<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:05:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:05:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصر میں کورونا وائرس پر ڈراما سیریز بنانے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1147021/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث کئی ممالک میں پھر سے پابندیوں کا نفاذ کیا جارہا ہے اور اسی دوران مصر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری نے کورونا وائرس پر ڈراما سیریز بنانے کا اعلان کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;العریبیہ کی &lt;a href="https://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2020/11/16/-%D9%83%D9%88%D9%88%D9%8A%DA%88-25-%D9%85%D8%B5%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%86%DA%88%D8%B3%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D9%88%D8%B6%D9%88%D8%B9%D8%8C-%DA%88%D8%B1%D8%A7%D9%85%DB%81-%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مصری اداکار یوسف الشریف نے ایک نئی ڈراما سیریز کی شوٹنگ کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس پر مبنی اس سیریز کا نام 'کووڈ-25'  رکھا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مصر میں بنائے جانے والے اس ڈرامے کی کہانی مصنفہ انجی علا نے تحریر کی ہے جبکہ احمد نادر جلال پروڈکشن کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142265"&gt;کورونا وائرس کے مرکز ووہان پر بنی فلم '76 ڈیز' نمائش کے لیے پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ڈراما آئندہ ماہ ریلیز کیا جائے گا اور اس کی پروڈکشن کے لیے 'سیزجی' نامی کمپنی کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈراما سیریز کے جاری کردہ پوسٹر میں اداکار یوسف الشریق کے جسم کا بالائی حصہ نظر آرہا ہے جبکہ ان کے علاوہ 3 افرا کو بھی دکھایا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پوسٹر میں موجود ان 3 افراد نے وبا سے بچاؤ کے لیے پرسنل پروٹیکٹو ایکوئمپنٹ (پی پی ایز) پہنی ہوئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb520f7949f0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fb520f7949f0.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb520f7949f0.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb520f7949f0.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash;فوٹو:العریبیہ" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو:العریبیہ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی پوسٹر پر لکھا ہے کہ 'Don’t Look.. Its Coming' یعنی ' نہ دیکھیں، یہ آرہا' ہے جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ ڈراما سیریز دنیا میں جاری عالمی وبا پر نہیں بلکہ مستقبل میں کورونا ہی کی طرح کی کسی وبا کی پیش گوئی پر مبنی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس ڈراما سیریز پر لوگوں‌کی مختلف رائے کا اظہار سامنے آیا ہے بعض افراد  نے فلم پر تنقید کی ہے تاہم دوسری جانب کچھ نے اس کوشش کو سراہا بھی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ رواں برس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ اداکار اسٹیون سودربرگ کی 2011 کی تھرلر فلم 'کونٹیجن' میں وبا کے پھیلنے والے حالات دکھائے گئے تھے جو دنیا میں حال ہی میں پیش آنے والی صورتحال سے ملتے جلتے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121742"&gt;کورونا وائرس سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں برس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اس فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تھا جو کہ ایک افسانوی عالمگیر وبا سے متعلق ہے جس سے دنیا بھر میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم میں دکھایا گیا تھا کہ ایم ای وی 1 ایک حیوانی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی، جیسا ابھی کورونا وائرس کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e344eef182c4.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e344eef182c4.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e344eef182c4.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e344eef182c4.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح کے موضوعات پر مبنی 2 فلمیں کافی نمایاں ہیں جن میں سے ایک 1995 کی 12 منکیز ہے، جو ایک سائنس فکشن فلم ہے جس میں ٹائم ٹریول کے ذریعے پلیگ وائرس کی روک تھام دکھائی گئی ہے جو بیشتر انسانوں کا خاتمہ کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری فلم آﺅٹ بریک تھی جس میں ہوا میں موجود وائرس افریقہ سے امریکا اسمگل ہوکر پہنچتا ہے اور اس کو پھیلنے کے لیے سائنسدان وقت کے خلاف جنگ لڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ستمبر میں دنیا بھر میں کورونا کے پھیلاؤ کے بعد آغاز میں ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں '76 ڈیز' کے عنوان سے بنائی گئی فلم کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فلم کا نام چین کے شہر اور کورونا وائرس کے مرکز ووہان میں 76 تک جاری رہنے والے لاک ڈاؤن پر رکھا گیا تھا جو وبا کے اصلی مرکز سے تھیٹر میں پیش کی جانے والی پہلی بڑی دستاویزی فلم بھی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6350b2c2cff.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6350b2c2cff.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6350b2c2cff.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6350b2c2cff.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث کئی ممالک میں پھر سے پابندیوں کا نفاذ کیا جارہا ہے اور اسی دوران مصر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری نے کورونا وائرس پر ڈراما سیریز بنانے کا اعلان کردیا ہے۔</p>

<p>العریبیہ کی <a href="https://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2020/11/16/-%D9%83%D9%88%D9%88%D9%8A%DA%88-25-%D9%85%D8%B5%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%86%DA%88%D8%B3%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D9%88%D8%B6%D9%88%D8%B9%D8%8C-%DA%88%D8%B1%D8%A7%D9%85%DB%81-%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مصری اداکار یوسف الشریف نے ایک نئی ڈراما سیریز کی شوٹنگ کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ </p>

<p>انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس پر مبنی اس سیریز کا نام 'کووڈ-25'  رکھا ہے۔</p>

<p>مصر میں بنائے جانے والے اس ڈرامے کی کہانی مصنفہ انجی علا نے تحریر کی ہے جبکہ احمد نادر جلال پروڈکشن کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142265">کورونا وائرس کے مرکز ووہان پر بنی فلم '76 ڈیز' نمائش کے لیے پیش</a></strong></p>

<p>یہ ڈراما آئندہ ماہ ریلیز کیا جائے گا اور اس کی پروڈکشن کے لیے 'سیزجی' نامی کمپنی کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔</p>

<p>ڈراما سیریز کے جاری کردہ پوسٹر میں اداکار یوسف الشریق کے جسم کا بالائی حصہ نظر آرہا ہے جبکہ ان کے علاوہ 3 افرا کو بھی دکھایا گیا ہے۔ </p>

<p>پوسٹر میں موجود ان 3 افراد نے وبا سے بچاؤ کے لیے پرسنل پروٹیکٹو ایکوئمپنٹ (پی پی ایز) پہنی ہوئی ہے۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb520f7949f0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fb520f7949f0.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb520f7949f0.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fb520f7949f0.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash;فوٹو:العریبیہ" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو:العریبیہ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس کے ساتھ ہی پوسٹر پر لکھا ہے کہ 'Don’t Look.. Its Coming' یعنی ' نہ دیکھیں، یہ آرہا' ہے جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ ڈراما سیریز دنیا میں جاری عالمی وبا پر نہیں بلکہ مستقبل میں کورونا ہی کی طرح کی کسی وبا کی پیش گوئی پر مبنی ہے۔ </p>

<p>رپورٹ کے مطابق اس ڈراما سیریز پر لوگوں‌کی مختلف رائے کا اظہار سامنے آیا ہے بعض افراد  نے فلم پر تنقید کی ہے تاہم دوسری جانب کچھ نے اس کوشش کو سراہا بھی ہے۔ </p>

<p>خیال رہے کہ رواں برس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ اداکار اسٹیون سودربرگ کی 2011 کی تھرلر فلم 'کونٹیجن' میں وبا کے پھیلنے والے حالات دکھائے گئے تھے جو دنیا میں حال ہی میں پیش آنے والی صورتحال سے ملتے جلتے تھے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121742">کورونا وائرس سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ</a></strong></p>

<p>رواں برس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اس فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تھا جو کہ ایک افسانوی عالمگیر وبا سے متعلق ہے جس سے دنیا بھر میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔</p>

<p>فلم میں دکھایا گیا تھا کہ ایم ای وی 1 ایک حیوانی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی، جیسا ابھی کورونا وائرس کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e344eef182c4.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e344eef182c4.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e344eef182c4.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e344eef182c4.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash;اسکرین شاٹ" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسی طرح کے موضوعات پر مبنی 2 فلمیں کافی نمایاں ہیں جن میں سے ایک 1995 کی 12 منکیز ہے، جو ایک سائنس فکشن فلم ہے جس میں ٹائم ٹریول کے ذریعے پلیگ وائرس کی روک تھام دکھائی گئی ہے جو بیشتر انسانوں کا خاتمہ کردیتا ہے۔</p>

<p>دوسری فلم آﺅٹ بریک تھی جس میں ہوا میں موجود وائرس افریقہ سے امریکا اسمگل ہوکر پہنچتا ہے اور اس کو پھیلنے کے لیے سائنسدان وقت کے خلاف جنگ لڑتے ہیں۔</p>

<p>علاوہ ازیں ستمبر میں دنیا بھر میں کورونا کے پھیلاؤ کے بعد آغاز میں ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں '76 ڈیز' کے عنوان سے بنائی گئی فلم کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔</p>

<p>اس فلم کا نام چین کے شہر اور کورونا وائرس کے مرکز ووہان میں 76 تک جاری رہنے والے لاک ڈاؤن پر رکھا گیا تھا جو وبا کے اصلی مرکز سے تھیٹر میں پیش کی جانے والی پہلی بڑی دستاویزی فلم بھی تھی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6350b2c2cff.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6350b2c2cff.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6350b2c2cff.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6350b2c2cff.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1147021</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Nov 2020 20:17:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb52073e78c0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fb52073e78c0.jpg"/>
        <media:title>اس ڈرامے کی کہانی مصنفہ انجی علا نے تحریر کی ہے—فوٹو:العریبیہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
