<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 23:04:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 23:04:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا پاکستان کے ساتھ تجارت کے فروغ کیلئے ایک اور سرحدی گزرگاہ کھولنے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1146503/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان اور ایران کی جانب سے آپس میں باہمی تعاون کو مضبوط کرنے پر اتفاق کے ساتھ ہی ایران نے پاکستان کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے ایک اور سرحدی گزرگاہ (باڈر کراسنگ) کھولنے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی جانب سے دورہ اسلام آباد کے دوران کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سیاسی اور اقتصادی ماہرین پر مشتمل ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے دو روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/RadioPakistan/status/1326719190628245507?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1326719190628245507%7Ctwgr%5Eshare_3&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1589951"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے دورے کے دوران انہوں نے وزیراعظم عمران خان، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146483/"&gt;خطے کے امن و استحکام کیلئے پاک-ایران مشترکہ کوششوں پر اتفاق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً ڈھائی سال کے عرصے میں ایرانی وزیرخارجہ کا یہ چوتھا دورہ پاکستان تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے اعلیٰ سطح تبادلہ خیال کا حصہ تھا اور اس کا مقصد باہمی تعلقات کو مضبوط اور علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو بہتر انداز میں سمجھنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جواد ظریف نے پاکستانی رہنماؤں سے کہا کہ آئندہ ہفتے ریمدان کراسنگ پوائنٹ کھولا جائے گا جو اس کے صوبہ سیستان اور بلوچستان میں چاہبہار بندرگاہ سے تقریباً 130 کلومیٹر دور واقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستانی حکام اپنی طرف کی سرحد گبڈ کراسنگ پوائنٹ بھی کھولیں گے تاکہ تجارت کو فروغ دیا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ریمدان بارڈر کراسنگ پھلوں، مویشیوں، تعمیراتی سامان اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد اور درآمد کے لیے موزوں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایران کی طرف کی سرحدی گزرگاہ کو آم اور مویشیوں کی درآمدات کے لیے جدید مواصلاتی نظام، لائیو اسٹاک اور ویجیٹیبل کوارنٹائن اور دیگر ضروری سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جواد ظریف نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ پشین-مند کراسنگ بھی کھولے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ باہمی تعاون خاص طور پر تجارتی اور اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدہ مند ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146446/"&gt;پاکستان اور ایران کا یورپ میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان پر اظہار تشویش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواد ظریف سے ملاقات میں پاکستانی حکومت کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار برآمدات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر دونوں ممالک باہمی تجارتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ اقتصادی کمیشن قائم کرنے پر بھی متفق ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید برآں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جواد ظریف کی ملاقات میں بارڈر مارکیٹس اور کراسنگ پوائنٹس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان اور ایران کی جانب سے آپس میں باہمی تعاون کو مضبوط کرنے پر اتفاق کے ساتھ ہی ایران نے پاکستان کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے ایک اور سرحدی گزرگاہ (باڈر کراسنگ) کھولنے کا اعلان کردیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی جانب سے دورہ اسلام آباد کے دوران کیا گیا۔</p>

<p>ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سیاسی اور اقتصادی ماہرین پر مشتمل ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے دو روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/RadioPakistan/status/1326719190628245507?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1326719190628245507%7Ctwgr%5Eshare_3&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1589951"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اپنے دورے کے دوران انہوں نے وزیراعظم عمران خان، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146483/">خطے کے امن و استحکام کیلئے پاک-ایران مشترکہ کوششوں پر اتفاق</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً ڈھائی سال کے عرصے میں ایرانی وزیرخارجہ کا یہ چوتھا دورہ پاکستان تھا۔</p>

<p>ادھر دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے اعلیٰ سطح تبادلہ خیال کا حصہ تھا اور اس کا مقصد باہمی تعلقات کو مضبوط اور علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو بہتر انداز میں سمجھنا تھا۔</p>

<p>جواد ظریف نے پاکستانی رہنماؤں سے کہا کہ آئندہ ہفتے ریمدان کراسنگ پوائنٹ کھولا جائے گا جو اس کے صوبہ سیستان اور بلوچستان میں چاہبہار بندرگاہ سے تقریباً 130 کلومیٹر دور واقع ہے۔</p>

<p>انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستانی حکام اپنی طرف کی سرحد گبڈ کراسنگ پوائنٹ بھی کھولیں گے تاکہ تجارت کو فروغ دیا جاسکے۔</p>

<p>یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ریمدان بارڈر کراسنگ پھلوں، مویشیوں، تعمیراتی سامان اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد اور درآمد کے لیے موزوں ہے۔</p>

<p>ایران کی طرف کی سرحدی گزرگاہ کو آم اور مویشیوں کی درآمدات کے لیے جدید مواصلاتی نظام، لائیو اسٹاک اور ویجیٹیبل کوارنٹائن اور دیگر ضروری سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔</p>

<p>جواد ظریف نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ پشین-مند کراسنگ بھی کھولے۔</p>

<p>علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ باہمی تعاون خاص طور پر تجارتی اور اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدہ مند ثابت ہوگا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146446/">پاکستان اور ایران کا یورپ میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان پر اظہار تشویش</a></strong></p>

<p>وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواد ظریف سے ملاقات میں پاکستانی حکومت کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا تھا۔</p>

<p>انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار برآمدات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا۔</p>

<p>اس موقع پر دونوں ممالک باہمی تجارتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ اقتصادی کمیشن قائم کرنے پر بھی متفق ہوئے۔</p>

<p>مزید برآں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جواد ظریف کی ملاقات میں بارڈر مارکیٹس اور کراسنگ پوائنٹس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1146503</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Nov 2020 12:56:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5facb7b175a10.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5facb7b175a10.jpg"/>
        <media:title>وزیراعظم عمران خان سے ایرانی وزیر خارجہ کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی—فوٹو: پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
