<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:15:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:15:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریا کی دو مساجد ویانا حملہ آور کی وجہ سے بند
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1146068/</link>
      <description>&lt;p&gt;آسٹریا کی حکومت نے رواں ہفتے دارالحکومت ویانا میں فائرنگ کرکے 4 افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کی آمد و رفت کے بعد شہر میں قائم دو مساجد کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 3 نومبر کو آسٹریا میں دہائی بعد پہلی مرتبہ بدترین حملہ ہوا تھا جبکہ  ایک حملہ آور کو پولیس نے ہلاک کردیا تھا جس کی شناخت 20 سالہ کوجٹم فیجزولائی کے نام سے ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریا کے وزیر سوسین راب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مذہبی امور کے سرکاری دفتر کو ‘وزارت داخلہ کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ 3 نومبر کا حملہ آور اپنی رہائی کے بعد متعدد مرتبہ ویانا کی مساجد کا دورہ کر رہا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1145747/"&gt;ویانا میں مسلح افراد کی 6 مقامات پر فائرنگ، خاتون سمیت 4 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملت ابراہیم مسجد اور توحید مسجد بالترتیب ویانا کے مغربی علاقوں اوٹاکرنگ اور میڈلنگ میں واقع ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوسین راب کا کہنا تھا کہ مقامی خفیہ ایجنسی بی وی ٹی نے ‘ہمیں بتایا کہ ان مساجد کے دوروں سے حملہ آوروں میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایک مسجد باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلامک ریلیجیئس کمیونٹی آف آسٹریا نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک رجسٹرڈ مسجد کو بند کیا جارہا ہے کیونکہ اس نے مذہبی عقائد اور اس کے آئین کے قواعد کو توڑا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی اداروں سے متعلق قومی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویانا کے پراسیکیوٹرز کے دفتر نے بیان میں کہا کہ حملے کے بعد گرفتار کیے گئے 16 میں سے 6 افراد کو رہا کردیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان بدستور حراست میں ہیں اور حملہ آور کے تعلق پر تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ہلاک حملہ آور کوجٹم فیجزولائی آسٹریا اور مقدونیہ کی دوہری شہریت کا حامل تھا اور اس سے قبل شام میں سرگرم داعش میں شمولیت کی کوششوں پر اسے سزا بھی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5fa596017d30b'&gt;'ناقابل برداشت غلطیاں'&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آسٹریا کی حکومت نے حملہ آوروں سے متعلق خفیہ اطلاعات پر ناقابل برداشت غلطیوں کا اعتراف کر تے ہوئے کہا کہ اس کو بڑا خطرہ تصور کیا جاسکتا تھا اور قریب سے نگرانی کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر داخلہ کیرل نیمیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ویانا شہر کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی ویانا پرووینشل آفس فار دی پروٹیکشن آف کانسٹی ٹیوشن اینڈ کاؤنٹر ٹیرارزم (ایل وی ٹی) کے سربراہ عارضی طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں جبکہ ایک تفتیش بھی کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092335"&gt;پھر سے ویانا جانے کو دل چاہتا ہے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری نظر میں ناقابل برداشت غلطیاں سرزد ہوئی ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریا پہلے ہی تسلیم کرچکا ہے کہ سلوواکیہ سے ایسی خفیہ اطلاعات ملی تھیں کہ 20 سالہ مسلح شخص نے وہاں سے بارود خریدنے کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویانا کے پولیس سربراہ گیہارڈ پہیورسٹل کا کہنا تھا کہ ‘جرمن خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جرمنی میں موجود افراد کی نگرانی کی گئی جو گرمیوں میں آسٹریا میں رہے تھے اور یہاں حملہ آور سے بھی ملاقات کی تھی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ‘ان حقائق کو سلوواکیہ سے ملنے والی معلومات کو جوڑنے سے مشتبہ افراد کے خطرناک ہونے کے حوالے سے مختلف نتائج نکل سکتے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس سربراہ نے کہا کہ ان تمام جائزوں سے بہتر اقدامات کو یقینی ہونا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 3 نومبر کو  آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے وسطی علاقے میں مسلح افراد نے 6 مختلف مقامات پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 4 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ  2 میں سے ایک مسلح حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا جبکہ ایک فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹرین وزیر داخلہ نے شبہے کا اظہار کیا تھا کہ ایک حملہ آور داعش کا حامی تھا، حملہ کرنے کا مقصد آسٹریا کے جمہوری معاشرے کو کمزور اور تقسیم کرنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریا کے چانسلر سباستیان کرس نے اس حملے کو ’نفرت انگیز دہشت گردی‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آسٹریا کی حکومت نے رواں ہفتے دارالحکومت ویانا میں فائرنگ کرکے 4 افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کی آمد و رفت کے بعد شہر میں قائم دو مساجد کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔</p>

<p>خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 3 نومبر کو آسٹریا میں دہائی بعد پہلی مرتبہ بدترین حملہ ہوا تھا جبکہ  ایک حملہ آور کو پولیس نے ہلاک کردیا تھا جس کی شناخت 20 سالہ کوجٹم فیجزولائی کے نام سے ہوئی تھی۔</p>

<p>آسٹریا کے وزیر سوسین راب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مذہبی امور کے سرکاری دفتر کو ‘وزارت داخلہ کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ 3 نومبر کا حملہ آور اپنی رہائی کے بعد متعدد مرتبہ ویانا کی مساجد کا دورہ کر رہا ہے’۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1145747/">ویانا میں مسلح افراد کی 6 مقامات پر فائرنگ، خاتون سمیت 4 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>ملت ابراہیم مسجد اور توحید مسجد بالترتیب ویانا کے مغربی علاقوں اوٹاکرنگ اور میڈلنگ میں واقع ہیں۔</p>

<p>سوسین راب کا کہنا تھا کہ مقامی خفیہ ایجنسی بی وی ٹی نے ‘ہمیں بتایا کہ ان مساجد کے دوروں سے حملہ آوروں میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایک مسجد باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہے۔</p>

<p>اسلامک ریلیجیئس کمیونٹی آف آسٹریا نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک رجسٹرڈ مسجد کو بند کیا جارہا ہے کیونکہ اس نے مذہبی عقائد اور اس کے آئین کے قواعد کو توڑا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی اداروں سے متعلق قومی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی۔</p>

<p>ویانا کے پراسیکیوٹرز کے دفتر نے بیان میں کہا کہ حملے کے بعد گرفتار کیے گئے 16 میں سے 6 افراد کو رہا کردیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان بدستور حراست میں ہیں اور حملہ آور کے تعلق پر تفتیش جاری ہے۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق ہلاک حملہ آور کوجٹم فیجزولائی آسٹریا اور مقدونیہ کی دوہری شہریت کا حامل تھا اور اس سے قبل شام میں سرگرم داعش میں شمولیت کی کوششوں پر اسے سزا بھی ہوئی تھی۔</p>

<h3 id='5fa596017d30b'>'ناقابل برداشت غلطیاں'</h3>

<p>آسٹریا کی حکومت نے حملہ آوروں سے متعلق خفیہ اطلاعات پر ناقابل برداشت غلطیوں کا اعتراف کر تے ہوئے کہا کہ اس کو بڑا خطرہ تصور کیا جاسکتا تھا اور قریب سے نگرانی کی جاسکتی ہے۔</p>

<p>وزیر داخلہ کیرل نیمیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ویانا شہر کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی ویانا پرووینشل آفس فار دی پروٹیکشن آف کانسٹی ٹیوشن اینڈ کاؤنٹر ٹیرارزم (ایل وی ٹی) کے سربراہ عارضی طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں جبکہ ایک تفتیش بھی کی جارہی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092335">پھر سے ویانا جانے کو دل چاہتا ہے</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری نظر میں ناقابل برداشت غلطیاں سرزد ہوئی ہیں’۔</p>

<p>آسٹریا پہلے ہی تسلیم کرچکا ہے کہ سلوواکیہ سے ایسی خفیہ اطلاعات ملی تھیں کہ 20 سالہ مسلح شخص نے وہاں سے بارود خریدنے کی کوشش کی تھی۔</p>

<p>ویانا کے پولیس سربراہ گیہارڈ پہیورسٹل کا کہنا تھا کہ ‘جرمن خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جرمنی میں موجود افراد کی نگرانی کی گئی جو گرمیوں میں آسٹریا میں رہے تھے اور یہاں حملہ آور سے بھی ملاقات کی تھی’۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ‘ان حقائق کو سلوواکیہ سے ملنے والی معلومات کو جوڑنے سے مشتبہ افراد کے خطرناک ہونے کے حوالے سے مختلف نتائج نکل سکتے ہیں’۔</p>

<p>پولیس سربراہ نے کہا کہ ان تمام جائزوں سے بہتر اقدامات کو یقینی ہونا چاہیے تھا۔</p>

<p>یاد رہے کہ 3 نومبر کو  آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے وسطی علاقے میں مسلح افراد نے 6 مختلف مقامات پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 4 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔</p>

<p>رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ  2 میں سے ایک مسلح حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا جبکہ ایک فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔</p>

<p>آسٹرین وزیر داخلہ نے شبہے کا اظہار کیا تھا کہ ایک حملہ آور داعش کا حامی تھا، حملہ کرنے کا مقصد آسٹریا کے جمہوری معاشرے کو کمزور اور تقسیم کرنا تھا۔</p>

<p>آسٹریا کے چانسلر سباستیان کرس نے اس حملے کو ’نفرت انگیز دہشت گردی‘ قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1146068</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Nov 2020 23:29:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fa58785e67cb.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fa58785e67cb.png"/>
        <media:title>ویانا حملے میں خاتون سمیت 4 افراد ہلاک ہوئے تھے—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
