<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:49:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:49:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمینیا، آذربائیجان اور روس نے نیگورنو۔کاراباخ میں لڑائی کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کردیے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1146349/</link>
      <description>&lt;p&gt;آرمینیا اور آذربائیجان نے منگل کے اوائل میں روس کے ساتھ معاہدے کے تحت آذربائیجان کے نیگورنو۔کاراباخ خطے میں لڑائی روکنے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کردیا جس میں تقریبا 2 ہزار روسی فوجیوں کو قیام امن کے لیے علاقے میں تعینات کرنے اور علاقوں سے قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق نیگورنو۔کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے اختتام کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے مقامی افراد کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد سے متعدد جھڑپ ہوچکی ہیں تاہم اس علاقے میں حالیہ شدید لڑائی کا آغاز رواں سال 27 ستمبر کو ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146306"&gt;آذربائیجان کی فورسز نے 'غلطی' سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 فوجی ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران متعدد جنگ بندیوں کا مطالبہ کیا جاچکا ہے تاہم فوری طور پر اس کی خلاف ورزی بھی دیکھی گئی تھی تاہم اب اعلان کردہ معاہدے پر عمل کا امکان زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ آذربائیجان اہم شہر شوشی کا کنٹرول سنبھالنے سمیت اہم پیشرفت کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیائی وزیر اعظم نیکول پاشینی نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ لڑائی کا خاتمہ کرنا میرے لیے ذاتی طور پر اور ہمارے لوگوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اعلان کے فوراً بعد ہی ہزاروں افراد اس معاہدے کے خلاف آرمینیائی دارالحکومت یریوان کے مرکزی چوک پر پہنچے اور کئی چیخ چیخ کر کہتے سنائی دیے کہ ’ہم اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان میں سے کچھ لوگوں نے مرکزی سرکاری عمارت میں گھس کر یہ کہا کہ وہ وزیر اعظم کی تلاش کر رہے ہیں جو بظاہر پہلے ہی روانہ ہوچکے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس معاہدے میں آرمینیائی فوج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اگرم کے مشرقی ضلع سمیت نیگورنو۔کاراباخ کی سرحدوں کے باہر واقع کچھ علاقوں کا کنٹرول چھوڑ دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144563/"&gt;آرمینیا، آذربائیجان کے درمیان نئی جنگ بندی، خلاف ورزیوں کی بھی اطلاعات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ علاقہ آذربائیجان کے لیے بھاری علامتی حیثیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا بھی لاچین کے خطے سے باہر آجائے گا جہاں ناگورنو کاراباخ سے آرمینیا جانے کے لیے مرکزی سڑک قائم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس معاہدے میں نام نہاد سڑک لاچین کوریڈور کو کھلا رکھنے اور روس سے تعلق رکھنے والے امن کے رکھوالوں کے زیر تحفظ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان تمام ایک ہزار 960 روسی فوجیوں کو خطے میں 5 سال کے مینڈیٹ کے ساتھ تعینات کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس معاہدے میں آذربائیجان کے مغربی علاقے نخسیوان سے آرمینیا سے ٹرانسپورٹ روابط قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جس کے ارد گرد آرمینیا، ایران اور ترکی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آرمینیا اور آذربائیجان نے منگل کے اوائل میں روس کے ساتھ معاہدے کے تحت آذربائیجان کے نیگورنو۔کاراباخ خطے میں لڑائی روکنے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کردیا جس میں تقریبا 2 ہزار روسی فوجیوں کو قیام امن کے لیے علاقے میں تعینات کرنے اور علاقوں سے قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق نیگورنو۔کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے اختتام کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے مقامی افراد کے پاس ہے۔</p>

<p>اس کے بعد سے متعدد جھڑپ ہوچکی ہیں تاہم اس علاقے میں حالیہ شدید لڑائی کا آغاز رواں سال 27 ستمبر کو ہوا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146306">آذربائیجان کی فورسز نے 'غلطی' سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 فوجی ہلاک</a></strong></p>

<p>اس عرصے کے دوران متعدد جنگ بندیوں کا مطالبہ کیا جاچکا ہے تاہم فوری طور پر اس کی خلاف ورزی بھی دیکھی گئی تھی تاہم اب اعلان کردہ معاہدے پر عمل کا امکان زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ آذربائیجان اہم شہر شوشی کا کنٹرول سنبھالنے سمیت اہم پیشرفت کرچکا ہے۔</p>

<p>آرمینیائی وزیر اعظم نیکول پاشینی نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ لڑائی کا خاتمہ کرنا میرے لیے ذاتی طور پر اور ہمارے لوگوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔</p>

<p>اس اعلان کے فوراً بعد ہی ہزاروں افراد اس معاہدے کے خلاف آرمینیائی دارالحکومت یریوان کے مرکزی چوک پر پہنچے اور کئی چیخ چیخ کر کہتے سنائی دیے کہ ’ہم اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے‘۔</p>

<p>ان میں سے کچھ لوگوں نے مرکزی سرکاری عمارت میں گھس کر یہ کہا کہ وہ وزیر اعظم کی تلاش کر رہے ہیں جو بظاہر پہلے ہی روانہ ہوچکے تھے۔</p>

<p>اس معاہدے میں آرمینیائی فوج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اگرم کے مشرقی ضلع سمیت نیگورنو۔کاراباخ کی سرحدوں کے باہر واقع کچھ علاقوں کا کنٹرول چھوڑ دیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144563/">آرمینیا، آذربائیجان کے درمیان نئی جنگ بندی، خلاف ورزیوں کی بھی اطلاعات</a></strong></p>

<p>یہ علاقہ آذربائیجان کے لیے بھاری علامتی حیثیت رکھتا ہے۔</p>

<p>آرمینیا بھی لاچین کے خطے سے باہر آجائے گا جہاں ناگورنو کاراباخ سے آرمینیا جانے کے لیے مرکزی سڑک قائم ہے۔</p>

<p>اس معاہدے میں نام نہاد سڑک لاچین کوریڈور کو کھلا رکھنے اور روس سے تعلق رکھنے والے امن کے رکھوالوں کے زیر تحفظ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>

<p>ان تمام ایک ہزار 960 روسی فوجیوں کو خطے میں 5 سال کے مینڈیٹ کے ساتھ تعینات کیا جائے گا۔</p>

<p>اس معاہدے میں آذربائیجان کے مغربی علاقے نخسیوان سے آرمینیا سے ٹرانسپورٹ روابط قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جس کے ارد گرد آرمینیا، ایران اور ترکی شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1146349</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Nov 2020 18:51:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa6f680d156.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5faa6f680d156.png"/>
        <media:title>معاہدے کے ذریعے 2 ہزار روسی فوجیوں کو قیام امن کیلئے خطے میں تعینات کرنے اور مختلف علاقوں سے قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے — فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
