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں فوجی نقصان کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا تاہم 65 شہریوں کی ہلاکت اور تقریباً 300 افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن نے دو روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق نیگورنو-کاراباخ میں جاری جھڑپوں میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار ہوگئی ہے جو دونوں فریقین کے دعووں سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل روس کی میزبانی میں مذاکرات ہوئے تھے اور دونوں ممالک نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن فوری بعد خلاف ورزی ہوئی تھی اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کی میزبانی میں 23 اکتوبر کو آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کے مذاکرات ہوئے تھے لیکن لڑائی بدستور جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144199/"&gt;نیگورنو-کاراباخ میں ہلاکتوں کی تعداد 540 سے زائد، انسانی بحران کا خدشہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی فورسز نیگورنو-کاراباخ سے ہر صورت دستبر دار ہوجائے تاکہ تنازع ختم ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لڑائی بند ہو اور دونوں ممالک مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں اور امید ہے کہ پرامن راستہ نکل آئے گا لیکن اس کا انحصار آرمینیا کی سوچ پر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پیشینیان کا کہنا تھا کہ آرمینیا پرامن حل کے لیے تیار ہے اور آذربائیجان کو تیار ہونا پڑے گا کیونکہ ہم اپنی آمادگی کا پہلے ہی واضح کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143905/"&gt;اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نیگورنو-کاراباخ میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں آرمینیا کے فوجیوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 974 ہوگئی ہے۔</p>

<p>خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق آرمینیا کے زیر تسلط آذربائیجان کےعلاقے نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کی فوج نے آذربائیجان کی فورسز پر الزام عائد کیا کہ مارتونی اور آسکیران میں شہری آبادی کو شیلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر تمام اطراف سے فائرنگ ہورہی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144754/">نیگورنو-کاراباخ میں آذربائیجان سے کشیدگی میں 773 فوجی مارے گئے، آرمینیا</a></strong></p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کے حکام کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر سے اب تک 974 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 37 شہری بھی نشانہ بنے۔</p>

<p>آذربائیجان کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آرمینیا کی فوج نے تارتر، آغدیم اور آگابیدی کے علاقوں میں گولہ باری کی۔</p>

<p>بیان میں فوجی نقصان کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا تاہم 65 شہریوں کی ہلاکت اور تقریباً 300 افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی۔</p>

<p>روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن نے دو روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق نیگورنو-کاراباخ میں جاری جھڑپوں میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار ہوگئی ہے جو دونوں فریقین کے دعووں سے کہیں زیادہ ہے۔</p>

<p>اس سے قبل روس کی میزبانی میں مذاکرات ہوئے تھے اور دونوں ممالک نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن فوری بعد خلاف ورزی ہوئی تھی اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔</p>

<p>امریکا میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کی میزبانی میں 23 اکتوبر کو آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کے مذاکرات ہوئے تھے لیکن لڑائی بدستور جاری ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144199/">نیگورنو-کاراباخ میں ہلاکتوں کی تعداد 540 سے زائد، انسانی بحران کا خدشہ</a></strong></p>

<p>آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی فورسز نیگورنو-کاراباخ سے ہر صورت دستبر دار ہوجائے تاکہ تنازع ختم ہو۔</p>

<p>اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لڑائی بند ہو اور دونوں ممالک مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں اور امید ہے کہ پرامن راستہ نکل آئے گا لیکن اس کا انحصار آرمینیا کی سوچ پر ہے۔</p>

<p>آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پیشینیان کا کہنا تھا کہ آرمینیا پرامن حل کے لیے تیار ہے اور آذربائیجان کو تیار ہونا پڑے گا کیونکہ ہم اپنی آمادگی کا پہلے ہی واضح کرچکے ہیں۔</p>

<p>یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>

<p>دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔</p>

<p>آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143905/">اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1145107</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Oct 2020 23:14:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f95bf492d2d5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f95bf492d2d5.jpg"/>
        <media:title>آرمینیا کے ہلاک فوجیوں کی تعداد 974 ہوگئی ہے—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
