<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 10:16:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 10:16:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیوی کے ساتھ رہ کر ’لاشعوری تعصب‘ کا احساس ہوا، شہزادہ ہیری
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1145286/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی شہزادہ ہیری نے پہلی بار کھل کر اعتراف کیا ہے کہ شاہی گھرانے میں پیدا ہونے اور شاہانہ طرز زندگی گزارنے کی وجہ سے وہ کئی سال تک ’لاشعوری تعصب‘ کا شکار رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہزادہ ہیری کے مطابق انہیں کئی سال تک اس بات کا ادراک ہی نہیں تھا کہ تعصب کیا ہے اور نسلی تفریق کیسی ہوتی ہے اور وہ اس سے لاعلمی کی وجہ سے ہی ’لاشعوری تعصب‘ کا شکار رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a href="https://apnews.com/article/prince-harry-ignorance-no-excuse-bias-b80c087615660a36afda3af1b79065d5"&gt;&lt;strong&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; (اے پی) کے مطابق شہزادہ ہیری نے فیشن میگزین جی کیو کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں ’لاشعوری تعصب‘ کا احساس اس وقت ہوا جب انہوں نے اپنی زندگی کو بیوی کی طرز زندگی کے مطابق گزارنا شروع کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہزادہ ہیری کے مطابق انہوں نے ’لاشعوری تعصب‘ کو اس وقت سمجھا جب انہوں نے خود کو اپنی اہلیہ کی جگہ رکھ کر وقت گزارا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل امریکی نژاد سابق اداکارہ ہیں اور دونوں نے مئی 2018 میں شادی کی تھی، اب ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں کی شادی سے قبل ہی برطانوی و یورپی میڈیا میں کئی طرح کی چہ مگوئیاں تھیں، جب کہ آج تک ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ میگھن مارکل نے شہزادہ ہیری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5f99903648530'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122041"&gt;شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی شاہی حیثیت سے باضابطہ علیحدگی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;تاہم ایسی خبروں کے برعکس شہزادہ ہیری نے ہمیشہ اپنی اہلیہ کی طرفداری اور تعریف کی ہے اور اب انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ’لاشعوری تعصب‘ اور ’نسلی تفریق‘ کو اس وقت ہی سمجھا جب انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میگھن مارکل کے والد سفید فام امریکی ہیں جب کہ ان کی والدہ افریقی نژاد سیاہ فام امریکی ہیں، ان کے برعکس شہزادہ ہیری کا خاندان نہ صرف سفید فام ہے بلکہ ان کے آباؤ اجداد بھی کئی صدیوں سے شاہانہ زندگی گزارتے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;البتہ شہزادہ ہیری کی والدہ لیڈی ڈیانا کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا اور لیڈی ڈیانا کے والد سمیت ان کے دادا اور پڑدادا برطانوی شاہی خاندان میں اہم عہدوں پر ملازمتیں کرتے آ رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dd545cd77f9e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/11/5dd545cd77f9e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/11/5dd545cd77f9e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dd545cd77f9e.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری نے مئی 2018 میں شادی کی تھی&amp;mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری نے مئی 2018 میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میگھن مارکل سے شادی کے بعد ہی شہزادہ ہیری کی زندگی میں کئی تبدیلیاں دیکھی گئیں اور انہوں نے رواں برس کے آغاز میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہزادہ ہیری نے رواں برس مارچ میں باضابطہ طور پر شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کرکے کینیڈا منتقل ہوگئے تھے اور بعد ازاں وہ امریکا شفٹ ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت شہزادہ ہیری اہلیہ اور بچے سمیت امریکا میں مقیم ہیں اور انہوں نے اپنی جدا شناخت بنانے کے لیے اسٹریمنگ ویب سائٹ نیٹ فلیکس کے ساتھ دستاویزی فلمیں اور شوز بنانے کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے جب کہ وہ دیگر سماجی تنظیموں کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5f999036485ed'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1127419"&gt;شہزادہ ہیری اور میگھن کا نشریاتی اداروں کو معلومات نہ دینے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ انہوں نے شاہی ذمہ داریوں سے خود کو علیحدہ کرلیا ہے تاہم پھر بھی وہ برطانوی شاہی خاندان کے نہ صرف فرد ہیں بلکہ خاندان کا اہم حصہ بھی ہیں اور ان سے شہزادے کا لقب نہیں چھینا جا سکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہزادہ ہیری نے مذکورہ انٹرویو میں اعتراف کیا کہ جس طرح ان کی پرورش ہوئی اور جس طرح کی انہوں نے تعلیم لی، اس وجہ سے انہیں یہ علم نہ ہوسکا کہ ’لاشعوری تعصب‘ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں ’لاشعوری تعصب‘ کے احساس ہونے میں کئی سال لگے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہزادہ ہیری نے دنیا بھر میں سیاہ افراد کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر بھی بات کی اور کہا کہ سماجی انصاف کی تحریک ایک ٹرین کی طرح ہے جو اسٹیشن سے اپنی منزل کی جانب سفر پر نکل پڑی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو ہر ایک کے لیے بہتر جگہ بنایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ انٹرویو میں شہزادہ ہیری نے سیاہ فام میزبان پیٹرک ہچسن کی تعریف بھی کی، جنہوں نے کچھ ہفتے قبل بلیک لائیو میٹرز کی ایک ریلی میں سفید فام فوٹوگرافر پر ہونے والے حملے کے دوران ان کی حفاظت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہزادہ ہیری نے میزبان کو ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک دوسرے نسل کے شخص کی حفاظت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--instagram  '&gt;            &lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-version="4" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:658px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:8px;"&gt; &lt;div style=" background:#F8F8F8; line-height:0; margin-top:40px; padding:50% 0; text-align:center; width:100%;"&gt; &lt;div style=" background:url(data:image/png;base64,iVBORw0KGgoAAAANSUhEUgAAACwAAAAsCAMAAAApWqozAAAAGFBMVEUiIiI9PT0eHh4gIB4hIBkcHBwcHBwcHBydr+JQAAAACHRSTlMABA4YHyQsM5jtaMwAAADfSURBVDjL7ZVBEgMhCAQBAf//42xcNbpAqakcM0ftUmFAAIBE81IqBJdS3lS6zs3bIpB9WED3YYXFPmHRfT8sgyrCP1x8uEUxLMzNWElFOYCV6mHWWwMzdPEKHlhLw7NWJqkHc4uIZphavDzA2JPzUDsBZziNae2S6owH8xPmX8G7zzgKEOPUoYHvGz1TBCxMkd3kwNVbU0gKHkx+iZILf77IofhrY1nYFnB/lQPb79drWOyJVa/DAvg9B/rLB4cC+Nqgdz/TvBbBnr6GBReqn/nRmDgaQEej7WhonozjF+Y2I/fZou/qAAAAAElFTkSuQmCC); display:block; height:44px; margin:0 auto -44px; position:relative; top:-22px; width:44px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://instagram.com/p/B8MjqZQpfba/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_top"&gt;A photo posted by Instagram (@instagram)&lt;/a&gt; on &lt;time style=" font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px;" datetime="2015-03-22T18:21:59+00:00"&gt;Mar 22, 2015 at 11:21am PDT&lt;/time&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی شہزادہ ہیری نے پہلی بار کھل کر اعتراف کیا ہے کہ شاہی گھرانے میں پیدا ہونے اور شاہانہ طرز زندگی گزارنے کی وجہ سے وہ کئی سال تک ’لاشعوری تعصب‘ کا شکار رہے۔</p>

<p>شہزادہ ہیری کے مطابق انہیں کئی سال تک اس بات کا ادراک ہی نہیں تھا کہ تعصب کیا ہے اور نسلی تفریق کیسی ہوتی ہے اور وہ اس سے لاعلمی کی وجہ سے ہی ’لاشعوری تعصب‘ کا شکار رہے۔</p>

<p>خبر رساں ادارے <a href="https://apnews.com/article/prince-harry-ignorance-no-excuse-bias-b80c087615660a36afda3af1b79065d5"><strong>ایسوسی ایٹڈ پریس</strong></a> (اے پی) کے مطابق شہزادہ ہیری نے فیشن میگزین جی کیو کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں ’لاشعوری تعصب‘ کا احساس اس وقت ہوا جب انہوں نے اپنی زندگی کو بیوی کی طرز زندگی کے مطابق گزارنا شروع کیا۔</p>

<p>شہزادہ ہیری کے مطابق انہوں نے ’لاشعوری تعصب‘ کو اس وقت سمجھا جب انہوں نے خود کو اپنی اہلیہ کی جگہ رکھ کر وقت گزارا۔</p>

<p>شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل امریکی نژاد سابق اداکارہ ہیں اور دونوں نے مئی 2018 میں شادی کی تھی، اب ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔</p>

<p>دونوں کی شادی سے قبل ہی برطانوی و یورپی میڈیا میں کئی طرح کی چہ مگوئیاں تھیں، جب کہ آج تک ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ میگھن مارکل نے شہزادہ ہیری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔</p>

<h6 id='5f99903648530'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122041">شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی شاہی حیثیت سے باضابطہ علیحدگی</a></h6>

<p>تاہم ایسی خبروں کے برعکس شہزادہ ہیری نے ہمیشہ اپنی اہلیہ کی طرفداری اور تعریف کی ہے اور اب انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ’لاشعوری تعصب‘ اور ’نسلی تفریق‘ کو اس وقت ہی سمجھا جب انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کی۔</p>

<p>میگھن مارکل کے والد سفید فام امریکی ہیں جب کہ ان کی والدہ افریقی نژاد سیاہ فام امریکی ہیں، ان کے برعکس شہزادہ ہیری کا خاندان نہ صرف سفید فام ہے بلکہ ان کے آباؤ اجداد بھی کئی صدیوں سے شاہانہ زندگی گزارتے آئے ہیں۔</p>

<p>البتہ شہزادہ ہیری کی والدہ لیڈی ڈیانا کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا اور لیڈی ڈیانا کے والد سمیت ان کے دادا اور پڑدادا برطانوی شاہی خاندان میں اہم عہدوں پر ملازمتیں کرتے آ رہے تھے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dd545cd77f9e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/11/5dd545cd77f9e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/11/5dd545cd77f9e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dd545cd77f9e.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری نے مئی 2018 میں شادی کی تھی&mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری نے مئی 2018 میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>میگھن مارکل سے شادی کے بعد ہی شہزادہ ہیری کی زندگی میں کئی تبدیلیاں دیکھی گئیں اور انہوں نے رواں برس کے آغاز میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔</p>

<p>شہزادہ ہیری نے رواں برس مارچ میں باضابطہ طور پر شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کرکے کینیڈا منتقل ہوگئے تھے اور بعد ازاں وہ امریکا شفٹ ہوگئے۔</p>

<p>اس وقت شہزادہ ہیری اہلیہ اور بچے سمیت امریکا میں مقیم ہیں اور انہوں نے اپنی جدا شناخت بنانے کے لیے اسٹریمنگ ویب سائٹ نیٹ فلیکس کے ساتھ دستاویزی فلمیں اور شوز بنانے کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے جب کہ وہ دیگر سماجی تنظیموں کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔</p>

<h6 id='5f999036485ed'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1127419">شہزادہ ہیری اور میگھن کا نشریاتی اداروں کو معلومات نہ دینے کا اعلان</a></h6>

<p>اگرچہ انہوں نے شاہی ذمہ داریوں سے خود کو علیحدہ کرلیا ہے تاہم پھر بھی وہ برطانوی شاہی خاندان کے نہ صرف فرد ہیں بلکہ خاندان کا اہم حصہ بھی ہیں اور ان سے شہزادے کا لقب نہیں چھینا جا سکتا۔</p>

<p>شہزادہ ہیری نے مذکورہ انٹرویو میں اعتراف کیا کہ جس طرح ان کی پرورش ہوئی اور جس طرح کی انہوں نے تعلیم لی، اس وجہ سے انہیں یہ علم نہ ہوسکا کہ ’لاشعوری تعصب‘ کیا ہے۔</p>

<p>انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں ’لاشعوری تعصب‘ کے احساس ہونے میں کئی سال لگے۔</p>

<p>شہزادہ ہیری نے دنیا بھر میں سیاہ افراد کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر بھی بات کی اور کہا کہ سماجی انصاف کی تحریک ایک ٹرین کی طرح ہے جو اسٹیشن سے اپنی منزل کی جانب سفر پر نکل پڑی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو ہر ایک کے لیے بہتر جگہ بنایا جائے۔</p>

<p>مذکورہ انٹرویو میں شہزادہ ہیری نے سیاہ فام میزبان پیٹرک ہچسن کی تعریف بھی کی، جنہوں نے کچھ ہفتے قبل بلیک لائیو میٹرز کی ایک ریلی میں سفید فام فوٹوگرافر پر ہونے والے حملے کے دوران ان کی حفاظت کی تھی۔</p>

<p>شہزادہ ہیری نے میزبان کو ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک دوسرے نسل کے شخص کی حفاظت کی۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--instagram  '>            <blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-version="4" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:658px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:8px;"> <div style=" background:#F8F8F8; line-height:0; margin-top:40px; padding:50% 0; text-align:center; width:100%;"> <div style=" background:url(data:image/png;base64,iVBORw0KGgoAAAANSUhEUgAAACwAAAAsCAMAAAApWqozAAAAGFBMVEUiIiI9PT0eHh4gIB4hIBkcHBwcHBwcHBydr+JQAAAACHRSTlMABA4YHyQsM5jtaMwAAADfSURBVDjL7ZVBEgMhCAQBAf//42xcNbpAqakcM0ftUmFAAIBE81IqBJdS3lS6zs3bIpB9WED3YYXFPmHRfT8sgyrCP1x8uEUxLMzNWElFOYCV6mHWWwMzdPEKHlhLw7NWJqkHc4uIZphavDzA2JPzUDsBZziNae2S6owH8xPmX8G7zzgKEOPUoYHvGz1TBCxMkd3kwNVbU0gKHkx+iZILf77IofhrY1nYFnB/lQPb79drWOyJVa/DAvg9B/rLB4cC+Nqgdz/TvBbBnr6GBReqn/nRmDgaQEej7WhonozjF+Y2I/fZou/qAAAAAElFTkSuQmCC); display:block; height:44px; margin:0 auto -44px; position:relative; top:-22px; width:44px;"></div></div><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://instagram.com/p/B8MjqZQpfba/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_top">A photo posted by Instagram (@instagram)</a> on <time style=" font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px;" datetime="2015-03-22T18:21:59+00:00">Mar 22, 2015 at 11:21am PDT</time></p></div></blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1145286</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Oct 2020 20:37:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f98f5526da07.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f98f5526da07.jpg?0.25906150391963156"/>
        <media:title>پہلی بار شہزادہ ہیری نے کھل کر اعتراف کیا کہ وہ سالوں تک لاشعوری تعصب کے احساس سے محروم تھے—فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
