<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:23:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:23:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مذہب کے خلاف آزادی اظہار رائے کو استعمال نہیں کرنا چاہیے، اقوام متحدہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1145480/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ (یو این) کے تہذیبوں کے اتحاد سے متعلق ذیلی ادارے نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ عمل کو تشدد اور نفرت پھیلانے کا سبب قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے دی یونائیٹڈ نیشنس الائنس آف سولائیزیشن (یو این اے او سی) نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے پیغمبر ﷺ کے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی مذکورہ تہذیبوں کے اتحاد کے ادارے کی جانب سے &lt;a href="https://www.unaoc.org/2020/10/a-call-for-mutual-respect/"&gt;&lt;strong&gt;جاری بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا گیا ہے کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کے بعد تشدد اور انتہاپسندی کے بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذیلی ادارے کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ توہین آمیز مواد کی وجہ سے ہی تشدد میں اضافہ ہوا، جس کا نشانہ معصوم شہری بنے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں واضح کیا گیا کہ مذاہب، عقیدوں یا تہذیبوں کی تذلیل کیے جانے سے ہی تشدد، انتہاپسندی اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے اور ایسے متنازع اقدامات سے دور رہ کر تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پیدا کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5f9be410b1c64'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1145369"&gt;گستاخانہ خاکوں پر فرانسیسی صدر کی حمایت احمقانہ، توہین آمیز حرکت ہے، ایران&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;ادارے کے سربراہ میگوئل اینجل موراتینوس نے اپنے بیان میں بتایا کہ آزادی اظہار، آزادی مذہب و عقائد، باہمی انحصار اور انسانوں کے مشترکہ حقوق سے متعلق تمام تفصیلات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل 18 اور 19 میں درج ہے، جن میں واضح ہے کہ آزادی اظہار کو کسی بھی مذہب یا عقیدے کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد کے ادارے کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے جس سے دنیا کے تمام مذاہب اور عقائد کا احترام مسخ نہ ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میگوئل اینجل موراتینوس نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اظہار سے متعلق انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکلز پر عمل کرنا تمام ممبر ممالک کا فرض ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے فرانسیسی صدر یا وہاں کے سیاستدانوں کا ذکر کیے بغیر ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ یا ’توہین مذاہب‘ کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f9bb9f8764a5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/10/5f9bb9f8764a5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/10/5f9bb9f8764a5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f9bb9f8764a5.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مذاہب یا عقائد کی توہین آزادی اظہار نہیں، میگوئل اینجل مراتینوس&amp;mdash;فوٹو: یو این" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مذاہب یا عقائد کی توہین آزادی اظہار نہیں، میگوئل اینجل مراتینوس—فوٹو: یو این&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارے کے مطابق تشدد کی کارروائیوں اور انتہاپسندی کو کسی بھی مذہب، عقیدے، نسل یا قوم کے ساتھ منسلک نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ کہ کسی طرح کے غلط عمل کو عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر کرنے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میگوئل اینجل موراتینوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عالمی قوانین میں نفرت انگیز تقریروں، امتیازی سلوک، کسی کے مذہب اور عقیدے کے خلاف توہین آمیز بات کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5f9be410b1cbc'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1145467/"&gt;مسلمان لاکھوں فرانسیسی افراد کے قتل کا حق رکھتے ہیں، مہاتیر محمد&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارے نے دنیا بھر کے تمام مذاہب اور عقائد کے درمیان باہمی تعاون، فروغ اور محبت پر زور دیا تاکہ دنیا سے تشدد اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارے نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ دنیا امن لانے کے لیے ہر طرح کے مذاکرات کی حمایت کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانسیسی صدر نے آزادی اظہار کے نام پر ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی صدر نے رواں ماہ 23 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ فرانس آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے اور ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی صدر کے ایسے بیان کے بعد پاکستان، ترکی، ایران، ملائیشیا، کویت اور سعودی عرب سمیت تقریبا دنیا کے تمام مسلم ممالک میں فرانس کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی میگزین کے مکروہ عمل کی حکومت اور ملکی صدر کی جانب سے حمایت کے بعد ہی اقوام متحدہ نے ’گستاخانہ خاکوں‘ کے حوالے سے اظہار افسوس کرتے ہوئے برہمی کا بیان جاری کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ (یو این) کے تہذیبوں کے اتحاد سے متعلق ذیلی ادارے نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ عمل کو تشدد اور نفرت پھیلانے کا سبب قرار دیا ہے۔</p>

<p>اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے دی یونائیٹڈ نیشنس الائنس آف سولائیزیشن (یو این اے او سی) نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے پیغمبر ﷺ کے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔</p>

<p>اقوام متحدہ کی مذکورہ تہذیبوں کے اتحاد کے ادارے کی جانب سے <a href="https://www.unaoc.org/2020/10/a-call-for-mutual-respect/"><strong>جاری بیان</strong></a> میں کہا گیا ہے کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کے بعد تشدد اور انتہاپسندی کے بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے۔</p>

<p>ذیلی ادارے کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ توہین آمیز مواد کی وجہ سے ہی تشدد میں اضافہ ہوا، جس کا نشانہ معصوم شہری بنے۔</p>

<p>بیان میں واضح کیا گیا کہ مذاہب، عقیدوں یا تہذیبوں کی تذلیل کیے جانے سے ہی تشدد، انتہاپسندی اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے اور ایسے متنازع اقدامات سے دور رہ کر تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پیدا کی جانی چاہیے۔</p>

<h6 id='5f9be410b1c64'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1145369">گستاخانہ خاکوں پر فرانسیسی صدر کی حمایت احمقانہ، توہین آمیز حرکت ہے، ایران</a></h6>

<p>ادارے کے سربراہ میگوئل اینجل موراتینوس نے اپنے بیان میں بتایا کہ آزادی اظہار، آزادی مذہب و عقائد، باہمی انحصار اور انسانوں کے مشترکہ حقوق سے متعلق تمام تفصیلات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل 18 اور 19 میں درج ہے، جن میں واضح ہے کہ آزادی اظہار کو کسی بھی مذہب یا عقیدے کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>

<p>اقوام متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد کے ادارے کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے جس سے دنیا کے تمام مذاہب اور عقائد کا احترام مسخ نہ ہو۔</p>

<p>میگوئل اینجل موراتینوس نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اظہار سے متعلق انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکلز پر عمل کرنا تمام ممبر ممالک کا فرض ہے۔</p>

<p>اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے فرانسیسی صدر یا وہاں کے سیاستدانوں کا ذکر کیے بغیر ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ یا ’توہین مذاہب‘ کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f9bb9f8764a5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/10/5f9bb9f8764a5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/10/5f9bb9f8764a5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/10/5f9bb9f8764a5.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مذاہب یا عقائد کی توہین آزادی اظہار نہیں، میگوئل اینجل مراتینوس&mdash;فوٹو: یو این" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مذاہب یا عقائد کی توہین آزادی اظہار نہیں، میگوئل اینجل مراتینوس—فوٹو: یو این</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>عالمی ادارے کے مطابق تشدد کی کارروائیوں اور انتہاپسندی کو کسی بھی مذہب، عقیدے، نسل یا قوم کے ساتھ منسلک نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ کہ کسی طرح کے غلط عمل کو عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر کرنے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔</p>

<p>میگوئل اینجل موراتینوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عالمی قوانین میں نفرت انگیز تقریروں، امتیازی سلوک، کسی کے مذہب اور عقیدے کے خلاف توہین آمیز بات کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔</p>

<h6 id='5f9be410b1cbc'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1145467/">مسلمان لاکھوں فرانسیسی افراد کے قتل کا حق رکھتے ہیں، مہاتیر محمد</a></h6>

<p>عالمی ادارے نے دنیا بھر کے تمام مذاہب اور عقائد کے درمیان باہمی تعاون، فروغ اور محبت پر زور دیا تاکہ دنیا سے تشدد اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔</p>

<p>عالمی ادارے نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ دنیا امن لانے کے لیے ہر طرح کے مذاکرات کی حمایت کرے گا۔</p>

<p>اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانسیسی صدر نے آزادی اظہار کے نام پر ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔</p>

<p>فرانسیسی صدر نے رواں ماہ 23 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ فرانس آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے اور ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔</p>

<p>فرانسیسی صدر کے ایسے بیان کے بعد پاکستان، ترکی، ایران، ملائیشیا، کویت اور سعودی عرب سمیت تقریبا دنیا کے تمام مسلم ممالک میں فرانس کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔</p>

<p>فرانسیسی میگزین کے مکروہ عمل کی حکومت اور ملکی صدر کی جانب سے حمایت کے بعد ہی اقوام متحدہ نے ’گستاخانہ خاکوں‘ کے حوالے سے اظہار افسوس کرتے ہوئے برہمی کا بیان جاری کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1145480</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Oct 2020 14:59:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/10/5f9bb83bceddd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/10/5f9bb83bceddd.jpg"/>
        <media:title>عالمی ادارے کے مطابق مذاہب کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے — فائل فوٹو: یو این اے او سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
