<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:39:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:39:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کیلئے لازمی خدمات کے قانون کی مدت میں توسیع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1145372/</link>
      <description>&lt;p&gt;راولپنڈی: وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کے لیے لازمی خدمات کے قانون 1952 کے اطلاق میں 6 ماہ کی توسیع کردی تا کہ فلائٹ آپریشن، عوامی تحفظ اور عوام کی فلاح کے افعال درست طور پر چلتے رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ لازمی خدمات کے قانون میں توسیع کا مقصد قومی ایئر لائن کو درپیش مشکلات دور کرنا اور کووِڈ 19 کے دوران بغیر کسی رکاوٹوں کے پروازوں کی آمدو رفت جاری رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1587526/pia-to-continue-functioning-under-essential-services-law"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ قانون 28 اکتوبر 2020 سے آئندہ 6 ماہ تک کے لیے نافذ العمل رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1128867"&gt;پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن لازمی خدمات قانون کے ماتحت کردیا گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پروازوں کی کسی رکاوٹ کے بغیر آمدو رفت، عوامی تحفظ اور فلاح کے لیے وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ پی آئی اے سی ایل میں ملازمت لازمی خدمت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ ’اس لیے پاکستان لازمی خدمات قانون 1952 کے اختیار کے تحت حکومت پاکستان بخوشی یہ اعلان کرتی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ میں ملازمت کے تمام درجوں پر 28 اکتوبر 2020 سے 6 ماہ کی مدت کے لیے یہ قانون لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قانون کے تحت قانونی احکامات سے انکار یا کسی اور شخص کو نافرمانی پر اکسانا، بغیر ٹھوس وجہ سے غیر حاضری یا کام سے انکار کرنا یا مکمل کرنے سے منع کردینا قابل سزا جرم میں شمار ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f9aec40b0977'&gt;سزائیں&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;لازمی خدمات کے قانون کے تحت جو شخص بھی اس کے تحت قابل سزا جرم کا مرتب ہوا اسے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے ملازمین کے نام ایک مراسلے میں پی آئی اے نے انہیں ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے جو قانون کے تحت جرم کے زمرے میں آتے ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1129312"&gt;پی آئی اے میں لازمی خدمات کے قانون کا نفاذ غیرآئینی قرار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں وفاقی حکومت نے بچاؤ، انخلا اور وطن واپسی کا آپریشن بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے پی آئی اے سی ایل کی سروسز فوری طور پر 6 ماہ کے لیے لازمی خدمات کے قانون کے ماتحت کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت اُمید ظاہر کی گئی تھی کہ قانون کے نفاذ سے کمپنی کے شعبہ جات اور ملازمین دنیا بھر سے پاکستانیوں کی واپسی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے کام کریں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f9aec40b09c0'&gt;ملازمین کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پی آئی اے آفیسر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری صفدر انجم نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پی آئی اے کے لیے لازمی خدمات کے قانون میں توسیع موجودہ انتظامیہ کی ظالمانہ سوچ کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’کوئی ادارہ ملازمین کو مسلسل ہراساں کر کے ترقی نہیں کرسکتا، پی آئی اے ایک کمرشل ادارہ ہے جسے بندوق کے زور پر نہیں چلایا جاسکتا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور پی آئی اے ملازمین کے بنیادی حقوق بحال کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>راولپنڈی: وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کے لیے لازمی خدمات کے قانون 1952 کے اطلاق میں 6 ماہ کی توسیع کردی تا کہ فلائٹ آپریشن، عوامی تحفظ اور عوام کی فلاح کے افعال درست طور پر چلتے رہیں۔</p>

<p>ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ لازمی خدمات کے قانون میں توسیع کا مقصد قومی ایئر لائن کو درپیش مشکلات دور کرنا اور کووِڈ 19 کے دوران بغیر کسی رکاوٹوں کے پروازوں کی آمدو رفت جاری رکھنا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1587526/pia-to-continue-functioning-under-essential-services-law">رپورٹ</a></strong> کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ قانون 28 اکتوبر 2020 سے آئندہ 6 ماہ تک کے لیے نافذ العمل رہے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1128867">پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن لازمی خدمات قانون کے ماتحت کردیا گیا</a></strong> </p>

<p>وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پروازوں کی کسی رکاوٹ کے بغیر آمدو رفت، عوامی تحفظ اور فلاح کے لیے وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ پی آئی اے سی ایل میں ملازمت لازمی خدمت ہے۔</p>

<p>نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ ’اس لیے پاکستان لازمی خدمات قانون 1952 کے اختیار کے تحت حکومت پاکستان بخوشی یہ اعلان کرتی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ میں ملازمت کے تمام درجوں پر 28 اکتوبر 2020 سے 6 ماہ کی مدت کے لیے یہ قانون لاگو ہوگا۔</p>

<p>قانون کے تحت قانونی احکامات سے انکار یا کسی اور شخص کو نافرمانی پر اکسانا، بغیر ٹھوس وجہ سے غیر حاضری یا کام سے انکار کرنا یا مکمل کرنے سے منع کردینا قابل سزا جرم میں شمار ہوتے ہیں۔</p>

<h3 id='5f9aec40b0977'>سزائیں</h3>

<p>لازمی خدمات کے قانون کے تحت جو شخص بھی اس کے تحت قابل سزا جرم کا مرتب ہوا اسے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔</p>

<p>اپنے ملازمین کے نام ایک مراسلے میں پی آئی اے نے انہیں ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے جو قانون کے تحت جرم کے زمرے میں آتے ہوں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1129312">پی آئی اے میں لازمی خدمات کے قانون کا نفاذ غیرآئینی قرار</a></strong> </p>

<p>خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں وفاقی حکومت نے بچاؤ، انخلا اور وطن واپسی کا آپریشن بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے پی آئی اے سی ایل کی سروسز فوری طور پر 6 ماہ کے لیے لازمی خدمات کے قانون کے ماتحت کردیا تھا۔</p>

<p>اس وقت اُمید ظاہر کی گئی تھی کہ قانون کے نفاذ سے کمپنی کے شعبہ جات اور ملازمین دنیا بھر سے پاکستانیوں کی واپسی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے کام کریں گے۔ </p>

<h3 id='5f9aec40b09c0'>ملازمین کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ</h3>

<p>دوسری جانب پی آئی اے آفیسر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری صفدر انجم نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پی آئی اے کے لیے لازمی خدمات کے قانون میں توسیع موجودہ انتظامیہ کی ظالمانہ سوچ کا مظہر ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’کوئی ادارہ ملازمین کو مسلسل ہراساں کر کے ترقی نہیں کرسکتا، پی آئی اے ایک کمرشل ادارہ ہے جسے بندوق کے زور پر نہیں چلایا جاسکتا‘۔</p>

<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور پی آئی اے ملازمین کے بنیادی حقوق بحال کیے جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1145372</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Oct 2020 21:22:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اصغر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f9a4050149ef.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f9a4050149ef.jpg"/>
        <media:title>یہ قانون 28 اکتوبر 2020 سے آئندہ 6 ماہ تک کے لیے نافذ العمل رہے گا—فائل فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
