<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 19:02:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 19:02:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیگورنو-کاراباخ جنگ بندی: آرمینیا کے وزیراعظم کے خلاف احتجاج، استعفے کا مطالبہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1146479/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ میں 6 ہفتوں کی لڑائی کے بعد آذربائیجان سے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخظ کرنے پر آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پیشینیان کے خلاف شدید احتجاج اور استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں مظاہرین ‘نیکول غدار’ کے نعرے لگاتے ہوئے منصب سے الگ ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا لیکن پولیس نے انہیں روکا، تاہم مظاہرین نے ‘نیکول استعفیٰ دے دو’ کے نعرے لگائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146349/"&gt;آرمینیا، آذربائیجان اور روس نے نیگورنو۔کاراباخ میں لڑائی کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کردیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے کئی مظاہرین کو گرفتار کیا گیا لیکن تاحال جھڑپوں یا نقصان کے حوالے سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fac04fd2fcad.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fac04fd2fcad.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fac04fd2fcad.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fac04fd2fcad.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 10 نومبر کو آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا تھا اور آذربائیجان میں اس کو فتح کے طور پر منایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں آذربائیجان کے نیگورنو۔کاراباخ خطے میں جاری لڑائی روکنے کے اعلان کے ساتھ تقریباً 2 ہزار روسی فوجیوں کو قیام امن کے لیے علاقے میں تعینات کرنے اور علاقوں سے آرمینیا کا قبضہ ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے وزیراعظم نے اس کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شکست کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک روز بعد مظاہرین نے سڑکوں پر مارشل لا طرز کی پابندی کو روندتے ہوئے ریلیاں نکالیں اور وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا جبکہ چند ایک سرکاری عمارتوں کو نذر آتش بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143830/"&gt;آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اسی لیے کئی مظاہرین نے ماسک پہنا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی ختم ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاہدے کے تحت روس کے 2 ہزار فوجی امن کے قیام کے لیے خطے میں تعینات ہوں گے جہاں 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی کے بعد آرمینیا کا قبضہ تھا لیکن اب حالیہ لڑائی میں وہ اکثریتی علاقے سے محروم ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں نے امن معاہدے کو اپنی فوج کے دباؤ پر حتمی شکل دی، نیگورنو-کاراباخ کی قیادت کا کہنا تھا کہ خطے کے دوسرے بڑے شہر شوشا پر قبضے کے بعد پورے علاقے پر آذربائیجان کے قبضے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیکول پیشینیان نے معاہدے کے بعد کہا تھا کہ ‘یہ بہت بڑی ناکامی اور سانحہ ہے’ اور اس ناکامی کی ذاتی طو پر ذمہ داری لیتا ہوں، لیکن استعفے کے مطالبے کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے وزیراعظم نے دارالحکومت میں شروع ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم اپوزیشن کی 17 جماعتوں کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا جن کے اکثر رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے روس کے فوجی بھی روانہ ہوگئے ہیں اور آرمینیا کو نیگورنو-کاراباخ سے ملانے والی لیچن راہداری میں تعینات ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146306"&gt;آذربائیجان کی فورسز نے 'غلطی' سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 فوجی ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاہدے کے مطابق روس کی امن فوج 5 برس تک موجود رہے گی جبکہ روس اور آرمینیا کے درمیان پہلے سے ہی دفاعی معاہدہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترکی نے آذربائیجان کے اتحادی کی حیثیت سے اس جنگ بندی کے معاہدے پر کوئی کردار ادا نہیں کیا، تاہم روس اور ترکی نے مشترکہ طور پر نگرانی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ نیگورنو-کاراباخ میں قیام امن کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر آذربائیجان نے جنگ بندی معاہدے کو اپنی فتح قرار دیا جبکہ شہریوں کی ایک تعداد دلبرداشتہ بھی ہے کہ فوج کی مزید علاقوں پر قبضے کی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے شہریوں کو امن فوج کی حیثیت سے روس کی آمد پر بھی خدشات ہیں جبکہ روس پورے خطے میں بااثر ملک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5fac27a9ee800'&gt;نیگورنو-کاراباخ تنازع&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے حالیہ لڑائی تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں واضح پیش رفت نہیں ہوسکی تھی تاہم جنگ بندی کے متعدد معاہدے ہوتے رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے پشت پناہی کے ساتھ آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا لیکن نیگورنو-کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143830"&gt;آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیگورنو-کاراباخ میں 6 ہفتوں کی لڑائی کے بعد آذربائیجان سے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخظ کرنے پر آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پیشینیان کے خلاف شدید احتجاج اور استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔</p>

<p>خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں مظاہرین ‘نیکول غدار’ کے نعرے لگاتے ہوئے منصب سے الگ ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔</p>

<p>آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا لیکن پولیس نے انہیں روکا، تاہم مظاہرین نے ‘نیکول استعفیٰ دے دو’ کے نعرے لگائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146349/">آرمینیا، آذربائیجان اور روس نے نیگورنو۔کاراباخ میں لڑائی کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کردیے</a></strong></p>

<p>عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے کئی مظاہرین کو گرفتار کیا گیا لیکن تاحال جھڑپوں یا نقصان کے حوالے سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fac04fd2fcad.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fac04fd2fcad.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fac04fd2fcad.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fac04fd2fcad.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ 10 نومبر کو آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا تھا اور آذربائیجان میں اس کو فتح کے طور پر منایا گیا تھا۔</p>

<p>روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں آذربائیجان کے نیگورنو۔کاراباخ خطے میں جاری لڑائی روکنے کے اعلان کے ساتھ تقریباً 2 ہزار روسی فوجیوں کو قیام امن کے لیے علاقے میں تعینات کرنے اور علاقوں سے آرمینیا کا قبضہ ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔</p>

<p>آرمینیا کے وزیراعظم نے اس کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شکست کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔</p>

<p>ایک روز بعد مظاہرین نے سڑکوں پر مارشل لا طرز کی پابندی کو روندتے ہوئے ریلیاں نکالیں اور وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا جبکہ چند ایک سرکاری عمارتوں کو نذر آتش بھی کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143830/">آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری</a></strong></p>

<p>آرمینیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اسی لیے کئی مظاہرین نے ماسک پہنا ہوا تھا۔</p>

<p>واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی ختم ہوگئی ہے۔</p>

<p>معاہدے کے تحت روس کے 2 ہزار فوجی امن کے قیام کے لیے خطے میں تعینات ہوں گے جہاں 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی کے بعد آرمینیا کا قبضہ تھا لیکن اب حالیہ لڑائی میں وہ اکثریتی علاقے سے محروم ہوچکا ہے۔</p>

<p>آرمینیا کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں نے امن معاہدے کو اپنی فوج کے دباؤ پر حتمی شکل دی، نیگورنو-کاراباخ کی قیادت کا کہنا تھا کہ خطے کے دوسرے بڑے شہر شوشا پر قبضے کے بعد پورے علاقے پر آذربائیجان کے قبضے کا خدشہ ہے۔</p>

<p>نیکول پیشینیان نے معاہدے کے بعد کہا تھا کہ ‘یہ بہت بڑی ناکامی اور سانحہ ہے’ اور اس ناکامی کی ذاتی طو پر ذمہ داری لیتا ہوں، لیکن استعفے کے مطالبے کو مسترد کردیا۔</p>

<p>آرمینیا کے وزیراعظم نے دارالحکومت میں شروع ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم اپوزیشن کی 17 جماعتوں کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا جن کے اکثر رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔</p>

<p>دوسری جانب خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے روس کے فوجی بھی روانہ ہوگئے ہیں اور آرمینیا کو نیگورنو-کاراباخ سے ملانے والی لیچن راہداری میں تعینات ہوں گے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146306">آذربائیجان کی فورسز نے 'غلطی' سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 فوجی ہلاک</a></strong></p>

<p>معاہدے کے مطابق روس کی امن فوج 5 برس تک موجود رہے گی جبکہ روس اور آرمینیا کے درمیان پہلے سے ہی دفاعی معاہدہ ہے۔</p>

<p>ترکی نے آذربائیجان کے اتحادی کی حیثیت سے اس جنگ بندی کے معاہدے پر کوئی کردار ادا نہیں کیا، تاہم روس اور ترکی نے مشترکہ طور پر نگرانی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔</p>

<p>ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ نیگورنو-کاراباخ میں قیام امن کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔</p>

<p>ادھر آذربائیجان نے جنگ بندی معاہدے کو اپنی فتح قرار دیا جبکہ شہریوں کی ایک تعداد دلبرداشتہ بھی ہے کہ فوج کی مزید علاقوں پر قبضے کی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے۔</p>

<p>آذربائیجان کے شہریوں کو امن فوج کی حیثیت سے روس کی آمد پر بھی خدشات ہیں جبکہ روس پورے خطے میں بااثر ملک ہے۔</p>

<h3 id='5fac27a9ee800'>نیگورنو-کاراباخ تنازع</h3>

<p>آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>

<p>دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے حالیہ لڑائی تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں واضح پیش رفت نہیں ہوسکی تھی تاہم جنگ بندی کے متعدد معاہدے ہوتے رہے۔</p>

<p>آرمینیا کے پشت پناہی کے ساتھ آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا لیکن نیگورنو-کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143830">آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری</a></strong></p>

<p>بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1146479</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Nov 2020 23:04:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fac04fd30185.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fac04fd30185.jpg"/>
        <media:title>مظاہرین نے وزیراعظم کو غدار قرار دیتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا —فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
