<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:50:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:50:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آذربائیجان کا کاراباخ کے دوسرے بڑے شہر پر قبضے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1146207/</link>
      <description>&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے کہا ہے کہ نیگورنو-کاراباخ میں آرمینیا سے دوسرا بڑا شہر شوشا بھی حاصل کرلیا جبکہ آرمینیا نے تردید کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق صدر الہام علی یوف کے اعلان کے بعد دارالحکومت باکو کی سڑکوں پر جشن منایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1145107"&gt;نیگورنو-کاراباخ میں جھڑپیں، آرمینیا کے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 974 ہوگئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fa7c9399ec88.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fa7c9399ec88.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fa7c9399ec88.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fa7c9399ec88.png 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق شوشا کو آرمینیا کے شہری شوشی کہتے ہیں اور یہ شہر ثقافت اور اسٹریٹجک لحاظ سے دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتا ہے اور خطے کے سب سے بڑے شہر اسٹیپنکرٹ کے جنوب میں 15 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پہاڑی سلسلوں میں واقع نیگورنو-کاراباخ کا خطہ بنیادی طور پر آذربائیجان کا حصہ ہے لیکن آرمینیا کا تسلط ہے جبکہ ستمبر میں شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے باکو میں شوشا پر فوج کے قبضے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘آذربائیجان کی تاریخ میں یہ ایک عظیم دن ہوگا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;باکو میں شہریوں کی بڑی تعداد فتح کا جشن منانے کے لیے جمع ہوئی، جن کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھے اور نعرے لگا رہے تھے جبکہ کاروں کے ہارن بجائے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب نیگورنو-کاراباخ کے عہدیداروں اور آرمینیا کی وزارت دفاع نے الہام علی یوف کے دعووں کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143637"&gt;آذربائیجان کو ہتھیاروں کی فروخت پر اسرائیل سفارتی تنقید کی زد میں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کی ریسکیو سروس کا کہنا تھا کہ ‘شوشی بدستور آذربائیجان کے لیے ناقابل حصول خواب ہے، تاہم شہر کو دشمنی کی بم باری سے شدید نقصان پہنچا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ اہم علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے جبکہ نیگورنو-کاراباخ کی فوج نے کہا کہ انہوں نے آذربائیجان کی فورسز کی پیش قدمی کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترکی کے شراکت دار آذربائیجان کو 25 برس بعد جنوبی قفقاس میں برتری حاصل ہوئی ہے اور ایک مہینے میں نیگورنو-کاراباخ کے اطراف میں اکثر علاقوں کو واگزار کرالیا ہے جو 1990 کی دہائی میں ان سے چھین لی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے لیے شوشا شہر اسٹیپنکرٹ پر اپنا قبضہ واپس قائم کرنے کے لیے بنیادی مقام ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں جبکہ آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی جانب سے شہریوں پر شیلنگ خبریں جھوٹی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144563/"&gt;آرمینیا، آذربائیجان کے درمیان نئی جنگ بندی، خلاف ورزیوں کی بھی اطلاعات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143905/"&gt;اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے کہا ہے کہ نیگورنو-کاراباخ میں آرمینیا سے دوسرا بڑا شہر شوشا بھی حاصل کرلیا جبکہ آرمینیا نے تردید کردی۔</p>

<p>خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق صدر الہام علی یوف کے اعلان کے بعد دارالحکومت باکو کی سڑکوں پر جشن منایا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1145107">نیگورنو-کاراباخ میں جھڑپیں، آرمینیا کے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 974 ہوگئی</a></strong></p>

<figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fa7c9399ec88.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fa7c9399ec88.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fa7c9399ec88.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fa7c9399ec88.png 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash;فوٹو: اے پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>رپورٹ کے مطابق شوشا کو آرمینیا کے شہری شوشی کہتے ہیں اور یہ شہر ثقافت اور اسٹریٹجک لحاظ سے دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتا ہے اور خطے کے سب سے بڑے شہر اسٹیپنکرٹ کے جنوب میں 15 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔			</p>

<p>خیال رہے کہ پہاڑی سلسلوں میں واقع نیگورنو-کاراباخ کا خطہ بنیادی طور پر آذربائیجان کا حصہ ہے لیکن آرمینیا کا تسلط ہے جبکہ ستمبر میں شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔</p>

<p>آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے باکو میں شوشا پر فوج کے قبضے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘آذربائیجان کی تاریخ میں یہ ایک عظیم دن ہوگا’۔</p>

<p>باکو میں شہریوں کی بڑی تعداد فتح کا جشن منانے کے لیے جمع ہوئی، جن کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھے اور نعرے لگا رہے تھے جبکہ کاروں کے ہارن بجائے جا رہے تھے۔</p>

<p>دوسری جانب نیگورنو-کاراباخ کے عہدیداروں اور آرمینیا کی وزارت دفاع نے الہام علی یوف کے دعووں کو مسترد کردیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143637">آذربائیجان کو ہتھیاروں کی فروخت پر اسرائیل سفارتی تنقید کی زد میں</a></strong></p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کی ریسکیو سروس کا کہنا تھا کہ ‘شوشی بدستور آذربائیجان کے لیے ناقابل حصول خواب ہے، تاہم شہر کو دشمنی کی بم باری سے شدید نقصان پہنچا ہے’۔</p>

<p>آرمینیا کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ اہم علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے جبکہ نیگورنو-کاراباخ کی فوج نے کہا کہ انہوں نے آذربائیجان کی فورسز کی پیش قدمی کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔</p>

<p>ترکی کے شراکت دار آذربائیجان کو 25 برس بعد جنوبی قفقاس میں برتری حاصل ہوئی ہے اور ایک مہینے میں نیگورنو-کاراباخ کے اطراف میں اکثر علاقوں کو واگزار کرالیا ہے جو 1990 کی دہائی میں ان سے چھین لی گئی تھی۔</p>

<p>آذربائیجان کے لیے شوشا شہر اسٹیپنکرٹ پر اپنا قبضہ واپس قائم کرنے کے لیے بنیادی مقام ہوسکتا ہے۔</p>

<p>دونوں ممالک ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں جبکہ آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی جانب سے شہریوں پر شیلنگ خبریں جھوٹی ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144563/">آرمینیا، آذربائیجان کے درمیان نئی جنگ بندی، خلاف ورزیوں کی بھی اطلاعات</a></strong></p>

<p>یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>

<p>دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔</p>

<p>آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143905/">اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1146207</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Nov 2020 23:11:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fa8339a0ff4d.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fa8339a0ff4d.png"/>
        <media:title>آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے شہر فتح کرنے کا اعلان کردیا—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
