<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:23:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:23:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضروری نہیں کہ ٹی وی یا موبائل پر کچھ دیکھنے کے بعد مرد 'ریپ' کرے، آمنہ الیاس
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1146970/</link>
      <description>&lt;p&gt;اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں یا گوری رنگت کی خواتین کی تشہیر کےخلاف تو گزشتہ کچھ عرصے سے مہم چلاتی آ رہی ہیں، تاہم انہیں سماج کے اہم مسائل پر کھل کر بات کرنے کے حوالے سے بھی پہچانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران اس تاثر کو یکسر مسترد کیا کہ اداکاراؤں کے نیم عریاں لباس اور خواتین کے بولڈ انداز سے  'ریپ' کے واقعات بڑھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمنہ الیاس کے مطابق  'ریپ' کرنے والے مرد حضرات ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ٹی وی یا موبائل فون پر کوئی چیز دیکھنے کے بعد  'ریپ' کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادرے وائس آف امریکا &lt;a href="https://www.facebook.com/voaurdu/videos/3496917590400973"&gt;&lt;strong&gt;(وی او اے اردو)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو دیے گئے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں آمنہ الیاس نے کہا کہ زیادہ تر لوگ ان سمیت اداکاراؤں کی سوشل میڈیا پوسٹس پر کمنٹس کرتے ہیں کہ وہ ملک میں فحاشی پھیلانے سمیت لوگوں کو  'ریپ' کی جانب راغب کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb4b2575a8c0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fb4b2575a8c0.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb4b2575a8c0.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb4b2575a8c0.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ماضی میں کچھ فوٹو شوٹ میں میری رنگت گوری کی گئی&amp;mdash;اداکارہ&amp;mdash;فوٹو: آمنہ الیاس انسٹاگرام" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ماضی میں کچھ فوٹو شوٹ میں میری رنگت گوری کی گئی—اداکارہ—فوٹو: آمنہ الیاس انسٹاگرام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمنہ الیاس کے مطابق وہ ایسے کمنٹس کے بعد سوچتی ہیں کہ اداکارائیں کس طرح فحاشی پھیلارہی ہیں اور پھر انہیں خیال آتا ہے کہ شاید وہ جینز، ٹی شرٹ، اسکرٹ، ساڑھی اور دیگر بولڈ اور نیم عریاں لباس پہنتی ہیں اس لیے، لیکن ساتھ ہی ان کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا عورتوں کا ایسا لباس  'ریپ' کرنے والے افراد کو مشتعل کرتا ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اداکارا نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ پاکستانی عوام جاہل ہے، وہ یہ نہیں سمجھتے کہ  'ریپ' کرنے والا شخص ذہنی طور پر بیمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اداکارہ نے دلیل دی کہ لازمی نہیں کہ  'ریپ' کرنے والے مرد ٹی وی یا اپنے موبائل پر کوئی چیز دیکھ کر اس جرم کے لیے تیار ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5fb4c95746248'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143706"&gt;آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریمز کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج کا دور انٹرنیٹ کا دور ہے، اگر پاکستانی اداکاراؤں کو کام سے روک کر انہیں گھر بٹھا بھی لیں تو بھی لوگ بولی وڈ و ہولی وڈ کا مواد دیکھیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمنہ الیاس کے مطابق 'ریپ' تو اس وقت بھی ہوتے تھے جب ٹی وی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں اداکارہ نے بتایا کہ وہ اس بات کی ذمہ داری نہیں لیں گی کہ انہیں بہت سارے لوگ فالو کرتے ہیں اور وہ انہیں خوش رکھنے کے لیے پابندیوں کے مطابق زندگی گزارے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمنہ الیاس نے انٹرویو میں سانولی رنگت کے موضوع پر بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو کچھ گوری تھیں لیکن جیسے ہی وہ بڑی ہوتی گئیں تو ان کی والدہ اور خالہ نے یہ باتیں کرنا شروع کردیں کہ یہ سانولی کیوں ہوتی جا رہی ہیں؟&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb4b30417586.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fb4b30417586.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb4b30417586.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb4b30417586.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اداکارہ کے مطابق ریپ کرنے والے ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں&amp;mdash;فوٹو: آمنہ الیاس انسٹاگرام" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اداکارہ کے مطابق ریپ کرنے والے ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں—فوٹو: آمنہ الیاس انسٹاگرام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اداکارہ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ماضی میں کچھ فوٹوشوٹ کے دوران ان کی سانولی رنگت کو مصنوعی میک اپ کے ذریعے گورا کیا گیا، جس پر انہوں نے برہمی کا اظہار بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5fb4c957462a4'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144038"&gt;'خود کو پہچانو'، آمنہ الیاس کی ایک مرتبہ پھر رنگ گورا کرنے والی کریمز پر تنقید&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اداکارہ کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر ایڈٹ کیے بغیر ہی شیئر کرتی ہیں، البتہ بعض تصاویر کھینچنے کے دوران کچھ لائٹس کا استعمال کرنے کی وجہ سے ان کی رنگت کچھ نکھری نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی ڈراموں میں گندمی یا سانولی رنگت کے کردار دکھائی نہیں دیتے، عام طور پر ڈرامے میں ساس، بہو اور بیٹی کا رنگ ایک جیسا ہی گورا دکھایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمنہ الیاس نے رنگ گورا کرنے والی کریموں کی جانب سے نام بدلنے کی روایات کو بھی محض ایک بہانا قرار دیا اور کہا کہ اس سے کچھ نہیں بدلنے والا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--instagram  '&gt;            &lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-version="4" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:658px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:8px;"&gt; &lt;div style=" background:#F8F8F8; line-height:0; margin-top:40px; padding:50% 0; text-align:center; width:100%;"&gt; &lt;div style=" background:url(data:image/png;base64,iVBORw0KGgoAAAANSUhEUgAAACwAAAAsCAMAAAApWqozAAAAGFBMVEUiIiI9PT0eHh4gIB4hIBkcHBwcHBwcHBydr+JQAAAACHRSTlMABA4YHyQsM5jtaMwAAADfSURBVDjL7ZVBEgMhCAQBAf//42xcNbpAqakcM0ftUmFAAIBE81IqBJdS3lS6zs3bIpB9WED3YYXFPmHRfT8sgyrCP1x8uEUxLMzNWElFOYCV6mHWWwMzdPEKHlhLw7NWJqkHc4uIZphavDzA2JPzUDsBZziNae2S6owH8xPmX8G7zzgKEOPUoYHvGz1TBCxMkd3kwNVbU0gKHkx+iZILf77IofhrY1nYFnB/lQPb79drWOyJVa/DAvg9B/rLB4cC+Nqgdz/TvBbBnr6GBReqn/nRmDgaQEej7WhonozjF+Y2I/fZou/qAAAAAElFTkSuQmCC); display:block; height:44px; margin:0 auto -44px; position:relative; top:-22px; width:44px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://instagram.com/p/CALCY8eHiIE/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_top"&gt;A photo posted by Instagram (@instagram)&lt;/a&gt; on &lt;time style=" font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px;" datetime="2015-03-22T18:21:59+00:00"&gt;Mar 22, 2015 at 11:21am PDT&lt;/time&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں یا گوری رنگت کی خواتین کی تشہیر کےخلاف تو گزشتہ کچھ عرصے سے مہم چلاتی آ رہی ہیں، تاہم انہیں سماج کے اہم مسائل پر کھل کر بات کرنے کے حوالے سے بھی پہچانا جاتا ہے۔</p>

<p>حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران اس تاثر کو یکسر مسترد کیا کہ اداکاراؤں کے نیم عریاں لباس اور خواتین کے بولڈ انداز سے  'ریپ' کے واقعات بڑھتے ہیں۔</p>

<p>آمنہ الیاس کے مطابق  'ریپ' کرنے والے مرد حضرات ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ٹی وی یا موبائل فون پر کوئی چیز دیکھنے کے بعد  'ریپ' کرتے ہوں۔</p>

<p>امریکی نشریاتی ادرے وائس آف امریکا <a href="https://www.facebook.com/voaurdu/videos/3496917590400973"><strong>(وی او اے اردو)</strong></a> کو دیے گئے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں آمنہ الیاس نے کہا کہ زیادہ تر لوگ ان سمیت اداکاراؤں کی سوشل میڈیا پوسٹس پر کمنٹس کرتے ہیں کہ وہ ملک میں فحاشی پھیلانے سمیت لوگوں کو  'ریپ' کی جانب راغب کر رہی ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb4b2575a8c0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fb4b2575a8c0.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb4b2575a8c0.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb4b2575a8c0.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ماضی میں کچھ فوٹو شوٹ میں میری رنگت گوری کی گئی&mdash;اداکارہ&mdash;فوٹو: آمنہ الیاس انسٹاگرام" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ماضی میں کچھ فوٹو شوٹ میں میری رنگت گوری کی گئی—اداکارہ—فوٹو: آمنہ الیاس انسٹاگرام</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>آمنہ الیاس کے مطابق وہ ایسے کمنٹس کے بعد سوچتی ہیں کہ اداکارائیں کس طرح فحاشی پھیلارہی ہیں اور پھر انہیں خیال آتا ہے کہ شاید وہ جینز، ٹی شرٹ، اسکرٹ، ساڑھی اور دیگر بولڈ اور نیم عریاں لباس پہنتی ہیں اس لیے، لیکن ساتھ ہی ان کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا عورتوں کا ایسا لباس  'ریپ' کرنے والے افراد کو مشتعل کرتا ہے؟</p>

<p>اداکارا نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ پاکستانی عوام جاہل ہے، وہ یہ نہیں سمجھتے کہ  'ریپ' کرنے والا شخص ذہنی طور پر بیمار ہوتا ہے۔</p>

<p>اداکارہ نے دلیل دی کہ لازمی نہیں کہ  'ریپ' کرنے والے مرد ٹی وی یا اپنے موبائل پر کوئی چیز دیکھ کر اس جرم کے لیے تیار ہوں۔</p>

<h6 id='5fb4c95746248'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143706">آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریمز کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم</a></h6>

<p>انہوں نے کہا کہ آج کا دور انٹرنیٹ کا دور ہے، اگر پاکستانی اداکاراؤں کو کام سے روک کر انہیں گھر بٹھا بھی لیں تو بھی لوگ بولی وڈ و ہولی وڈ کا مواد دیکھیں گے۔</p>

<p>آمنہ الیاس کے مطابق 'ریپ' تو اس وقت بھی ہوتے تھے جب ٹی وی نہیں تھا۔</p>

<p>ایک سوال کے جواب میں اداکارہ نے بتایا کہ وہ اس بات کی ذمہ داری نہیں لیں گی کہ انہیں بہت سارے لوگ فالو کرتے ہیں اور وہ انہیں خوش رکھنے کے لیے پابندیوں کے مطابق زندگی گزارے۔</p>

<p>آمنہ الیاس نے انٹرویو میں سانولی رنگت کے موضوع پر بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو کچھ گوری تھیں لیکن جیسے ہی وہ بڑی ہوتی گئیں تو ان کی والدہ اور خالہ نے یہ باتیں کرنا شروع کردیں کہ یہ سانولی کیوں ہوتی جا رہی ہیں؟</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb4b30417586.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fb4b30417586.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb4b30417586.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb4b30417586.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اداکارہ کے مطابق ریپ کرنے والے ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں&mdash;فوٹو: آمنہ الیاس انسٹاگرام" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اداکارہ کے مطابق ریپ کرنے والے ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں—فوٹو: آمنہ الیاس انسٹاگرام</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اداکارہ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ماضی میں کچھ فوٹوشوٹ کے دوران ان کی سانولی رنگت کو مصنوعی میک اپ کے ذریعے گورا کیا گیا، جس پر انہوں نے برہمی کا اظہار بھی کیا۔</p>

<h6 id='5fb4c957462a4'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144038">'خود کو پہچانو'، آمنہ الیاس کی ایک مرتبہ پھر رنگ گورا کرنے والی کریمز پر تنقید</a></h6>

<p>اداکارہ کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر ایڈٹ کیے بغیر ہی شیئر کرتی ہیں، البتہ بعض تصاویر کھینچنے کے دوران کچھ لائٹس کا استعمال کرنے کی وجہ سے ان کی رنگت کچھ نکھری نظر آتی ہے۔</p>

<p>اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی ڈراموں میں گندمی یا سانولی رنگت کے کردار دکھائی نہیں دیتے، عام طور پر ڈرامے میں ساس، بہو اور بیٹی کا رنگ ایک جیسا ہی گورا دکھایا جاتا ہے۔</p>

<p>آمنہ الیاس نے رنگ گورا کرنے والی کریموں کی جانب سے نام بدلنے کی روایات کو بھی محض ایک بہانا قرار دیا اور کہا کہ اس سے کچھ نہیں بدلنے والا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--instagram  '>            <blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-version="4" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:658px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:8px;"> <div style=" background:#F8F8F8; line-height:0; margin-top:40px; padding:50% 0; text-align:center; width:100%;"> <div style=" background:url(data:image/png;base64,iVBORw0KGgoAAAANSUhEUgAAACwAAAAsCAMAAAApWqozAAAAGFBMVEUiIiI9PT0eHh4gIB4hIBkcHBwcHBwcHBydr+JQAAAACHRSTlMABA4YHyQsM5jtaMwAAADfSURBVDjL7ZVBEgMhCAQBAf//42xcNbpAqakcM0ftUmFAAIBE81IqBJdS3lS6zs3bIpB9WED3YYXFPmHRfT8sgyrCP1x8uEUxLMzNWElFOYCV6mHWWwMzdPEKHlhLw7NWJqkHc4uIZphavDzA2JPzUDsBZziNae2S6owH8xPmX8G7zzgKEOPUoYHvGz1TBCxMkd3kwNVbU0gKHkx+iZILf77IofhrY1nYFnB/lQPb79drWOyJVa/DAvg9B/rLB4cC+Nqgdz/TvBbBnr6GBReqn/nRmDgaQEej7WhonozjF+Y2I/fZou/qAAAAAElFTkSuQmCC); display:block; height:44px; margin:0 auto -44px; position:relative; top:-22px; width:44px;"></div></div><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://instagram.com/p/CALCY8eHiIE/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_top">A photo posted by Instagram (@instagram)</a> on <time style=" font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px;" datetime="2015-03-22T18:21:59+00:00">Mar 22, 2015 at 11:21am PDT</time></p></div></blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1146970</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Nov 2020 12:12:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb4b1b4cf164.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fb4b1b4cf164.jpg"/>
        <media:title>خواتین کے بولڈ لباس کا ریپ سے کوئی تعلق نہیں، اداکارہ—اسکرین شاٹ/ وی او اے فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
