<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:11:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:11:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس کے سرکاری ریڈیو  نے ملکہ برطانیہ کی 'موت' کی خبر پر معافی مانگ لی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1146935/</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانس کے سرکاری ریڈیو براڈکاسٹر نے ہائی پروفائل شخصیات کی موت کی خبر 'غلطی' سے نشر کرنے پر معافی مانگ لی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈیپنڈنٹ کی &lt;a href="https://www.independent.co.uk/news/world/europe/obituary-rfi-france-queen-pele-mistake-b1723665.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ریڈیو براڈ کاسٹر نے جن شخصیات کی موت کا اعلان کیا ان میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم اور برازیلین فٹ بالر پیلے شامل ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ریڈیو فرانس انٹرنیشنل نے 'تکنیکی مسئلے' کو اس غلطی کا موردِ الزام ٹھہرایا، جس کے نتیجے میں ان کی ویب سائٹ پر کچھ لوگوں کی موت کے اعلانات شائع ہوئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آر ایف آئی نے کہا کہ 'ہم متعلقہ افراد سے بھی معذرت کرتے ہیں جو ہمیں فالو کرتے ہیں اور ہم پر اعتماد کرتے ہیں'۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142185/"&gt;بارباڈوس کا ملکہ الزبتھ کو ریاستی سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہیڈلائن جاری کی گئی تھی کہ 'انگلینڈ نے اپنی ملکہ کو کھودیا: الزبتھ دوم نے اپنے پیچھے نشان چھوڑدیے'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/fortius0/status/1328311476814311424?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غلطی سے جاری ہونے والے ان کی موت کے اعلان میں کہا گیا تھا کہ 'روایت کے مطابق، لندن میں سینٹ جیمز کے محل سے برٹش کورٹ نے تاریخی بین الاقوامی شخصیت ملکہ الزبتھ دوم کی موت کا اعلان کیا'۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے علاوہ دیگر جن افراد کی موت کی خبر شائع ہوئی ان میں کیمرون کے 87 سالہ صدر پال بیا اور برازیل کے فٹ بالر پیلی شامل ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ لوگوں نے اس غلطی پر ردعمل دیتے ہوئے شکایت کی کہ آر ایف آئی نے ان لوگوں کی موت کے اعلانات بھی تیار کیے تھے جو ابھی تک مرے نہیں ہیں، جو اخبارات اور ویب سائٹس میں عام ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1015739"&gt;ملکہ برطانیہ کے نام معمر ترین شاہی سربراہ کا اعزاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دیگر افراد نے مزاحیہ تبصرے کیے کہ یہ سسٹم کا 'بگ' تھا جس نے لفظی طور پر ان لوگوں کو مار دیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی ادارے نے پہلی مرتبہ غلطی سے کسی کی موت کی خبر شائع کردی ہو۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2014 میں پیپل میگزین نے امریکی اداکار و پروڈیوسر کرک ڈوگلس کی موت کی خبر شائع کردی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس خبر کو ویب سائٹ سے ہٹادیا گیا تھا لیکن اس سے قبل ہی وہ پڑھی اور وسیع پیمانے پر شیئر کی جاچکی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح رائٹرز نے 2013 میں غلطی سے فنانسر جارج سورس کی موت کی خبر چلا کر غلطی کی تھی تاہم انہوں نے خبر ہٹا کر ایک معافی نامہ جاری کیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2008 میں بلومبرگ نے ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز کی 2011 میں موت سے 3 برس قبل ہی ان کی موت کی خبر شائع کردی تھی۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانس کے سرکاری ریڈیو براڈکاسٹر نے ہائی پروفائل شخصیات کی موت کی خبر 'غلطی' سے نشر کرنے پر معافی مانگ لی۔ </p>

<p>انڈیپنڈنٹ کی <a href="https://www.independent.co.uk/news/world/europe/obituary-rfi-france-queen-pele-mistake-b1723665.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ریڈیو براڈ کاسٹر نے جن شخصیات کی موت کا اعلان کیا ان میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم اور برازیلین فٹ بالر پیلے شامل ہیں۔ </p>

<p>تاہم ریڈیو فرانس انٹرنیشنل نے 'تکنیکی مسئلے' کو اس غلطی کا موردِ الزام ٹھہرایا، جس کے نتیجے میں ان کی ویب سائٹ پر کچھ لوگوں کی موت کے اعلانات شائع ہوئے۔ </p>

<p>آر ایف آئی نے کہا کہ 'ہم متعلقہ افراد سے بھی معذرت کرتے ہیں جو ہمیں فالو کرتے ہیں اور ہم پر اعتماد کرتے ہیں'۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142185/">بارباڈوس کا ملکہ الزبتھ کو ریاستی سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>ہیڈلائن جاری کی گئی تھی کہ 'انگلینڈ نے اپنی ملکہ کو کھودیا: الزبتھ دوم نے اپنے پیچھے نشان چھوڑدیے'۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/fortius0/status/1328311476814311424?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>غلطی سے جاری ہونے والے ان کی موت کے اعلان میں کہا گیا تھا کہ 'روایت کے مطابق، لندن میں سینٹ جیمز کے محل سے برٹش کورٹ نے تاریخی بین الاقوامی شخصیت ملکہ الزبتھ دوم کی موت کا اعلان کیا'۔ </p>

<p>ان کے علاوہ دیگر جن افراد کی موت کی خبر شائع ہوئی ان میں کیمرون کے 87 سالہ صدر پال بیا اور برازیل کے فٹ بالر پیلی شامل ہیں۔ </p>

<p>کچھ لوگوں نے اس غلطی پر ردعمل دیتے ہوئے شکایت کی کہ آر ایف آئی نے ان لوگوں کی موت کے اعلانات بھی تیار کیے تھے جو ابھی تک مرے نہیں ہیں، جو اخبارات اور ویب سائٹس میں عام ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1015739">ملکہ برطانیہ کے نام معمر ترین شاہی سربراہ کا اعزاز</a></strong></p>

<p>دیگر افراد نے مزاحیہ تبصرے کیے کہ یہ سسٹم کا 'بگ' تھا جس نے لفظی طور پر ان لوگوں کو مار دیا تھا۔ </p>

<p>خیال رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی ادارے نے پہلی مرتبہ غلطی سے کسی کی موت کی خبر شائع کردی ہو۔ </p>

<p>2014 میں پیپل میگزین نے امریکی اداکار و پروڈیوسر کرک ڈوگلس کی موت کی خبر شائع کردی تھی۔</p>

<p>اس خبر کو ویب سائٹ سے ہٹادیا گیا تھا لیکن اس سے قبل ہی وہ پڑھی اور وسیع پیمانے پر شیئر کی جاچکی تھی۔ </p>

<p>اسی طرح رائٹرز نے 2013 میں غلطی سے فنانسر جارج سورس کی موت کی خبر چلا کر غلطی کی تھی تاہم انہوں نے خبر ہٹا کر ایک معافی نامہ جاری کیا تھا۔ </p>

<p>2008 میں بلومبرگ نے ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز کی 2011 میں موت سے 3 برس قبل ہی ان کی موت کی خبر شائع کردی تھی۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1146935</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Nov 2020 19:27:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb3d4c2dc5b7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fb3d4c2dc5b7.jpg"/>
        <media:title>ہیڈلائن جاری کی گئی تھی کہ انگلینڈ نے اپنی ملکہ کو کھودیا — فائل فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
